سیاسی و مذہبی مضامین

جہیز ایک ناسور تو ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

جہیز ایک ناسور تو ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

جہیزحافظ مجاہدالاسلام عظیم آبادی
منتظم البروج انٹرنیشنل اسکول پٹنہ واَونر روح حیات سینٹر (یوٹیوب)

آئے دن جہیز کے بارے میں تحریریں پڑھتا رہتا ہوں اور سب کا لب لباب یہی ہوتا ہیکہ جہیز ایک ناسور ہے جو مردوں کی جانب سے ایجاد کردہ ہے، لڑکوں کو چاہیئے کہ وہ اس کے خلاف قدم اٹھائیں، یوں بھیک مانگنے میں شرم نہیں آتی؟

یہی لوگ ہیں انٹرنیشنل بھکاری اور نہ جانے کن کن القاب سے لوگوں کو ملقب کیا جاتا ہے، اور تو اور بڑے بڑے مقرر بھی یہی بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو کہ ایک طرح سے صحیح بھی ہے مگر یہاں مسئلہ یہ ہیکہ ہم سکے کے صرف ایک پہلو کو دیکھ رہے ہیں

آئیے آج دوسرا پہلو بھی دیکھتے ہیں،

کیا صرف ایک لڑکا ہی جہیز کا بھکاری ہے؟ یا اس کے پورے خاندان کو ہم اس میں شامل کریں؟ اکثر و بیشتر مسلم معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہیکہ لڑکے سے زیادہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو جہیز کی زیادہ فکر ہوتی ہے تو پھر ایسی حالت میں بھیک مانگنے والا کون ہوا؟ صرف لڑکا؟ یا آپ اس میں لڑکے کی ماں اور بہنوں کو بھی شامل کریں گے؟

سوال بہت آسان ہے مگر کیا اس آسان سے سوال کا جواب وہ لوگ دے سکتے ہیں جو جہیز کا سارا دار و مداد ایک لڑکے پر ڈال دیتے ہیں، جہیز ایک مرض کیا ایک لعنت ہے اور یہ میں کیا ہمارا دین بھی مانتا ہے مگر اس جہیز جیسی بیماری کو سماج سے ختم کرنے کیلئے کیا صرف ایک لڑکے کا اس کے خلاف بولنا کافی ہے؟

جہیز ایک ناسور

کیا اس کی ماں اور بہنوں کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں؟ اس مرض کو ہمیں ختم بھی کرنا ہے مگر شادیوں میں خرافات کرنے سے باز بھی نہیں آنا ہے، ڈھول تاشے، گانا بجانا، لڑکے لڑکیوں کا بے پردہ گھومنا، میلاد، مایوں، ڈھولکی مہندی، بارات، جوتا چھپائی یہ سب اور نہ جانے اس طرح کی کتنی فضول حرکتیں ہم شادیوں میں کرتے ہیں اور پھر ہمارا یہ سوچنا کہ جہیز ایک ناسور ہے سراسر غلط ہے،

اشتہارات لگا دینے سے کچھ نہیں ہوتا

اگر ہمیں جہیز پر پابندی چاہیئے تو اس سے پہلے شادیوں میں ہونے والے خرافات اور رسومات پر پابندی لگاؤ ورنہ اگر یونہی چلتا رہا تو میرے اس جملے پر مجھے معاف کیجئے گا کہ یہ رسم جہیز کبھی ختم نہیں ہونے والی، صرف بول دینے سے اور اشتہارات لگا دینے سے کچھ نہیں ہوتا اس پر عمل کرنا ہی سب کچھ ہے، کتنے ہی ایسے مقرر و محرر ہیں جو جہیز کے خلاف لکھتے ہیں مگر خود کی شادیوں میں انہوں نے شیطان کا کھل کر ساتھ دیا ہوا ہے،

