یہ اکتوبر 2019ء کی بات ہے۔ جھارکھنڈ کی رہنے والی پروین بیگم (نام تبدیل) اپنے دوست راجندر عرف راجو کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ یہ دونوں دہلی پہنچتے ہیں اور وہاں 10؍ اکتوبر 2019ء سے 16؍ نومبر تک ایک ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔ پروین بیگم کو اپنے گھر سے بھگا کر دہلی لے جانے کے بعد بھی راجندر اس سے شادی نہیں کرتا ہے۔ ہاں وعدہ ضرور کرتا ہے کہ جلد ہی وہ شادی بھی کرے گا۔
دہلی میں ایک مہینے کے قیام کے بعد راجندر پروین کو بنگلور لے کر جاتا ہے۔ جہاں پر یہ دونوں پھر ایک ہوٹل میں قیام کرتے ہیں۔ اس دوران راجندر کے ماں باپ بھی بنگلور میں آتے ہیں اور پروین سے ان کی ملاقات بھی ہوتی ہے۔ اس دوران پروین حاملہ ہوجاتی ہے اور جب وہ راجندر سے شادی کرنے کے لیے کہتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ پہلے یہ بچہ تو ہوجانے دو لیکن ستمبر 2020ء میں جب پروین کی ڈیلیوری کا وقت آتا ہے تو راجندر پروین کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔
قارئین یہ ساری تفصیلات مئی2021ء میں اس وقت سامنے آتی ہیں جب دہلی کے ایڈوکیٹ گوری شنکر پروین کی کہانی خود اس کی زبانی ویڈیو پر بناکر سوشیل میڈیا کے ذریعہ وائرل کردیتے ہیں۔اس سارے دلسوز واقعہ میں جو حالات سامنے آتے ہیں وہ یہ کہ راجندر عرف راجو جس کے باپ کا نام بابو لال ڈانگی ہے وہ جھار کھنڈ میں کسی کلکٹر آفس میں کام کرتا ہے۔
بابو لال ڈانگی اب اپنے بیٹے کی شادی دیویا نام کی ایک لڑکی کے ساتھ 27؍ مئی کو طئے کر رکھا ہے۔ دوسری جانب پروین راجندر کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اپنے 8 مہینے کے بچے کو لے کر دہلی کے اس ہوٹل پہنچتی ہے جہاں پر سال 2019ء میں گھر سے بھاگ کر اس نے راجندر کے ساتھ قیام کیا تھا۔ پروین دراصل ثبوت جمع کر رہی ہے تاکہ راجندر کے خلاف دھوکہ دہی کا کیس کرسکے اور اس نے اپنے وکیل گوری شنکر کے توسط سے اپنی ویڈیو ریکارڈنگ میں درخواست کی کہ راجندر کی شادی روکی جانی چاہیے۔
کیا راجندر کی دیویا کے ساتھ شادی واقعی رک گئی اور پروین کے ساتھ اب وہ شادی کرے گا یہ اور بہت سارے سوالات کے جوابات آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔ لیکن آج تک پروین کی زندگی کی جو کچھ تفصیلات سامنے آئے ہیں اور ہمیں جتنا کچھ معلوم ہوا ہے کیا ہم نے اس کا تجزیہ کرلیا ہے۔
کیا امت مسلمہ کو اس واقعہ کا تجزیہ کر کے آئندہ اس طرح کے واقعات کے سدباب کے لیے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یا یہ کہہ کر واقعہ کو بھی نظر انداز کردینا چاہیے کہ ارے صاحب ہر زمانہ میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان واقعات کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ لیکن میرا سوال ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کی کتنی ساری حقیقتوں کو ایسے ہی فراموش کرتے رہیں گے۔
