سیاسی و مذہبی مضامین

اظہار فکر ” لڑکی والوں کی دعوت-جہیز-سونا و جوڑے کی رقم سے پرہیز ایک سبق آموز اقدام”‎

اظہار فکر……. ” لڑکی والوں کی دعوت-جہیز-سونا و جوڑے کی رقم سے پرہیز ایک سبق آموز اقدام”

دعوت-جہیز-سونا و جوڑے کی رقم سے پرہیز
ایس. ایم. عارف حسین

 میرے  ایک رفیق  جو رسالہ- زمستان پور کے ساکن ہیں حال ہی میں اپنے لڑکے کی سادگی پر منحصر  دعوت ولیمہ  میں ناچیز کو مدعو کرتے ہوے شادی کی تفصیلات کا تذکرہ کیا وہ اس مقصد سے کہ موجودہ دور میں مسلم امت اور شادیاں کس امر کا مطالبہ کررہی ہیں.  یہ صرف زبانی بیان بازی یا تقاریر سے پورا نہیں ہو سکتیں بلکہ بولنے والا از خود اس پر عمل پیرہ ہونا لازمی ہے. 

     ایک تو میرے یہ دوست اپنے فرزند کے نکاح کے موقع پر دعوت نامہ   سادہ کاغذ پر چھپواکر اسکو ایک سادہ لفافہ میں رکھکر اپنے اقرباء میں تقسیم کیا جسکی مجموعی قیمت ایک روپیہ سے زیادہ نہیں جبکہ آجکل زمانہ ایک سو سے دیڑھ سو تک چھپوانے کو شان تصور کررہا ہے.ساتھ ہی ساتھ موصوف نے خاصکر لڑکی والوں کی جانب سے طعام کی دعوت کو قبول نہیں کیا.

   دوسرا یہ کہ لڑکی والوں یعنی ماں باپ کو لڑکی کو ایک ماسہ بھی سونا دینے سے پرہیز کروایا.

    تیسرا شادی کے دن  لڑکی کیلیے جو جوڑا یا دلہن کا لباس خریدا جاتا ہے وہ ایسی کم یا اوسط قیمت کا خریدی کروایا جو عام زندگی میں استعمال کیا جاسکے ناکہ صرف نکاح کے وقت ہی پہننے کے لایق ہو جبکہ آجکل کم از کم پچیس ہزار سے ایک لاکھ تک کا جوڑا خریدی کرنیکا رواج بن چکا ہے.  
   چوتھا اہم پہلو یہ کہ مہر کی اچھی خاصی رقم مقرر کی گئ اور وہ بھی نقد اداکی گئ.اتنا ہی نہیں بلکہ اس رقم کو جسپر لڑکی کا حق ہوتا ہے ایک جماعت کے فنڈ میں بطور امانت جمع کروایا جو بلاسود کی بنیاد پر کاروباری قرض اجراء کرتی ہے بجاے کسی بینک میں ڈپازٹ کرورانیکے تاکہ بینک کے سودی کاروبار سے پرہیز کیا جاسکے اور رقم بھی محفوظ رہے.
   پانچواں پہلو یہ کہ ولیمہ تقریب جس میں ناچیز کو بھی مدعو کیا گیا مختصر انداز میں اپنے ہی گھر پر منعقد کی تاکہ اسراف سے بچا جاسکے اور سنت کی بھی تکمیل ہو جبکہ موجودہ دور میں ملت کے افراد بڑے سے بڑے شادی خانوں کے انتخاب  اور بیس تس  پچیس قسم کے پکوان کرنے کو باعث فخر محسوس کررہے ہیں.  
     مذکورہ بالا تمام امور کی قبولیت اور تکمیل میں جہاں لڑکے کے والد محترم یعنی میرے رفیق نے پہل کی وہیں ان باتوں کو نوشہ کے ساتھ ساتھ نوشہ کی والدہ محترمہ اور دیگر رشتہداروں نے بھی مکمل ساتھ دیا.  یہاں  لڑکی کے والدین اور انکے رشتہداروں کا ذکر بھی لازمی ہوجاتا ہے جنہوں نے لڑکے کے والدین کی منشاء اور خواہش کے مطابق اپنی لخت جگر کی شادی کی تقریب سادہ طور پر  منعقد کی اگرچیکہ زمانہ کی موجودہ روش اور چلن کے مطابق بہت کچھ خرچ کرنے اور دکھاوا کرنیکی طاقت رکھتے ہیں. 
     ناچیز کی کمزور سونچ میں یہ تمام امور دور حاضر میں ایک "مجاہدہ” سے کم نہیں چیونکہ آجکل ملت کا ہر فرد اسراف اور دنیا والوں کو خوش کرنے اور اپنی عارضی و جھوٹی تعریف سننے کا خواہش مند ہے چاہے معاشی طور پر کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو.
اسطرح کا عمل ایک جانب مجاہدہ سے کم نہیں تو دوسری جانب خاصکر ملت اسلامیہ کی سماجی و اجتماعی آنکھ کھولنے میں ضرور معاون ثابت ہوگا. اللہ انکے اس عمل کو قبول فرماے. ناچیز کی کمزور فکر میں "کسی بھی نیک کام کی شروعات اگرچیکہ مقابل سے صرف ایک ہی فرد مثبت طور پر متاثر ہو یا اسپر عمل پیرا ہو تو وہ کام یا تحریک صد فیصد کامیاب ہے”  زمانہ اس سونچ کو قبول کرے یا نہ کرے. 
  اللہ تعالی سے دعا ہیکہ مزکورہ بالا تمام افراد کے اس مجاہدہ کو شرف قبولیت سے ہمکنار کرے اور ساتھ ہی ساتھ ملت کو اسراف خرچ سے اجتناب کرنے اور شعبیدہ بازی سے دور رہنے اور صرف بیان بازی و تقاریر کے بجاے عملی اقدامات کرنیکی توفیق دے. آمین. 

منجانب: – ایس. ایم. عارف حسین. اعزازی خادم تعلیمات. مشیرآباد. حیدرآباد

متعلقہ خبریں

Back to top button