آہ!جمہوریت تو رہی پر اسکی روح باقی نہ رہی۔ ازقلم: امام علی مقصود شیخ فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔
26 جنوری کی تاریخ ہندوستان میں نہایت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس دن برطانوی ایکٹ کو منسوخ کر کے ہندوستانیوں کے بناے ہوئے دستور کو نافذ کیا گیا۔ یہی وہ دن ہے جس دن پورے ملک میں شاندار تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، دہلی میں یہ تقریب راج پتھ پر منعقد کی جاتی ہے، جس میں صدر جمہوریہ ہند بنفس نفیس شرکت کرتے ہیں اور انکے ساتھ کوئی غیر ملکی شخصیت بھی مہمان خصوصی کے طور پر اس میں شرکت کرتی ہے،
وزیر اعظم سمیت حکومت کے تمام وزراء، ممبران پارلیمنٹ، غیر ملکی سفارت کار اور بے شمار اہم شخصیات اس تقریب میں شرکت کرتے ہے، علاوہ ازیں تینوں افواج کے منتخب دستے صدرِ جمہوریہ کو اپنے اپنے انداز میں سلامی پیش کرتے ہیں۔
غرض یہ کہ یہ ایک یاد گار تقریب ہوتی ہے، جسے ہر سال 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اور اس گھڑی کو یاد کیا جاتا ہے جب ہندوستانیوں نے برطانوی حکومت کی چنگل سے آزادی کو اپناتے ہوئے خود کے دستور کو نافذ کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔
اور اس دن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ آج سے تقریباً ستر سال پہلے آج ہی تاریخ یعنی 26/جنوری، 1950ء کو اس ملک کا دستور نافذ کیا گیا تھا، اور یہ دستور کیبینیٹ مشن پلان 1946ء کے تحت وجود میں آیا، آئین ساز اسمبلی کے ذریعے اسے بنایا گیا، اس آئین کو وضع کرنے سے نافذ کرنے کے تک تین سال کا وقت اور ایک کروڑ روپیہ صرف ہوا تھا۔
قارئین! یہی وہ آئین ہے جس کی بنیاد انصاف اور مساوات پر قائم ہے، یہی وہ آئین ہے جس کے ابتدا میں یہ کہا گیا ہے کہ اس آئین کی رو سے ہندوستان خود کو آزاد، سماج وادی اور جمہوری ملک قرار دیتا ہے۔
اور اس جمہوری ملک میں تمام ہندوستانی شہریوں کو معاشی، سماجی، اور سیاسی حق حاصل ہے۔اور یہی وہ جمہوری ملک ہے جس کی آئین کے مطابق تمام شہریوں کو اظہار خیال کی آزادی، عقیدہ ، مذہب اور عبادت کی آزادی حاصل ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس! آج جمہوریت تو رہی پر اس کی روح باقی نہ رہی۔
کیونکہ ہر شہری کو اپنے خیالات ظاہر کرنے کی اجازت ہے، اگر کسی شہر کے ذہن میں حکومت کے تعلق سے یا کسی پارٹی کے تعلق سے یا کسی عام آدمی کے تعلق سے کو خیال ہے تو اسے اس جمہوری ملک کا آئین اسے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو ظاہر کرسکتا ہے۔
اسی طرح اس جمہوری ملک کا آئین ہر شہری کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہندوستانی سیاست میں حصہ لے۔ اسی طرح ہر شہری کو آئین ہند اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ، وہ پنے مذہب پر برقرار رہے، یا اسے جو مذہب درست لگے اسے اختیار کرے، خواہ وہ ہندو ہو یا مسلم، سکھ ہو یا عیسائی، جین ہو یا بدھ، گویا کہ ہر ایک شہری کو اس جمہوری ملک کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کو اختیار کرے۔
اسی طرح اس جمہوری ملک کا آئین ہر شہری کو اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ کھل کر اپنے مذہب کی دعوت و تبلیغ کرے، اور اپنے عبادات میں مشغول رہے۔لیکن افسوس صد افسوس آج جمہوریت تو رہی پر اس کی روح باقی نہ رہی۔
کیونکہ آج گھر واپسی جیسے نعرے لگائے جارہے ہیں، لوجہاد جیسا کالا قانون لایا جارہاہے، جے شری رام کے نام پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہاہے، دوسرے کے مذہب میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، کبھی طلاق ثلاثہ کے خلاف آواز اٹھایا جارہا ہے،
تو کبھی لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے سے منع کیا جارہا ہے، کبھی پرے کے خلاف کوئی قانون لایا جارہا ہے تو کبھی مدارس و مکاتب کو نشانہ بنایا جارہاہے۔جوکہ سراسر اس جمہوری ملک کے آئین کے خلاف ہے۔
قارئین! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، اور جمہوریت کا مطلب اگر الیکشن ہے تو واقعی اس ملک کا کوئی ثانی نہیں، اس ملک کے کروڑوں لوگ ووٹ کی طاقت سے لیس ہیں، اور وہ اپنی اس طاقت کے ذریعے کسی بھی سیاسی جماعت کو فتح و شکست سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
