سیاسی و مذہبی مضامین

اب مجھے تھوڑی سی غفلت سے بھی ڈر لگتا ہے,محمد مصطفی علی سروری

محمد مصطفی علی سروری

یہ 29؍ اپریل 2017ء کی بات ہے جب بابو رائو نام کے ایک شخص نے مادھوپور پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی۔ بابو رائو کا تعلق اصلاً وشاکھا پٹنم، آندھرا پردیش سے تھا۔ ان کا ایک لڑکا جس کا نام وی پرشانت ہے لاپتہ ہوگیا تھا۔ بابو رائو نے شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقے سائبر آباد کے حدود میں واقع مادھوپور میں واقع مادھوپور میں واقع پولیس اسٹیشن میں اسی بات کی شکایت کی کہ ان کا نوجوان لڑکا جو کہ آئی ٹی پروفیشنل تھا۔ اچانک لاپتہ ہوگیا ہے۔ 

قارئین یہ وہی پرشانت ہے جس کے متعلق سائبر آباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے منگل 2؍ جون کو ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور تقریباً چار سال لاپتہ رہنے والے پرشانت نامی نوجوان کو میڈیا کے روبرو پیش کیا۔

قارئین پرشانت نے چار برس کہاں گذارے اور یہ طویل عرصہ کیسے گذرا اس سارے واقعہ کی تفصیلات نوجوان نسل کے لیے اور والدین و سرپرستوں کے لیے بہت سیکھنے کا سامان فراہم کرتی ہے کہ بچوں کی تربیت میں ذرا سی چوک ہوجائے تو یہ چوک اور غفلت کس قدر مہنگی پڑسکتی ہے۔

یہ 11؍ اپریل 2017ء کی بات ہے جب وی پرشانت اچانک اپنے گھر یس لاپتہ ہوگیا۔ گھر والوں نے انتظار کیا شائد کہیں اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا ہو۔ دن گذرتے تھے اور دیکھتے دیکھتے 18 دن گذر گئے۔ لیکن نہ تو پرشانت کا فون ہی آیا اور نہ ہی کوئی اطلاع آئی۔ تب پریشانی کے عالم میں پرشانت کے والد بابو رائو نے مادھو پور پولیس کے ہاں اپنے لڑکے کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی۔

یہ تو پرشانت کے والدین ہی جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے تقریباً چار برسوں کا یہ طویل عرصہ کیسے گذرا لیکن جب 2؍ جون 2021ء کو سائبر آباد پولیس کی پریس کانفرنس میں پرشانت کو سننے کا موقع ملا تب میڈیا کے نمائندوں کو پتہ چلا کہ آج کی نوجوان نسل کس قدر بڑوں کی توجہ کی مستحق ہے۔ آئی ٹی پروفیشنل بننے کے بعد لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کی طرح پرشانت کی بھی ایک لڑکی سے آن لائن دوستی ہوگئی۔ سوشیل میڈیا پر پرشانت کی جس لڑکی سے دوستی ہوئی اس لڑکی کا تعلق یوروپ کے خوبصورت ترین ملک سوئزرلینڈ سے تھا۔

آن لائن دوستی جب پکی ہوگئی تو پرشانت نے خواب دیکھنا شروع کردیا کہ اب وہ اس لڑکی کے ساتھ شادی کر کے خوشگوار زندگی گذارے گا اور اتفاق سے سوئزرلینڈ کی جس لڑکی سے پرشانت شادی کرنا چاہتا تھا اس کے ماں باپ ہندوستان میں تھے۔ تب اس نے بڑی سعادت مندی اور بہت ساری امیدوں کے ساتھ اس کے ماں باپ سے ملاقات کی اور پھر ان کی لڑکی کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی لیکن پرشانت کے رشتے کو ان لوگوں نے ٹھکرادیا۔

بس کیا تھا پرشانت نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ لڑکی کے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرے گالیکن پرشانت تو انڈیا میں تھا اور اس کی محبوبہ سوئزرلینڈ میں۔ بس کیا تھا پرشانت نے طئے کیا کہ وہ خود سوئزرلینڈ جائے گا۔ قارئین اب ذرا غور سے پڑھئے گا کہ کیسے سنی سنائی باتیں اور غلط محبت اچھے اچھے نوجوانوں کی زندگی کو خراب کردیتی ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پرشانت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں تھے کہ وہ بذریعہ طیارہ سوئزر لینڈ جاسکے۔

