یوگیندر یادو
تاریکی کے اس دور میں ہمیں روشنی کی سخت ضرورت تھی اور بالآخر ہم ہندوستانیوں کو ایک موقع مل گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ہم اس موقع کا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی عقل و دانشمندی سے یہ موقع ملا ہے اور اس موقع سے ہمیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے تب اس کام میں یقینا فائدہ ہوگا۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج جس میں ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی کو شاندار کامیابی اور وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہمارے لئے یقیناً تاریخی و یادگار لمحات ہیں۔ انتخابی سیاست کے حساب و کتاب کے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو یہ بہت کم ہی سننے میں آتا ہے کہ کسی چیف منسٹر نے مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو کسی بھی طرح معمولی یا نارمل انتخابات قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ اور بات ہے کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے بڑی چھلانگ لگائی ہے، صرف 3 ارکان اسمبلی سے اب اس کی تعداد 77 تک پہنچ گئی اور وہ اس بنیاد پر خاص طور پر ایک حقیقی اپوزیشن جماعت کا موقف حاصل کرنے کے نتیجہ میں جشن منانے کا حق بھی رکھتی ہے، لیکن اس قدر بڑی جست کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی یہ کامیابی کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے، اس لئے کہ مغربی بنگال میں حصول اقتدار کیلئے اس نے اپنی ساری قوت جھونک دی تھی، اس کے باوجود صرف 77 نشستوں پر محدود ہوجانا سخت ہزیمت کے سواء کچھ نہیں۔
اگر بنگال کے انتخابات کا جائزہ لیں تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی انتخابات نہیں تھے۔ یہ ایسے انتخابات تھے جسے ہم حالیہ عرصہ کے دوران ایک بہت بڑی سیاسی لڑائی کا نام دے سکتے ہیں۔ اگر بی جے پی بنگال فتح کرلیتی تو پھر سارے ملک میں اپنی برتری کو یقینی بنالیتی لیکن مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے بی جے پی کی پیش قدمی کو روک دیا اور اس کے خوابوں کو چکناچور کردیا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کو اقتدار سے بے دخل کردینے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی، دولت، میڈیا، تنظیمی مشین، نریندر مودی کو بھی ان انتخابات میں جھونک دیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس نے تمام اصول و قواعد کی دھجیاں بھی اڑا دیں۔
الیکشن کمیشن اور سکیورٹی فورسیس کی غیرجانبداری کو بھی اس مرتبہ داغدار بنا دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ کووڈ۔ 19 قواعد کو پوری طرح پامال کیا گیا۔ دوسری طرف ’’درباری میڈیا‘‘ نے بی جے پی کو کامیابی دلانے کیلئے وہ سب کچھ کیا جس کی اس سے توقع رکھی جاتی ہے۔ ان تمام کے باوجود بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ صرف شکست بلکہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم پہلے سے ہی کورونا وائرس کی پہلی وباء اور پھر ملک میں اچانک نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات سے باہر نکل نہیں پائے کہ دوسری لہر نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ ان دونوں مرحلوں کے درمیان ہم نے کسانوں کا تاریخی احتجاج بھی دیکھا اور کسانوں نے احتجاجی مظاہروں سے دستبرداری اختیار کرنے سے انکار کردیا۔ اس تناظر میں مغربی بنگال انتخابات کے نتائج مودی حکومت کی کمزوریوں کو منظر عام پر لارہے ہیں اور یہ ناکامی بی جے پی کے کٹر حامیوں اور بھکتوں کیلئے خواب ِ غفلت سے بیدار ہونے کا بہترین موقع ہے۔
