’جئے شری رام‘ کا انداز بنگلہ تہذیب و ثقافت کے منافی،مغربی بنگال کی موجودہ سیاست کا محور’’جئے شری رام‘‘
’جئے شری رام‘ کا انداز بنگلہ تہذیب و ثقافت کے منافی
ترقیات، صحت، تعلیم، بے روزگاری کے بجائے فرقہ پرستی کے منشور سے اقتدار کے حصول کی کوشش۔
مغربی بنگال کی موجودہ سیاست کا محور’’جئے شری رام‘‘
محمد وجیہ الدین جمال
مغربی بنگال کے مجوزہ ریاستی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کی کلی توجہ بنگال پر ہے اور اس کے لئے بی جے پی طرح طرح کی حکمت عملی اپنارہی ہے اور ترنمول کانگریس کے لیڈروں کو یا تو سی بی آئی کا خوف دکھا کر یا ان کو ان کی پارٹی میں نظرانداز کئے جانے کی باتیں سمجھا کر اپنا ہمنوا بنانے میں سرگرداں ہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے 18 اراکین منتخب کئے گئے ہیں تو بی جے پی محسوس کررہی ہے کہ اگر کچھ محنت کی جائے تو ریاستی اسمبلی پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے پیش نظر بی جے پی طرح طرح کے حربے استعمال کررہی ہے۔ لیکن پورے ملک کی دوسری ریاستوں کے معاملے مغربی بنگال کا معاملہ کچھ دوسری نوعیت کا ہے۔ مغربی بنگال کے لوگ پارلیمانی سیاست کے اصول و ضوابط کا پوری طرح اعداد و شمار کرکے ہی حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر کم از کم مغربی بنگال میں ایم ایل اے کی خرید و فروخت کرکے اقتدار تک پہنچنے کی روایت نہیں رہی ہے۔ بنگال میں گرچہ دوسری زبانوں (ہندی زبان والے بہاریوں اور اردو زبان بولنے والے مسلمانوں) کے لوگوں کی تعداد قابل قدر ہے اس کے باوجود بنگال کی تہذیب و ثقافت کی انفرادیت پر کوئی آنچ نہیں آسکا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بنگالی زبان کے معاملے نہایت ہی زبردست قسم کے فرقہ پرست ہوتے ہیں۔ جس کی مثال 21 فروری 1952 کا بنگلہ دیش کا سانحہ ہے اور صرف لسانی تعصب پر ہی ’بنگلہ دیش‘ پاکستان سے الگ ہوا۔
ایسے میں ریاستی اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب لئے بی جے پی چاہے جو بھی حربہ استعمال کرلے لیکن اس کا جئے شری رام کا نعرہ جس انداز سے سیاسی جلسوں اور میٹنگوں میں لگایا جارہا ہے یہ سراسر بنگلہ تہذیب و ثقافت کے منافی ہے،ایسا میں اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ وزیر اعلیٰ ممتابنرجی ’جئے شری رام‘ کے نعرہ پر بھڑک گئی تھیں بلکہ اس کا مجھے عملی اندازہ تب ہوا جب گزشتہ 21 دسمبر 2020کو درگاپور کے پلاش ڈیہا فٹ بال میدان میں بی جے پی کے ’جوائننگ میلہ‘ کے جلسے میں شریک ہوا اور ’راشٹریہ سہارا کے نمائندہ کی حیثیت سے میں بی جے پی کے اسٹیج کے ایک کنارے سے جائزہ لے رہا تھا۔ ایک تو یہ کہ اس جوائننگ میلہ میں ایک سے ایک کول مافیا نے اس دن ’دلیپ گھوش (بی جے پی کیریاستی صدر) اور ارجن سنگھ (ریاستی نائب صدر) کے ہاتھوں سے بی جے پی کا پرچم تھام کر بی جے پی میں شامل ہورہے تھے اور اتفاق یہ تھا کہ ان میں سے زیادہ تر بلکہ 90 فیصد لوگوں کا تعلق ’ہندی زبان والے‘ سے تھا اور جس انداز، شور اور غلغلہ سے بی جے پی کے لیڈران اور رضاکار ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگارہے تھے کہ میں خود ذاتی طور پر دہشت زدہ ہوگیا تھا۔
