سیاسی و مذہبی مضامین

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

مصطفی علی سروری

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی محمد 

والدین کی توجہ بچوں کی پڑھائی کے لیے بڑی کارآمد ہے یہ بات تو عرصے سے سنتے آرہے ہیں لیکن گذشتہ دنوں ایک خبر ایسی نظروں سے گذری جس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی پڑھائی میں مدد کرنے والے والدین کے لیے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ جئے کشور پردھان ایک جسمانی طور پر معذور فردہیں۔ ان کی اولاد میں دو لڑکیاں (جڑواں) اور ایک لڑکا ہے۔ گذشتہ برس پردھان کی دونوں لڑکیاں NEET کے امتحان کی تیار کر رہی تھیں۔

پردھان ان دونوں کو پڑھائی میں مدد کرنے ان کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ مسلسل بچیوں کی پڑھائی میں مدد کرنے کے دوران پردھان ہر وہ کتاب خود پڑھنے کے لیے اٹھایا کرتے تھے جو ان کی بچیوں نے پڑھنے کے بعد رکھ دی ہو۔ کیونکہ خود پردھان نے 12 ویں جماعت میں BiPC کے مضامین پڑھنے کے بعد ہی 1977ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی تھی تو ان کے لیے کوئی بھی مضمون نیا نہیں تھا۔ قارئین آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ یہ پردھان کون ہے۔ پردھان کے متعلق 26/ دسمبر 2020ء کو اخبار دی ٹیلیگراف نے سبھاشیش موہنتی کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس میں بتلایا گیا کہ پردھان کا تعلق بارگڑھ ضلع مغربی اڈیشہ سے ہے بی ایس سی کی تعلیم مکمل کرلینے کے بعد وہ ایک اسکول میں بطور ٹیچر ملازمت کرنے لگے تھے۔ بہتر سے بہتر کی تلاش میں اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے کی جستجو ان کے اندر خوب تھی۔ شائد اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ایک پاؤں سے معذور تھے تو ان کا دماغ ہمیشہ دوسروں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے، ترقی کرنے کے بارے میں میں سونچا کرتا تھا۔ پھر چاہے وہ ملازمت کا معاملہ ہو یا تعلیم کا۔ ٹیچر بننے کے بعد بھی پردھان کی جستجو کم نہیں ہوئی۔

انہوں نے بینکنگ ریکروٹمنٹ کا امتحان لکھا اور پاس ہوکر بینک میں ملازمت کی۔ اور ان کی پہلی ملازمت انڈین بینک میں تھی۔ جہاں سے انہوں نے مزید آگے کا سفر طئے کیا اور 1983ء میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ملازمت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے سال 2016ء میں پردھان ڈپٹی بینک منیجر کے عہدہ سے ریٹائر ہوگئے۔ یوں تو ہزاروں، لاکھوں لوگ اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوتے ہیں لیکن پردھان کے ریٹائرمنٹ کی خاص بات یہ رہی کہ وہ بینک ملازمت کے اختتام پر گھر پر اپنی لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ انہوں نے اخبار ٹیلی گراف کو بتلایا کہ بچپن میں انہیں بھی دیگر بچوں کی طرح ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی۔ اب ان کی لڑکیوں نے (جڑواں) ڈاکٹر بننے کا ارادہ ظاہر کیا تو پردھان اپنی بچیوں کی پڑھائی میں نگرانی اور ہر طرح سے مدد کرتے تھے اور ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، ان کی کتابیں اٹھاکر خود بھی پڑھتے۔ لڑکیوں کی محنت نے اثر دکھایا لیکن وہ لوگ BDS میں ہی داخلہ لے سکیں۔ دوسری طرف پردھان کو اتنا بھروسہ ہوگیا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ لڑکیوں سے اچھا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ پچھلے سال جب سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح کردیا کہ NEET کے امتحان میں شرکت کی اقل ترین عمر 17برس ہونی چاہیے تو پردھان بہت خوش ہوگئے کہ کورٹ نے اقل ترین کم سے کم عمر کا تعین کردیا ہے مگر ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی کوئی پابندی نہیں لگائی تو اب وہ بھی اس فیصلے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

حالانکہ پردھان کی عمر 64 برس ہوچکی تھی۔ عام طور پر عمر کا یہ وہ حصہ ہوتا ہے جب زیادہ تر ہندوستانی لوگ آرام کرنا پسند کرتے ہیں اور عبادت و ریاضت میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جسمانی طور پر معذور پردھان نے ذہنی طور پر کبھی کسی چیز کو بھی اپنے لیے ناممکن نہیں سمجھا اور پھر انہوں نے NEET امتحان لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ بچیوں کے ساتھ تو انہوں نے پڑھا تھا اب انہوں نے سب کو Rewise کرنا شروع کیا۔ چونکہ وہ جسمانی معذور زمرے سے تعلق رکھتے تھے NEET کے رینک کی بنیادوں پر انہیں میڈیسن میں داخلہ کا اہل قرار دیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں پردھان کے ساتھ عمر کے اس حصے میں ایک اور حادثہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ ان کی جڑواں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی جو BDS کر رہی تھی نومبر 2020 میں انتقال کرگئی لیکن اپنی لڑکی کا دنیا چھوڑ کر چلے جانے کا غم سہہ جانے والے پردھان نے اپنا ارادہ نہیں بدلا اور پھر بالآخر 29/ دسمبر کو پردھان کو ویر سریندر سائی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ (VIMSAR) میں یم بی بی ایس میں داخلہ مل گیا۔ اب یہ 70 برس کی عمر میں ڈاکٹر بن کر عوامی خدمت انجام دینے کے لیے پرتول رہے ہیں۔