کسی نے اس کو بتادیا کہ اگر ہندوستان سے بھی پیدل سفر کیا جائے تو اخبار انڈین ایکسپریس میں 3؍ جون کو شائع خبر کے مطابق 61دن کے بعد سوئزر لینڈ پہنچا جاسکتا ہے۔اب ذرا سونچئے کہ ایک آئی ٹی کا پروفیشنل نوجوان پہلے تو سوشیل میڈیا پر ایک لڑکی سے دوستی کرتا ہے پھر اس سے شادی کرنے کے لیے لڑکی کے والدین سے ملتا ہے۔

والدین کے انکار کرنے کے بعد بھی خود سوئزر لینڈ جاکر لڑکی سے شادی کرنے کا منصوبہ بناتا ہے اور جب کوئی اس کو بتادیتے ہیں کہ اگر وہ پیدل ہی یوروپ کا سفر کرے تو 61 دن میں سوئزر لینڈ پہنچ سکتا ہے۔ بس کیا تھا پرشانت کی جب حیدرآباد پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کروائی جارہی تھی عین اسی وقت پرشانت اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پیدل سفر کی شروعات کر رہا تھا۔

گھر سے نکل کر 11؍ اپریل 2017ء کو پرشانت بیکانیر راجستھان جانے والی ٹرین میں سوار ہوگیا اور پھر وہاں سے وہ ہند – پاک بارڈر پہنچ گیا اور پھر کسی فلمی ہیرو کی طرح سرحد پر لگی باڑھ کو پھاند کر پاکستان میں چلا گیا جہاں آگے جاکر پاکستانی اہلکاروں نے اس کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی پاداش میں گرفتار کرلیا اور پھر اگلے چار برسوں تک وہ پاکستانی جیلوں میں قید رہا اور 31؍ مئی 2021ء کو اسے اٹاری سرحد پر ہندوستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

قارئین اخبار انڈین ایکسپریس نے پرشانت کے حوالے سے لکھا کہ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پرشانت نے کہا کہ اس کو گھر چھوڑ کر سوئزرلینڈ جانے کے بارے میں ماں کا مشورہ مان لینا چاہیے تھا جو اس کو اس طرح کی کسی حرکت سے منع کر رہی تھی۔

قارئین ان ساری تکالیف کے باوجود پرشانت کی خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ صرف چار برس کی قید و بند کے بعد بحفاظت اپنے وطن اپنے والدین کے پاس آسکا ورنہ معلوم نہیں ایسے کتنے بدقسمت نوجوان ہیں جو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام کے تحت پاکستانی جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

سوئزر لینڈ کی لڑکی سے شادی تو نہیں ہوسکی ہاں چار سال کی قید کی سزا مل گئی۔ زندگی بہتر تو نہیں بن سکی مگر جو کچھ تھا وہ بھی وہ لٹا تب کہیں جاکر احساس ہواکہ ماں سچ ہی کہتی تھی کہ بیٹا تو اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہ جا۔

پرشانت کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے۔ آیئے اب ان دو نوجوانوں کی بات کرتے ہیں جن کا تعلق ریاست تلنگانہ سے ہی ہے۔

مئی 2021ء کے اواخر کی بات ہے، شہر حیدرآباد میں لاک ڈائون نافذ تھا اور صرف اشیاء ضروریہ کی خریدی کے لیے صبح 6 بجے تا 10 بجے چار گھنٹوں کی چھوٹ تھی۔ لیکن دو نوجوان ایکٹیوا گاڑی پر گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کے گھر والوں نے ان کو منع کیا ہو لیکن آج کی نوجوان نسل کہاں گھر والوں کی سنتی ہے۔