درگاپور پلاش ڈیہا فٹ بال میدان میں منعقدہ بی جے پی کے جوائننگ میلہ میں میدان میں موجود سامعین و بی جے پی کے رضاکاروں میں اکثریت ہندی زبان والے بہاریوں کی ہی تھی۔ جس سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ بی جے پی کو ریاست میں جس قدر مقبولیت ملے گی، ہندی زبان والے (یعنی بہاریوں) کو بالادستی حاصل ہوگی اور شاید یہی چیز بنگالیوں کو کسی قیمت پر گوارہ نہیں ہوگی۔ کئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے درگاپور کے پلاش ڈیہا میدان میں بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش، رکن پارلیمان و نائب صدر ارجن سنگھ کے سامنے ماند پڑگئے تھے۔ ارجن سنگھ نے جب اسٹیج سے اپنے منفرد انداز و لب و لہجہ کے ساتھ ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانا شروع کیا تو جلسہ گاہ میں موجود ہندی زبان والے رضاکاروں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ خوف و دہشت کا سماں اس قدر غالب ہوگیا کہ چند لمحے کے لئے میں خود بھی خوف زدہ ہوگیا۔ گرچہ اسی اسٹیج پر دلیپ گھوش نے بھی اسی نعرہ کو لگایا لیکن ایک تو دلیپ گھوش کی زبان سے بہ مشکل تمام یہ نعرہ ادا ہورہا تھا اور پھر ویسی بات اور ویسا جوش و جنون نہیں تھا جو ارجن سنگھ کے ذریعہ لگائے گئے نعروں میں تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ ریاست میں 18 اراکین پارلیمان بی جے پی کے منتخب کئے گئے ہیں لیکن ریاستی اسمبلی پر بی جے پی کے قبضہ کرنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ اس لئے کہ بی جے پی نے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا ہے جس کی مثال دے کر عوام کو ووٹ دینے پر مجبور کرے گی۔ فرقہ پرستی کی سیاست تو کم از کم بنگال میں نہیں چل پائے گی۔ اس لئے کہ بنگال کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’بنگال جو آج سوچتا ہے، ملک بعد میں سوچتا ہے‘ چونکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات قوی تھے اس لئے بنگال کے کچھ علاقوں کے لوگوں نے بی جے پی کو پارلیمانی انتخاب میں منتخب کیا لیکن ان 18 اراکین پارلیمان نے کوئی نظیر قائم نہیں کی۔ بی جے پی کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ سوائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے۔ درگاپور میں مدھیہ پردیش کے ایک وزیر نروتم مشرا (وزیرداخلہ) نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوتی ہے وہ لوگ اترپردیش کی طرح ’لوجہاد اور گ?ہتیا‘ کے خلاف قانون بنائیں گے۔ یعنی ان کے پاس ترقیات، صحت، تعلیم، بے روزگاری کے سلسلے سے متعلق کوئی ایجنڈا نہیں ہے صرف مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کی سیاست ہے۔
ایسے میں بنگال کے مسلمان اور بنگالی سیاسی شعور رکھتے ہیں، رہی بات بہاری (ہندی زبان والوں کی) تو وہ لوگ مذہبی جذبات کی رومیں بہہ کر بی جے پی کو ووٹ دیں لیکن سیاسی شعور رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جب ای وی ایم کی ہیکنگ نہیں ہوتی تھی تب بنگال کے لوگوں نے کم و بیش 34 برسوں تک بایاں محاذ کو اقتدار پر رکھا لیکن جب ان کو متبادل ملا تو آن کی آن میں تختہ پلٹ کردیا۔ اب تو بی جے پی کے پاس فرقہ پرستانہ سیاست، اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت اور آخر میں ای وی ایم یہی کچھ ہے۔ نہ ترقیات کے نام پر کوئی منشور ہے،
