سیاسی و مذہبی مضامین

تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے مخالفین سے مزاحمت میں حرارتِ ایمانی تازہ,ڈاکٹر سراج الرحمن فاروقی

ڈاکٹر سراج الرحمن فاروقی

مملکت فلسطین پر قابض اسرائیل اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے، ایسے ناگہانی حالات سے وہ گزر رہا ہے جو اُس نے اپنی 73 سالہ قیام کے دور میں کبھی نہیں دیکھے۔ ایک طرف بنجامن نیتن یاہو کے 12 سالہ دور کا خاتمہ ، دوسرا اب جو نئی حکومت کا وزیراعظم نفتالی بینیٹ (Naftali Bennett) آٹھ مختلف جماعتوں کے مجموعہ والی جماعت کا نمائندہ ہوگا جس میں اس کو اسرائیلی عرب جماعت کی بھی حمایت حاصل کرنی پڑی۔

نہ صرف سیاسی غیراستحکام اس کا مقدر ہوگیا ہے بلکہ معاشی طور پر یہ اپنے آقا امریکہ کے رحم و کرم پر پڑا ہوا ہے۔ چونکہ ایک طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے 139 ووٹوں سے منظور ہوئی تو دوسری طرف امریکی سینیٹ میں نپئر نیسٹرسے بیرنی سانڈرس نے تالیوں کی گونج میں یہ معاملہ اُٹھایا کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی 3.8 بلین ڈالرس کی ملٹری امداد کے استعمال کی تفصیلات حاصل کی جانی چاہئے۔

انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ اگر ہم اسرائیل کو یہ امداد دے رہے ہیں تو اسرائیل پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ اسے غزہ (Gaza) کے لوگوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے پڑیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں جو تباہی مچائی گئی ہے، اس سال کی امداد غزہ کی ترقی کے لئے مختص کی جانی چاہئے تاکہ غزہ کے متاثرین ان پر کی گئی درندگی کے صدمہ سے باہر آئیں۔ بیرنی سانڈرس نے کہا کہ اسرائیل کو وہاں مکمل قیام امن کی ذمہ داری بھی نبھانی چاہئے، اور وہ فلسطینیوں کو حفاظت کا بھی ذمہ دار بنے، فلسطینیوں کے پورے حقوق دیئے جائیں، حقوق انسانیت کی پامالی نہ ہو،

اس لئے اسرائیل کو فلسطین کے ساتھ مل بیٹھ کر دوستانہ ماحول بنانا ہوگا، ورنہ یہ 3.8 بلین ڈالرس ڈالرس کی کثیر رقم پر روک لگائی جائے گی۔ اب جبکہ اسرائیل کی 11 روزہ وحشت ناک بمباری غزہ پر کی گئی اور بے قابو اسرائیل میں غزہ سے سینکڑوں میزائل داغے گئے تب اسرائیل حفاظتی سائرن بجانے لگا۔ آئرن ڈوم قدرے ناکارہ ہوا۔ ایرپورٹ بند کردیا گیا۔ اسرائیلی جو سمندری کنارے (Beach) پر عیاشی کرتے تھے جان بچانے تہہ خانوں میں چھپنے لگتے۔

اندرون خانہ جنگی ہونے لگی جب اسرائیل کو کچھ نہ سوجھا تو میڈیا اداروں کی عمارت جو اسرائیل کی بربادی اور بربریت بتا رہی تھی جس عمارت میں Al Jazeera، AFP اور AP کے دفاتر تھے، کو آناً فاناً میں زمین دوز کردیا گیا۔ یہ اس کی اپنی خودکشی کے مترادف بنا۔ الجزیرہ کے دلیر نمائندوں (خواتین بھی) نے مزید حقائق کو کو ساری دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے نتیجہ میں 70 سے زیادہ ممالک بشمول امریکہ، برطانیہ، فرانس وغیرہ میں بڑے پیمانے پر مخالف اسرائیل احتجاجی مظاہرے ہونے لگے۔

غزہ (حماس) کے معمولی میزائل کے سامنے اسرائیلی ہائی ٹیک جنگی ٹیکنالوجی کو جھکنا پڑا اور جنگ بندی کی کوشش میں مصر کو کامیابی ہوئی۔ اسرائیل کی نیند اس وقت اور حرام ہوگئی جب جنگ بندی کے فوری بعد القسام بریگیڈ کے رہنما یحییٰ سنوار نے ایک ولولہ انگیز ایمانی حرارت کو جگانے والا بیان دیا جس میں کمانڈر یحییٰ سنوارنے اسرائیل کو للکارتے ہوئے کہا۔ جنگ کی وجہ ماہ رمضان المبارک میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی روزہ داروں پر دراندازی تھی۔