مسئلہ محض جہیز کا نہیں ہے

مسئلہ محض جہیز کا نہیں ہے بلکہ شادی سے جڑی تمام چیزوں کا ہے، یاد رکھئے گا کہ جو شادی ہالوں میں لاکھوں روپئے خرچ کر کے کروائی جاتی ہے وہی شادی مسجد میں بغیر کسی خرچے کے بھی ہو سکتی ہے مگر نہیں، ہمیں تو تام جھام چاہیئے ہوتا ہے، جب تک دس طرح کے غیر شرعی رسومات نہ کر لیں تب تک دل کو سکون کہاں سے حاصل ہو سکتا ہے اور پھر ہمیں جہیز پر پابندی چاہیئے، یہ تو وہی بات ہوگئی نا کہ ہمیں جنت بھی چاہیئے مگر نیکی بھی نہیں کرنی، مجھے بتلائیں کہ جب ایک لڑکی بغیر جہیز کے سسرال بھیجی جاتی ہے تو اسے جہیز کے طعنے کون مارتا ہے؟ ایک ساس یا سسر؟ ایک نند یا دیور؟

جواب آپ بھی جانتے ہیں تو پھر صرف ایک لڑکے کے اسٹینڈ لینے سے کیا حاصل؟ اگر تبدیلی چاہیئے تو مل کر معاشرے کو بدلنا ہوگا صرف ایک شخص کے چاہنے سے نہ کبھی کچھ بدلا ہے اور نہ ہی بدلے گا۔ اسی طرح آج کل سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت زیادہ ٹرینڈ کر رہی ہے

ذرا سوچیں کہ ان کے گھر کا حال کیا ہے؟

جسمیں ایک دلہن کوتانگے پر گدھے کی جگہ پر رکھا گیا ہے اور جہیز کے سامان کے ساتھ دولہے کو اوپر کھڑا کیا گیا ہے، لڑکی روتے ہوئے اس تانگے کو کھینچ رہی ہے، تصویر دلوں کو رلا دینے والی ضرور ہے مگر وہ تمام لوگ جو اسے شئیر کر رہے ہیں ذرا سوچیں کہ ان کے گھر کا حال کیا ہے؟ ہزار میں سے صرف دو چار ہی ایسے ملیں گے جنہوں نے بغیر جہیز کے شادی کی ہو،

صرف سوشل میڈیا پر چیخنے اور چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا آج یہ تصویر ٹرینڈ کر رہی ہے تو کل کوئی اور کریگی اور یہ تصویر بھی لوگ بالکل اسی طرح غائب کر دیں گے جس طرح چوبیس گھنٹوں میں واٹس ایپ اور فیس بک پر اسٹیٹس غائب ہو جاتے ہیں،

ائے مومنو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے

بس اس کے علاوہ یہ مسئلہ کچھ نہیں ہے، یہی دقت ہے ہماری کہ اگر کسی چیز کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو بس دو سے چار دونوں کیلئے ہی اس کے بعد سب ختم، کل کو کوئی نئی تصویر ملے گی اور وہ ٹرینڈ کریگی اور لوگ اسے اپنے اسٹیٹس پر لگائیں گے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنے آراء کے اظہار ہی نہ کریں، بالکل کریں مگر پہلے اس پر خود عمل کریں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے’’ائے مومنو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے‘‘ (سورہ صف) دیکھئے میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں اور آپ کو یہ سمجھا کر رہوں گا کہ جہیز کا وزن عورت نہیں مرد ہی ڈھوتا ہے،

باپ اور بھائی، بیٹی اور بہن کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے کیا نہیں کرتے؟ کتنے اوورٹائم اور کتنے قرضے لیتے ہیں، شاید ہی کبھی گھر میں بتاتے ہوں۔ باپ اپنی بیماریاں چھپا کر رکھتے ہیں کہ بیٹی بیاہی جائے پھر علاج کروائیں گے، گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تب ہی سے اس کے جہیز کیلئے رقم اکٹھا کیا جانا شروع کر دیا جاتا ہے،

”سننے، طعنے، طنز اور کاٹ”

ایسا کیوں ہو تاہے؟مسئلہ آپ خواتین کا ہے، اور نمائش کی تصویر میں گدھے کی جگہ عورت کو غلط لگایا گیا ہے یہاں باپ (مرد) ہونا چاہئے تھا۔ اوپر کھڑا مرد بھی غلط ہے یہاں وہ (خواتین) ہونی چاہئے تھیں جو جہیز مانگتی ہیں یا خواہش رکھتی ہیں۔ یہ سب داماد کا منہ بند کرنے اور بیٹی کی اپنے بیڈ اور میٹرس پر سکھ کی نیند کے لئے نہیں ہوتا، بلکہ ساس کی دو دھاری زبان، نند کے طعنے اور دیورانی جیھٹانی کے طنز سے بچاؤ کے لئے ہوتا ہے، اور بیٹی پھر چاہے برطانیہ کے شاہی خاندان میں ہو یا بھینس کالونی، خدا کی بستی اور جھٹ پٹ پاڑے کے کسی دھاڑی دار مزدور کے گھر کی، ”سننے، طعنے، طنز اور کاٹ” کا دو چار سالہ کورس اسے لازمی کرنا ہوتا ہے

