سیاسی و مذہبی مضامین

جشن سالِ نو کی طوفانِ بد تمیزی

جشن سالِ نو کی طوفانِ بد تمیزی
بہ قلم مولانا محمدتصدق ندوی چٹگوپہ

سورہ ملک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ وہی اللہ جس نے موت و حیات عطا کی ہے تاکہ تمہارا امتحان لے کر دیکھیں کہ تم میں کون اچھے اعمال کرتا ہے ‘‘ معلوم ہوا کہ رب ذوالجلال نے دنیا کو انسان کیلئے امتحان گاہ بنایا ہے اور عمر کے غیر متعین چند سال دے کر دنیا میں بھیجا ہے تاکہ و ہ اس مختصر عرصہ میں اچھے اچھے اعمال کر کے اپنے امتحان میں کامیاب ہو جائے لیکن انسان نے امتحان گاہ کو تفریح گاہ سمجھ لیا ہے اور درازی ٔ عمر کا متمنی ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ نئے سال کے آغاز پر عمر کے اضافے کی خوشی میں رقص و سرور ،شراب و شباب ،فرحت و انبساط کی محفلیں سجاتا ہے اور نئے سال کی آمد کا جشن مناتا ہے انسا ن کی عقل پر افسوس ہے ۔عمر کے گھٹنے کو عمر کی درازی سمجھ رہا ہے جب بھی نیا سال آجائے اس کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی عمر کا ایک سال ختم ہوگیا اور ایک سال قبر کے قریب پہنچ گیا ،جیسے جیسے اس کی زندگی کے ایام گذر رہے ہیں ویسے ویسے و ہ قبر کے قریب پہنچ رہا ہے ہر رخصت ہونے والا لمحہ اس کو موت کے قریب کر رہا ہے عمر کے ڈھلنے پر زندگی کے ایام گذرنے پر جشن نہیں منایا جاتا ہے بلکہ افسوس کیا جاتا ہے حسرت و ندامت کے آنسو بہائے جاتے ہیں اپنی گذری ہوئی زندگی کا محاسبہ کیا جاتا ہے کہ سال گذشتہ خیر و فلاح کے وہ کونسے کام انجا م دئے گئے اور وہ کونسے لمحات تھے جو بے راہ روی لہو ولعب میں صرف ہوگئے نیکوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے گناہوں پر توبہ و استغفار کیا جائے ما بقیہ زندگی رضا الٰہی میں گذارنے کا عہد کیا جائے ،ہر آنے والے نئے سال کا یہی پیغام ہوتا ہے لیکن ہم ہیں کہ عمر کا ایک سال کم ہونے پر کفِ افسوس ملنے کے بجائے اپنے حال پر شاداں و فرحاں اپنے ماضی سے بے خبر اپنے مستقبل کیلئے غفلت کا شکار ہیں 31؍ ڈسمبر کی رات گھڑی کا کانٹا 12پر آتے ہی پٹاخوں کی گھن گرج چیخ و پکار ہنگامہ شور شرابہ ، شراب و شباب نہ جانے کتنی ہی خر مستیاں ہوتی ہیں جو بچوں نوجوانوں اور پھر ضعیفوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ان پر Happy New Yearکا ایسا جنون سوار ہوتا ہے کہ رات بھر کلبوں ،باروں ،لاجوں ، ہوٹلوں اور چوراہوں پر عیش و مستی میں گذار دیتے ہیں اور اس موقع سے مختلف ٹی وی چینلس بھی رقص و سرور کے نیم عریاں پروگرام پیش کرتے ہیں ۔نئے سال کی آمد پر کیک کاٹنا اور حیا سوز بے ہودہ مرد و زن مخلوط محفلیں سجانا کہاں کا طریقہ ہے پوری دنیا میں اس را ت بدکاری ،شراب خوری ،ہنگامہ آرائی ،عریانیت و فحاشی کے پروگرام ہوتے ہیں پورے سال اتنی برائی نہیںہوتی ہے جتنی برائی اس ایک رات میں ہوتی ہے بس تھوڑی سی لذتِ نفس اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے رات بھر طوفانِ بد تمیزی برپا رہتی ہے ۔

؎ حظ گناہ میں جب تو گناہ کر چکا تو کچھ بھی نہیں بس ایک زرا سی دیر کا ہے مزہ پھر کچھ بھی نہیں۔

ہمارے مسلم نوجوان بھی اس مغربی تہذیب و تمدن سے اتنا متاثر ہوچکے ہیں کہ اس فعل قبیح میں وہ بھی برابر شریک ہوتے ہیں اسلام بے حیائی کے کاموں سے روکتا ہے حیا ایمان کا جز ہے جس میں حیا نہیں ہے اس میں ایمانی حرارت نہیں ہے ،اس بے ہودہ مغربی تہذیب نے آج انسان کو حیوان سے بد تر بنا دیا ہے لوگ عرب کی اُ فق سے طلوع ہونے والے ستارے کو چھوڑ کر ممبئی کے ستاروں کے دلدادہ ہوگئے ہیں آج ہر بچہ اور بچی ہیرو اور ہیروئن کی نقل کرنا چاہتے ہیں اور اسی کو اپنے لئے باعث افتخار تصور کرتے ہیں اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اور غیروں کے طریقے اپنانا ہر ایک کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے علامہ اقبال نے سچ فرمایا ۔