چہار سو سے منہ کی کھانے کے باوجود اسرائیل ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مترادف شیخ جراح جو مسجد اقصیٰ سے متصل 30 گھروں والا علاقہ ہے جہاں سے عبادت کیلئے فلسطینی (مغربی کنارہ) مقیم عبادت کیلئے آتے جاتے ہیں۔ قبضے کی ناپاک کوششیں جنگ بندی کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے۔ علاقہ پر مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعہ اپنا قبضہ کرنے کیلئے دور دراز سے اسرائیلیوں کو لاکر بسایا جارہا ہے جس کی فلسطینی مجاہدین پر زور مزاحمت کررہے ہیں۔

اس حالیہ 11 روزہ جنگ نے ساری دنیا کو یہ بتادیا کہ فلسطین ہمیں درس دے رہا ہیکہ ہماری املاک تباہ کی جاسکتی ہے۔ ہماری معیشت کمزور کی جاسکتی ہے۔ ہمیں ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے بچوں کو شہید کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ماں باپ چھینے جاسکتے ہیں، ہماری اولاد یتیم، یسیر اور بیویاں بیوہ ہوسکتے ہیں۔ ہم پر جیل کی سلاخوں میں ظلم و زیادتی کی جاسکتی ہے، لیکن ہمارے ایمان و یقین کا سودا نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیل سے نہتے فلسطینی غلیل سے مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ دنیا کتنی بھی سازشیں چلتی ہو، دشمن کتنا بھی طاقتور ہو، ’’ایمان والا‘‘ پست ہمت بزدل نہیں، معمولی ہتھیارکے ذریعہ کیوں نہ ہو، مزاحمت کرتا ہوا دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہی ہمارے ایمان کی حرارت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی سے مدد الٰہی اور دشمن پر خوف و ہراس طاری ہوتا ہے، ورنہ تم مارے بھی جاؤگے اور ذلیل ہوجاؤگے۔

اسرائیلیوں سے مقابلہ آرائی ساری اُمت مسلمہ کو حالات کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے، مزاحمت حفاظت خود مختاری Self Defence، مقابلہ آرائی کا درس دے رہی ہے، ورنہ جان بھی جائے گی، دنیا بھی برباد گناہ بھی لازم والا معاملہ ہوگا۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

یہ حقیقت ہے کہ سارے عالم میں خاص کر ہندوستان میں وقفے وقفے سے کہیں نہ کہیں منصوبہ بند سازشوں کے ذریعہ اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی جانی و مالی تباہی کے واقعات ہم دیکھتے سنتے رہتے ہیں۔ پرامن جزیرہ لکشا دیپ اس کی تازہ مثال ہے جہاں پرافل پٹیل کے خلاف ہر گھر میں سیاہ جھنڈا لگاکر منظم احتجاج نے حکومت کی ناک میں دَم کردیا ہے۔

ان حالات میں ہمیں چپ رہنا، تماشائی بنے رہنا، کمزور ایمان کی علامت ہے۔ دستور ہند نے جو ہمیں حقوق دیئے ہیں، اس کے دائرۂ کار کو مدنظر رکھ کر مزاحمت کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں نہ صرف نشان ملامت بنائیں گی بلکہ ہم یوم آخرت رب العالمین کی عدالت میں جوابدہ ہوں گے۔ ہمیں اپنے اپنے پیشوں سے وابستہ رہتے ہوئے ان حالات کا مقابلہ کرنا، اُمت کی رہبری و رہنمائی کرنا اور دعوت دین حق کی محنت کو ہتھیار بنانا وقت کی ضرورت ہے جس سے ہند میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دشمنان اسلام کے خلاف محبت کی فضاء میں اُٹھ کھڑے ہوکر مزاحمت کی توفیق نصب فرمائے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو عام کرنے کی ہمت اور صلاحیت عطا فرما۔ (آمین)

کیا رمضان المبارک کا حق ادا ہوا؟ بلیک فنگس احتیاطی تدابیر,ڈاکٹر سراج الرحمن فاروقی

متعلقہ خبریں

Back to top button