لیکن الیکشن سے اگر ہٹ کر دیکھیں تو اس ملک میں اب جمہوریت کا لفظ بے معنیٰ سا نظر آرہا ہے۔ہمارے بزرگوں نے آزادی سے جمہوریت تک کا مشکل بھرا سفر صرف اور صرف اس لیۓ کیا تھا کہ اس ملک میں امن و سکون ہوگا، کسی کے ساتھ تفریق نہیں کیا جاے گا، ہر شخص کو انکے مکمل حقوق سے نوازا جائے گا،
ہر شخص کو ترقی کا موقع فراہم کیا جائے گا، مذہب کے نام پر قتل و غارتگری نہیں ہوگی، کسان مزدور اور ہنر مند سب خوش حال ہونگے، ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہوگا، عورتوں کو بھی مردوں کے مساوی حقوق دئیے جائیں گے، اور ان کو عزت و احترام سے نوازا جائے گا۔لیکن افسوس صد افسوس! آج جمہوریت تو رہی پر اس کی روح باقی نہ رہی۔
آج مذہب کے نام پر قتل وغارت گری کا ننگا ناچ ہو رہا ہے، مذہب کے نامپر کبھی پہلو خان کو مارا جارہا ہے تو کبھی جنید خان کو مارا جارہا ہے، کبھی اخلاق کو اسکا شکار بنایا جارہا ہے تو کبھی اصغر کو اس کا شکار بنایا جارہا ہے۔
قارئین! 26 جنوری کو جو دستور نافذ ہوا اس میں یہاں کے ہر شہری کو بنیادی حقوق دیے گئے ہیں، جیسے آزادی اور مساوات کے حقوق۔اور یہ دونوں لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے بڑی وسعت رکھتے ہیں، کیونکہ آزادی میں ہر طرح کی آزادی شامل ہے، جیسے رہنے کی آزادی، کمانے کی آزادی، اور کھانے پینے کی آزادی، سماجی اور معاشی آزادی، مذہبی اور ثقافتی آزادی۔یہی حال مساوات کا بھی ہے، یہ بھی اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بڑا وسیع ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ باشندگان ملک کو ہر معاملے میں مساوات اور برابری کا حق حاصل ہے۔
لیکن افسوس ہے اس ملک کے جدید معماروں پر، کہ انہوں نے اپنی بد نیتی سے اور تخت حاصل کرنے کی لالچ میں، اور اپنے حقیر مقاصد کے خاطر اس جمہوری ملک کے دستور کو برباد کر کے رکھ دیا، آج ہمارا ملک جن حالات سے گزر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، کہ وہ کس طرح ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں، کتنے دنوں سے کسان مارے مارے پھر رہے ہیں،
لیکن حکومت انکی کوئی سنوائی نہیں کر رہی ہے، اور آج تک وہ وہیں کہ وہیں بیٹھے ہوئے ہیں،جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جمہوریت کا لحاظ رکھتے ہوئے انکی باتوں کو تسلیم کر لیا جاتا اور کالے قانون کو واپس کردیا جاتا، لیکن نہیں۔
ارے جن کسانوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر کے تمہیں اور تمہاری اولاد کو پالا، آج تم اسی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے؟ اور انھیں گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا، وہ بیچارے مہینوں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، پر آپ ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں؟
ارے تخت نشینوں کم از کم 26 جنوری کا لحاظ رکھ لیتے، اور ذار تم غور کرو کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے کیوں باہر کیا گیا تھا ؟ کیا اس لئے آزاد کرایا تھا کہ وہ تمہاری غلامی کریں؟ ذرا مہاتما گاندھی اور امبیڈکر کی کاوشوں کو یاد کرو، ذرا غور کرو مولانا آزاد اور مولانا قاسم نانوتوی کی محنتوں کو، کہ انہوں کہ کس طرح انگریزوں کے ہاتھوں سے اس ملک کو آزاد کرایا تھا؟
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اور اپنےمن میں ڈوب کر یہ سوچو کہ آخر ہمارے بزرگوں نے اتنا سب کچھ کیوں کیا تھا اس ملک کے لئے، کیوں اپنی جانیں گنوا بیٹھی تھی اس ملک کے خاطر، تو یقین جانو آپ کا دل تڑپ اٹھے گا اور یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گا کہ یقیناً انکا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ مستقبل میں ہماری نسلیں محفوظ رہیں گی،
انکے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جاے گا، انہیں مذہب کے نام پر نہیں تولا جائے گا، بلکہ ہر ایک کو مساوی حق دیا جائے گا ، ہر ایک کو اسکا پورا حق ادا کیا جائے گا، لیکن اف ہے اس حکومت پر جو اپنے گندے مفاد کے خاطر آئین کو پاش پاش کر رہی ہے، اور جمہوریت کا جنازہ نکال رہی ہے۔
یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر،
کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں۔