؎ وضع میں ہو تم نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
جوانی اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت اور قیمتی سرمایہ حیات ہے جو چلے جانے کے بعد لوٹ کر نہیں آتی ہے روز محشر جوانی کے تعلق سے پوچھ ہوگی کہ جوانی جیسی قیمتی دولت کن کاموں میں صر ف کی ،اللہ پاک کو جوانی کا ایک سجدہ پڑھاپے کے ستر سجدوں سے افضل ہے جوانی کی عبادت اور صالح نوجوان پر اللہ فخر فرماتا ہے مگر افسوس ہمارے نوجوان بے ہودہ و بے حیائی کے دلدل میں پھستے چلے جارہے ہیں مسلم نوجوان مساجد کی زینت بننے کے بجائے کلبوں ،باروں، تھیٹروں کی زینت بنتے چلے جارہے ہیں اپنی محنت کی کمائی بے دریغ حرام کاموں میں صرف کر رہے ہیں اور اللہ کے غضب کو للکار رہے ہیں ،جوانی اللہ کی عطا کردہ ہے اس کو اسی پر فدا کرنا چاہئے ۔

؎ کسی خاکی پہ مت کر خاک اپنی زندگانی کو جوانی کر فدا اس پر کہ جس نے دی جوانی کو
انسان دنیا میں مختصر وقت لے کر آیا ہے انسان کی زندگی بس اتنی ہی ہے جتنا وقت اذاں اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے جس وقت ہماری ولادت ہوئی ہمارے کانوں میں اذاں دے دی گئی ،بس اب نماز کا انتظار ہے کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی نماز جنازہ کب ہونے والی ہے یہی وجہ ہے کہ نماز جنازہ میں اذاں و اقامت نہیں ہے کیوں کہ جس وقت ہم پیدا ہوئے تھے اسی وقت اذاں و اقامت کہی جاچکی ہے اسی کو کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
؎ میری عمر اتنی درا زہے میری زندگی کا یہ راز ہے پیدا ہوا توسنی اذاںجو مرا تو وقت نماز ہے

ہماری عمر کے یہ مختصر و قیمتی لمحات بڑی تیزی کے ساتھ گذر رہے ہیں حیات انسانی کا یہ سفر دراصل برف سے بھی زیادہ تیز رفتار سے بگھل رہا ہے وقت آدمی کا قیمتی سرمایہ حیات ہے وقت کا ضیاع زندگی کا ضیاع ہے ہم اگر اس کی قدر نہیں کریں گے کوئی ہماری قدر نہیں کرے گا روز محشر انسان کہے گا اے باری تعالیٰ دنیا میں میں نے بڑی لاپرواہی کے ساتھ اپنی عمر کے لمحات کو ضائع کر دیا ہے دنیاوی زندگی بڑی قیمتی تھی جس کا مجھے اب احساس ہورہا ہے اے پر ور دگار میں آپ سے التجاء کرتا ہوں مجھے دنیامیں جانے کا صرف ایک موقع عنایت فرمائیے سال دو سال کیلئے نہیں ،مہینہ دو مہینہ کیلئے نہیں ،ہفتہ دو ہفتہ کیلئے نہیں ، اتنی مہلت دے دیجئے کہ دنیا میں جا کر صرف ایک مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر واپس چلا آئوں ،کیونکہ اس کو دنیا میں ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی کیا قیمت تھی اب معلوم ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو گا اب تیرے لئے کو ئی مہلت نہیں ہے جتنی مہلت دینی تھی دنیا میں دے دی گئی ،وہ بڑی حسرت اور ندامت کے ساتھ اپنی انگلی منہ میں ڈال کر کہنی تک چبا ڈالے گا اور اس کو احساس تک نہ ہوگا امیر ملت حضرت مولانا عاقل علیہ الرحمہ اکثر اپنے وعظ میں فرمایا کرتے تھے ۔

؎ در نایاب ہے عمر کا لمحہ لمحہ جو گیا آہ !پھر آ نہ سکا
کام میں لائو تو دے فائدہ ورنہ مثل برف بگھل جائے گا

آج کا نوجوان بڑی بے رحمی کے ساتھ کلبوں میں باروں میں تھیٹروں میں ہوٹلوں میں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کر رہا ہے اور اپنی ساری توانائیاں حرام اور غلط کاموں میں صرف کر رہا ہے دنیا و ی چمک دمک اور رنگ رلیوں میں مست مگن ہے اور اتنی بے فکری کے ساتھ جی رہا ہے جیسے اس کو مرنا ہی نہیں ہے اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو مرنے سے پہلے موت کی تیاری کرے دنیا آخرت کی کھیتی اور دارالامتحان ہے اصل زندگی تو آخرت کی ہے جہاں صرف نیکوں کا سکہ چلے گا اور وہ ایک لامحدود زندگی ہوگی جہاں موت کو بھی موت دے دی جائے گی ۔

؎ جہنم و جنت کا بکنگ آفس ہے یہ دنیا عمل دے کر ٹکٹ لے لو جہاں جانے کی خواہش ہے
نوجوانوں سے درخواست ہے خدارا نئے سال جیسے بے ہودہ و بے حیا ء پروگراموں سے اجتناب کریں ،اپنی جوانیاں اسلام کی سر بلندی و سر خروئی کیلئے نچھاور کریں ،ہمیشہ مو ت و آخرت کی فکر دامن گیر ہو ، تقویٰ و طہارت کو اپنا نصب العین بنا لیں ،مغربی تہذیب وتمدن کو دھتکار کر اسلامی تہذیب و تمدن کو اپنا شعار بنا لیں ورنہ ندامت اور پچتاوئے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے گا،اللہ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button