امت مسلمہ جسم واحد کی طرح یہ تو پروین بیگم کا درد ہمیں بھی محسوس کرنا ہوگا اور علاج ڈھونڈنا ہوگا کہ اس طرح کے مرض کا کوئی دوسرا مسلمان شکار نہ ہو۔ راجندر عرف راجو یا اس کے باپ بابو لال ڈانگی کو فرقہ پرست طاقتوں کا آلہ کار کہہ دینا یا پروین بیگم کا گھر سے ایک ہندو لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ جانے کے عمل کو ماں باپ غفلت کا نتیجہ کہہ دینا کوئی حل نہیں۔
کیونکہ دہلی میں 23؍ مئی 2021ء کو پروین بیگم کا ویڈیو بیان ریکارڈ کر کے اس کی مدد کرنے والا فرد بھی مسلمان نہیں بلکہ گوری شنکر ایڈوکیٹ ہے۔ یعنی کسی مذہب یا قوم کو برا بولنا اور کہہ دینا بھی حل نہیں ہے۔ کیونکہ راجندر اگر ہندو ہے تو گوری شنکر بھی ہندو ہے۔آیئے۔ ہندووں کی بات چھوڑ تے ہیں ہم مسلمان ہیں اور پروین بھی مسلمان تو مسلمانوں کی ہی بات کرتے ہیں۔
آپ نے ذرا سونچا ہے۔آخر پروین نے کیسے ایک ہندو کے ساتھ بھاگنا پسند کیا؟ کیاپروین کے والدین نے اس کی شادی کی کوشش نہیں کی؟کیا پروین کی شادی میں جہیز رکاوٹ تھی؟کیا پروین کے والدین کے ہاں بیٹے نہیں تھے؟
اور سب سے اہم سوال کہ کیا ہم مسلمانوں کو ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے بھی چاہیے بھی یا نہیں اور کیا ہم نے ایسا کیا غور کریں۔
پروین کا تعلق تو خیر سے جھار کھنڈ سے تھا۔ شائد وہاں پر یہ مسائل ہوں لیکن اگر میں خود شہر حیدرآباد کی مثال لوں تو ایک مسلم خاتون کے نقطۂ نظر کو پڑھنے سے اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد ملے جو مسلم سماج میں لڑکیوں کی شادیوں کے حوالے سے ہے۔
ایک مسلم خاتون ایم بی بی ایس ڈاکٹر سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ مسلم لڑکیوں کو حصول تعلیم کے لیے اپنی شادیوں کو ٹالنا نہیں چاہیے۔ ان کے مطابق جب وہ 26 برس کی تھی اس وقت انہوں نے اپنا ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کرلیا تھا اور ڈاکٹر بن گئی تھی۔ ڈاکٹری مکمل کرنے کے بعد ہر طرف سے ہر طرح کے مشورے آنے لگے کہ ایم بی بی ایس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ایم ڈی کرنا ضروری ہے۔
ایم ڈی میں داخلہ کے لیے پہلے سال اس خاتون نے کوشش کی، کامیابی نہیں ملی، دوسرے برس انٹرنس لکھا تو کوالیفائی تو کرلیا مگر ایم ڈی کی سیٹ ریاست سے باہر کے کالج میں تھی اور والدین مجھے دوسری ریاست بھیجنے تیار نہیں تھے۔ دوسرے برس بھی داخلہ نہیں لیا اور پھر تیسرے برس مجھے ایم ڈی میں داخلہ مل گیا۔
ادھر جب تک میرا ایم ڈی مکمل ہوتا میری عمر 31 برس ہوگئی تھی۔ میرے والدین نے میرے لیے رشتے تلاش کرنا شروع کیا۔ ڈاکٹر کا رشتہ تو مل رہا تھا مگر جس قدر جہیز ڈاکٹر لڑکے کے لیے مانگا جارہا تھا اس کا انتظام کرنا میرے والدین کے بس سے باہر کی بات تھی۔ کیونکہ میرا تعلق جس خاندان سے تھا وہ ایک میڈل کلاس فیملی تھی۔
قارئین ایم ڈی کرنے کے بعد بھی مسلم لڑکی کی شادی کس قدر مسئلہ بن گئی تھی اس کا اندازہ اس مسلم خاتون کے شکوے سے لگایا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ اب انہیں انجینئر، ایڈوکیٹ، ایم بی اے، ایم سی اے لڑکوں کے رشتے تو آرہے ہیں لیکن میں نے ایم ڈی کی تعلیم حاصل کی ہے تو میری خواہش ہے کہ مجھے کم سے کم ڈاکٹر کا رشتہ ملے لیکن اس ڈاکٹر کے رشتے کے انتظار میں مزید دو برس گذر گئے۔