یہ دونوں نوجوان بغیر ہیلمٹ کے اپنے چہروں پر صرف ماسک لگائے بغیر ضرورت کے Adventure کے لیے گھر سے باہر سڑکوں پر گھومنے کے لیے نکلتے ہیں۔ اچانک ان دونوں کو سامنے پولیس چیک پوسٹ نظر آتا ہے ۔ خود اعتمادی اتنی کہ یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس بھی ان لوگوں کو نہیں روک سکتی۔ گاڑی جب پولیس کی جانب سے کھڑی کردہ رکاوٹوں کے پاس پہنچی تو ان لوگوں نے سونچا کہ ان کو دیکھتے ہی پولیس والے بازو ہٹ کر ان کے لیے راستہ دیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ان لوگوں نے گاڑی کی رفتار بھی کم نہیں کی اور نہ ہی پولیس والوں نے ان کے لیے راستہ صاف کیا۔ پولیس کا جوان بدستور ویسے ہی کھڑا رہااور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ایکٹیوا گاڑی پر سوار دو نوجوان تیزی کے ساتھ اپنی گاڑی سے پولیس کے ایک جوان کو ٹکر مار دیتے ہیں اور پولیس کا جوان بھی سڑک پر گرجاتا ہے۔ اس کے پیر کو مار لگتی ہے اور یہ دونوں نوجوان بھی سڑک پر دوسری جانب گرجاتے ہیں اور ان کی گاڑی بھی گرجاتی ہے۔

اب لاک ڈائون کے دوران غیر ضروری باہر نکلنے، پولیس کے جوان کو ڈیوٹی کے دوران دانستہ طور پر زخمی کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے یہ نوجوان پولیس اسٹیشن کے حوالات میں پہنچ گئے۔ ان کے گھر والوں کو پولیس اسٹیشن کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں اور لاک ڈائون میں Adventure اور دوستوں کے ساتھ گھومنے کا شوق نے ان نوجوانوں اور ان کے گھر والوں کو ایک مصیبت میں ڈال دیا ہے۔

قارئین کرام یقینا برے حالات اور مصیبتیں بول کر نہیں آتی۔ دوسروں کے واقعات اور حالات دراصل ہمیں ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم اپنا اور اپنے چاہنے والوں کا جائزہ لیں اور غور کریں کہ کیا ہم اپنے بچوں کی تربیت کا صحیح سامان کر رہے ہیں یا نہیں۔

پرشانت کی مثال سامنے ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسائل سبھی کو درپیش ہیں۔ بچوں کی تربیت بڑا چیالنج ہے۔ کیا ہم لوگ اس طرح کے چیالنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

توازن سب سے بڑی ضرورت ہے۔ توازن بحیثیت مسلمان دینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی تیاری کرنا ہے اور ساتھ جو عصری چیالنجس ہیں ان کا سامنا کیسے کریں اس کی بھی تیاری ضروری ہے۔ 

بچوں کی جہاں دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کرنا ہے وہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ عصری تعلیم سے بھی وہ بے بہرہ نہ رہیں۔ اچھے مدارس، بہترین اساتذہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ہمارے بچوں کو دین اسلام پر عمل کرنا سکھائیں۔

ہم کو خود دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کر کے اپنے بچوں کو دین کی عملی تفسیر کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ عصری تعلیم کے لیے بڑے بڑے اسکولس، کالجس میں داخلہ دلوانے کے ساتھ ساتھ ان پر نگرانی کا معمول ضروری ہے۔

ورنہ ہمارے نوجوانوں کو ماحول خراب محبت اور سوشیل میڈیا ، ہر قدم پر صراط مستقیم سے بھٹکانے کے لیے شیطان تو ہر دم تیار بیٹھا ہے۔

یہودیوں پر اسلام، دشمن طاقتوں پر الزام تو بعد میں لگے گا ذرا غور کیجئے گا کہ ہم نے خود کس قدر دور حاضر کے طوفان کا سامنے کرنے کی تیاری کی ہے۔ کیونکہ نکاح تو سنت ہے اور نکاح کے بعد اولاد کی شکل میں ملنے والی نعمت کی تربیت فرض ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے؟ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں فرائض اور سنتوں ہر دو کی اہمیت کو سمجھنے والا بنادے۔ آمین یارب العالمین۔

بقول شاعر

اب مجھے تھوڑی سی غفلت سے بھی ڈر لگتا ہے

آنکھ لگتی ہے کہ دیوار سے سر لگتا ہے

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button