نہ بے روزگاری اور شعبہ تعلیم و صحت کے سلسلہ سے کوئی ٹھوس منصوبہ ہے۔ نوٹ ہندی کے بعد نجی کاری کے ذریعہ ملک کی معیشت کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔ جس سے ہر خاص و عام و واقف ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو تباہ کن حالت پر پہنچ چکی ہے۔ مزدور، کسان، جوان، بے روزگار نوجوان سب پریشان ہیں۔ لڑکیوں اور خواتین کے اندر عدم تحفظ کا احساس ہے اور اس پر ظلم یہ کہ جس طرح چند مسلم ممالک میں دہشت گردوں کا ایک گروہ اللہ اکبر کا نعرہ لگا غیرانسانی افعال کررہے تھے کہ انسانوں کا قتل کررہے تھے اسی طرح جئے شری رام کے نعرہ کو دہشت کی علامت بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔
قتل و غارت گری، لوجہاد، گ?رکشا یہ سب انسانوں کیلئے منشور ہے بی جے پی کا۔ عوامی ردّعمل حاصل کرتے ہوئے ایک شخص کا جواب ملا کہ اگر گائے رکشا کے لئے قانون بناتا ہے تو ووٹ بھی گائے بکری سے ہی لے بی جے پی۔ پھر انسانوں سے ووٹ کی امید کیوں لگارہی ہے۔اس شخص نے کہا کہ اگر بی جے پی کوووٹ انسانوں سے چاہئے تو انسانی فلاح کے لئے کیا منصوبے ہیں یہ بتائے؟ادھر گزشتہ دس برسوں سے ریاست کی مسند اقتدار پر براجمان ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس حکومت کو بھی اپنا احتساب کرنا چاہے کہ دس برسوں میں بلاتفریق مذہب کے کون کون سا طبقہ کس کس طرح سے محرومی کا شکار ہوا ہے اس کا ازالہ کریں۔ مذہب اور چند ملازمین کو سی پی ایم کا بتا کر محروم کررہی ہیں اس سے باز آئیں۔ مثلاً سروسکشا مشن کے ملازمین اور ریاست کے پیراٹیچرس کو ممتابنرجی کی حکومت نے محروم کررکھا ہے ان کی حق تلفی نہ ہو اس کا خیال کریں اور مسلمانوں کو بندھوا مزدور نہیں سمجھیں یایہ تصور نہ کریں کہ مسلمانوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے کہ آخرکہاں جائیں گے، اس تصور کو ذہن سے نکال دیں۔ ورنہ مسلمان وہ جذباتی قوم ہے جو اپنیخسارہ کی پرواہ کئے بغیر فیصلہ لے گا اور اس کا خمیازہ ارباب اقتدار کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔
اب رہی بات ترنمول کانگریس سے نکل کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی، تو ایسے لوگوں کی مجبوریوں سے علاقائی طور سے لوگ واقف ہیں اور ان کو خاطرخواہ جواب دیں گے جہاں تک ایم آئی ایم اور عباس صدیقی وغیرہ جیسے عناصر کی بات ہے تو ریاست کے عوام خواہ مسلم ہوں یا بنگالی فرقہ پرستی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ چند ووٹ ادھر ادھر ہوں گے لیکن اویسی کی بہار والی چال بنگال میں کامیاب نہیں ہوگی۔ اور اویسی کو بنگال سے ناکام لوٹنا پڑے گا۔ اس لئے کہ ان کی انور پاشا والی ریاستی ٹیم کے ترنمول کانگریس میں انضمام کے بعد ضمیرالحسن کی قیادت میں نئی ٹیم تشکیل دی اور جب بنگال آئے تو ضمیرالحسن کو نظرانداز کرکے عباس صدیقی کے ہمراہ نہ صرف میٹنگ کی بلکہ انتخابی سمجھوتہ کا عہد و پیمان کرایا جس سے ضمیرالحسن اور ان کی ٹیم دلبرداشتہ ہے۔ ایسے میں اب اویسی کا سیاسی مستقبل بنگال میں تاریک ہے۔
کانگریس اور سی پی ایم کا اتحاد بھی بنگال کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی دہائی دے رہا ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس سوائے ’جئے شری رام‘ کے نعرہ کے کچھ بھی نہیں ہے اور اس نعرہ کا انداز بنگلہ تہذیب و ثقافت کے کلّی منافی ہے اور یہی بی جے پی کو بنگال کے مسند اقتدار تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہوگا۔