 

۔یہ کورس مردوں کیلئے کیوں نہیں ہے؟ یہ کورس آپ ” خواتین” کا مرتب کردہ ہے۔ اپنی لڑائی کو اپنے قبیلے میں رکھیں، ہم مرد پہلے ہی دفتر، کاروبار،سماج اور ادھورے عشق میں صحت، جوانی، بال، شوق، جرات، شست، مستقبل خراب کر چکے ہوتے ہیں، گھر کے پرچون مسائل ’’گٹر باغیچہ‘‘ہیں ہمارے آگے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ مسئلہ محض جہیز نہیں بلکہ شادی کے نام پر ہونے والی تمام تر رسومات ہیں۔

شادی سے ایک ہفتے پہلے ہونے والی تقریبات بمعہ میلاد، مایوں، ڈھولکی، مہندی، بری کی رونمائی، بارات، جوتا چھپائی سب فضولیات بلکہ خرافات ہیں، بیٹے جہیزکے خلاف اسٹینڈ لے رہے ہیں تو بیٹیاں بھی ان خرافات پر اسٹینڈ لیں۔

ہمارے یہاں مرد کی اپنی شادی پر اسکی اوسطا 12 تنخوائیں لگتی ہیں۔ جو اسے جمع کرنے میں سالوں لگتے ہیں، لڑکی کے باپ کے اخراجات تو بیشمار ہیں۔ اس سے بہت بہتر ہے کہ خرچ کو چار گناہ کم کیا جائے، لڑکا چار پیہوں کی کوئی سواری لے لے، اپنے گھر/فلیٹ (چھوٹا موٹا ہی سہی) کے لئے کوئی بندوبست کرنے کی کوشش کرے،

اس سے زندگی میں وہ سکھ رہے گا کہ نسلیں دعائیں دیں گی۔ عوام ہالوں کا کھانا اور بینکوئٹ سے بہت محظوظ ہوچکی ہے آپ کو وکھرے کھانے اور اچھا بینکوئٹ کروانے پر کوئی تمغہ نہیں ملے گا یہ شو آف بند کرنا پڑیگا، اور۔۔۔۔۔جس نے یہ جہیز والا اشتہار بنایا ہے وہ بھائی شادی کے جوڑے لاکھوں روپے میں بیچتا ہے، اس اشتہار میں دلہن نے جو لباس پہنا ہے صرف اسکی قیمت 2 لاکھ سے کم نہیں ہے،

سرمایہ دار/ Capitalist اگر نماز کا اشتہار بھی دیگا تو ثواب کے لئے نہیں بلکہ تجارت کیلئے دیگا،کسی نے اس فوٹو پر ٹیگ ڈالتے ہوئے لکھا کہ ”عجیب رواج ہے دنیا کا، اپنی رونق بھی دو اور جہیز بھی” بات بالکل درست ہے کہ ایک باپ اپنی شہزادی بھی دے رہا ہے اور پھر جہیز بھی مگر ذرا سوچیں کہ یہ جہیز کا مانگ کرنے والی بھی تو ایک ماں اور بہن ہی ہے، لہذا اس طرح کے اشتہارات کو عام کرنے سے بہتر ہیکہ اپنے معاشرے پر توجہ دیں اور پہلے اپنی پھر اپنے اہل و عیال کی اور پھر دوسروں کی اصلاح پر توجہ دیں،

ناصح کی بات اسی وقت اثر دکھاتی ہے جب ناصح خود بھی اس پر عمل پیرا ہو، جہیز ایک مرض ضرور ہے مگر جب تک شادیوں کے دوسرے رسومات ختم نہیں ہوتے تب تک یہ رسم جہیز بھی بیٹیوں کے سر پر تلوار کے مانند لٹکتی رہے گی۔

جہیز ایک ناسور
حافظ مجاہدالاسلام عظیم آبادی

متعلقہ خبریں

Back to top button