ساتھ ہی یہ مسلم ایم ڈی لڑکی مشورہ دیتی ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم کے لیے شادی نہیں ٹالنی چاہیے۔کیا اس درد کو قوم محسوس کر سکے گی؟
قارئین ذرا سا توقف کریں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مسلم لڑکیاں اگر اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہیں تو کیا یہ صورت حال تشویش کی بات نہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم بھی دلوائی جارہی ہے تو یہ سونچ کر کہ اگر پڑھ لیں گی تو اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں گی۔ پڑھائی تو ضرور ہونی چاہیے پہلے دین پڑھایا جانا چاہیے۔
پھر سب کچھ مسلمان ہونے کے ناطے کیا ذمہ داریاں ہیں کہ مسلمان لڑکی کی شادی نہیں ہو رہی ہے تو بھی وہ غیر مذہب کے لڑکوں سے شادی کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔ یہ بات سمجھ لینی اور بچوں کو سمجھانی بھی چاہیے۔ لاک ڈائون اور کرونا نے اگرچہ شادی بیاہ کے اخراجات کو بہت کم کردیا ہے مگر سن کر تعجب ہوتا ہے کہ اب لڑکے والے حضرات یہ کہہ کر کیاش مانگ رہے ہیں کہ شادی میں ولیمے میں جو اخراجات کی بچت ہو رہی ہے وہ نقد کی شکل میں ادا کردیا جائے۔
کیونکہ وہ اس لیے کہ لڑکے والے لاک ڈائون میں کم مہمانوں اور کم باراتیوں کے ساتھ شادی کے لیے رضامند ہو رہے ہیں تو بڑے احسانات کر رہے ہیں اور پھر بچی کو شادی میں خرچ نہیں کریں گے تو بعد میں لڑکی کو مائیکے سے کچھ بھی ملنے والا تو نہیں۔یہ کہہ کر رقم مانگی جارہی ہے۔
کس نے کہہ دیا کہ لڑکی کو ماں باپ کی جائیداد میں حصہ نہیں ملتا۔ کس نے کہہ دیا کہ لڑکیوں کی زندگی کو دنیا کی تعلیم دلواکر محفوظ بنوایا جاسکتا ہے۔ مسلمان ہو تو اپنے بچوں کو سب سے پہلے مسلمان بنانا ضروری ہے۔ کرونا وائرس کے باوجود ہم زندہ ہیں۔ سانس لے رہے ہیں، اللہ کا کرم ہے۔ لاک ڈائون کے باوجود اگر ہم دو وقت کا کھانا کھا رہے ہیں الحمد للہ ، اللہ کا فضل و کرم ہے۔
جس خدائے تعالیٰ نے ہم سب کو مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اسی نے ہم پر دین کی تعلیم کو فرض بھی کیا۔ اولاد کی تربیت کو فرض بنایا۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ نکاح کو تو سنت قرار دیا گیا ہے اور ہم مسلمان سنت کو فرض کے مقابل ترجیح دے رہے ہیں تو یہ بے اعتدالی کی زندگی ہمیں اندھیروں میں دھکیل رہی ہے اور ہر طرف رسوائی ہمارا مقدر بن رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری آنکھوں پر پڑے پردے ہٹادے۔ جو حق ہے وہ حق ہمیں دکھا دے اور اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما جس پر چلنے والوں کو انعام کا اور ہدایت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بے شک خدائے تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔
میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے
ہوا و حرص والا دل بدل دے
خدایا فضل فرما دل بدل دے
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