کیرالا اور ٹاملناڈو کے جو انتخابی نتائج برآمد ہوئے ہیں، ان سے اپوزیشن کا موقف مستحکم ہوسکتا ہے لیکن بنگال اسمبلی انتخابات کا فیصلہ اس تسلسل توڑ سکتا ہے جو ہمارے ملک میں پچھلے سات برسوں سے جاری ہے۔ وہ تسلسل تباہی و بربادی کا تسلسل تھا۔ بنگال میں بی جے پی کی شرمناک شکست مودی کے عروج کے خاتمہ کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی کیونکہ یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم موجودہ حالات میں دستیاب مواقع سے کس طرح استفادہ کرتے ہیں۔
پہلے آپ یہ دیکھیں کہ آخر مغربی بنگال کا فیصلہ کیا ہے اور کیا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ فرقہ وارانہ سیاست کا اِسترداد نہیں ہے۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ حالات سے متنفر مسلم رائے دہندے بی جے پی کے خلاف حرکت میں آئے اور متحدہ طور پر سکیولر طاقتوں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ پھر بھی ہم اسے یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بمشکل سکیولر سیاست کی علامت ہے۔
ہم ان انتخابی نتائج کو کووڈ۔ 19 عالمی وباء اور قومی سطح پر کئے گئے لاک ڈاؤن کے دوران جس ناقص نظم کا مظاہرہ کیا گیا، اور دوسرے خامیوں سے پُر اقدامات کئے گئے، اس کیلئے مودی حکومت کے خلاف فیصلہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندوستان کی تاریخ کے بدترین صحت عامہ کے بدترین بحران کو سوائے کیرالا میں کہیں اور انتخابی موضوع نہیں بنایا گیا۔
اس سلسلے میں ہم نوٹ بندی کی مثال پیش کرسکتے ہیں۔ آج بھی لوگ اس کی تباہی و بربادی کے اثرات سے پوری طرح واقف نہیں۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ مودی حکومت نے جو اقتصادی پالیسیاں اختیار کی ہیں ، وہ اس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقع سے انہیں بہت ہی احتیاط سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور میانہ روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہئے۔
بنگال اور کیرالا کے نتائج وہاں کے وزرائے اعلیٰ کی عوامی مقبولیت ایک کلیدی عنصر رہی۔ اسے بہتر حکمرانی پر فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ ممتا بنرجی حکومت نے جو اقدامات کئے تھے، خاص طور پر عوامی اسکیموں کا انہیں فائدہ ضرور ہوا ہے اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور آسام میں بی جے پی کی کامیابی میں الیکشن مینجمنٹ کا اہم کردار رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو مغربی بنگال جیسی ریاست میں بی جے پی کی ناکامی سوائے کانگریس کے ہر کسی کیلئے موقع ہے۔ فی الوقت حقیقی فاتح ممتا بنرجی ہے یا پرشانت کشور، پنارائی وجیئن ہے یا بائیں بازو کی جماعتیں، ہیمنتا بسواس سرما ہے یا سربانندا سونووال اس طرح کے کئی دعوے کئے جاتے ہیں لیکن آج کی حقیقی شکست خوردہ انڈین نیشنل کانگریس کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔ آج تمام سیاسی جماعتوں کیلئے موقع ہے لیکن کانگریس کیلئے نہیں اور یہی حقیقت ہے۔ کانگریس نے کیرالا اور آسام کے ساتھ ساتھ پڈوچیری جیسی ریاستوں میں اقتدار پر واپسی کا شاندار موقع گنوا دیا ہے۔
کیرالا میں تو راہول گاندھی کے ایم پی منتخب ہونے کے بعد پہلے اسمبلی انتخابات تھے۔ آسام میں بھی سی اے اے کے خلاف زبردست احتجاجی لہر کے باوجود کانگریس نے بی جے پی کو اقتدار بحال رکھنے کی اجازت دی۔ پڈوچیری میں بھی اپنی کشتی ڈبو دی۔ مغربی بنگال میں تو وہ صفر رہی۔ موجودہ شکل میں ایسا لگتا ہے کہ کانگریس ، جمہوریت کی بحالی کی جنگ میں قیادت نہیں کرسکتی۔ جہاں تک اُترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کا سوال ہے،
اگر اُس ریاست میں نتائج مغربی بنگال کی طرح آتے ہیں تو یقینا اسے مودی حکمرانی کا اختتام سمجھا جائے گا۔ مودی کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن کانگریس یا پھر معمول کی اپوزیشن اتحاد کے ذریعہ اور مخالف مودی بیانات کے ذریعہ ، نہیں بلکہ ایک غیرمعمولی حکمت عملی کے ذریعہ مودی حکومت کے خامیوں کو خاص کر عوام دشمن پالیسیوں کو بہتر انداز میں پیش کرتے ہوئے اسے شکست دی جاسکتی ہے۔