قارئین پردھان جیسے جسمانی معذور شخص نے سبق سکھایا کہ دنیا کی سب سے بڑی معذوری جسمانی نہیں ذہنی معذوری ہے۔ خود ہمارے شہر حیدرآباد کے ایک آٹو ڈرائیور 45 سالہ شیخ مقبول نے بھی یک مثال قائم کی اور ثابت کیا کہ والدین اگر پڑھے لکھے نہ بھی ہوں تب بھی وہ اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے فکر کرسکتے ہیں او راپنے بچوں کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ پردھان تو خود گریجویٹ تھے لیکن شیخ مقبول نے تو اسکول کی تعلیم بھی پوری نہیں کی اور اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے وہ آٹو چلاتے ہیں۔ جی ہاں قارئین شیخ مقبول شہر حیدرآباد کے رہنے والے ایک آٹو ڈرائیور ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اولاد کی شکل میں چار لڑکیوں سے نوازا ہے۔ شیخ مقبول کی معاشی حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ جب روزآنہ محنت کرتے ہیں تب کہیں ان کے گھر میں اگلے دن چولہا جلتا ہے۔

ایک تو روزآنہ کی جدو جہد، دوسرے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری۔ شیخ مقبول نے ہمت نہیں ہاری۔ حالانکہ ان کی لڑکی جب دسویں جماعت میں پہنچی تو ایک رشتہ آیا کہ لڑکے والے بغیر خرچ کے مقبول صاحب کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کی شادی کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے جب گھر میں اپنی بیوی اور خود بچی سے مشورہ کیا تو یہ نتیجہ نکلا کہ نہیں لڑکی کو پہلے تعلیم پر توجہ دینا چاہیے۔ اتنا ہی نہیں سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالشکور صاحب جو گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول چادر گھاٹ کے ہیڈ ماسٹر تھے اور یہی وہ اسکول ہے جہاں پر مقبول صاحب نے اپنی لڑکی کو حصول تعلیم کے لیے داخلہ دلوایا تھا۔انہوں نے بھی بچی کو آگے پڑھانے کا مشورہ دیا۔ آٹو ڈرائیور اپنی بچی کو خانگی اسکول میں داخلہ نہیں دلواسکتا لیکن مقبول صاحب نے اپنی بچی کی تعلیم کو روکا نہیں۔

بچی پڑھنا چاہتی تھی۔ اس کو اسکول میں اگرچہ وہ سرکاری تھا داخلہ دلوایا۔ اپنا ذاتی آٹو تھا۔ جب وقع ملتا اپنے آٹو میں بچی کو اسکول چھوڑا کرتے تھے۔ ایس ایس سی بورڈ کا امتحان تھا۔ باپ اپنے آٹو میں بچی کو لیجایا کرتے تھے اورماں امتحان ہال کے باہر پورے تین گھنٹے بچی کے لیے دعائیں کرتے گذارتی تھی۔ اس آٹو ڈرائیور کی بیٹی کا نام محمدی بیگم ہے۔ اس غریب کی بیٹی کو جب کنوینرکوٹے کے تحت ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا تو ان کے ہاں فیس ادا کرنے رقم نہیں تھی۔ ایک رفاہی ادارے نے 60ہزار روپئے دیئے لیکن مزید 35 ہزار کی ضرورت تھی۔ ماں نے اپنے پاس موجود سونے کو فروخت کرتے ہوئے 25 ہزار حاصل کرلیے اور پھر مزید 10 ہزار کی رقم اس آٹو ڈرائیور نے کیسے جوڑے وہ کوئی ان سے پوچھے۔ قارئین کرام بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جب تک والدین اپنا خون نہیں جلائیں گے کچھ نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ دعاؤں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ لیکن تقدیر بھی ان ہی کی بدلتی ہے جو محنت میں اور سب سے بڑھ کر خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں۔

ورنہ ہم تو اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر اس لیے بنانا چاہتے ہیں اس پروفیشن میں جانے والے اکثر لوگ مال و دولت آسانی سے کمالیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو خوش حال دیکھنے کی چاہ میں NEET کی بہتر سے بہتر کوچنگ دلانے کے لیے ہم نے بچوں کو صبح چار بجے نیند سے بیدار ہونا تو سکھادیا JEE کی تعلیم کے لیے گھر سے دور ہاسٹل میں شریک کروایا۔ مگر بچوں کو نماز کی اہمیت اور حلال و حرام کی تمیز نہیں سکھلائی اور نہ ان کے دلوں میں ایمان کا سبق بٹھایا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ بچوں کے ہاں اعلیٰ سے اعلیٰ ترین یونیوسٹیوں کے اسنادات تو آگئیں ہیں لیکن ان کے ہاں ایمانیات اور سب سے بڑھ کر انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ مروت اور محنت کے نام سے مشہور شہر حیدرآباد ایک سے زائد اولڈ ایج ہوم کام کر رہے ہیں اور ہر گذرتے دن کے ساتھ ان پر مزید افراد کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ جرائم کی دنیا کا شائد ہی کوئی صفحہ باقی بچ رہ گیا ہے جہاں پر ہمارے نوجوانوں نے اپنا نام درج نہیں کروایا ہو۔ جرائم ہی نہیں بلکہ دنیا کا شائد ہی کوئی ملک باقی بچ رہ گیا ہے جہاں ہمارے نوجوانوں نے حصول روزگار کے لیے اپنے قدم نہ جمائے ہوں۔ذرا سونچئے امت محمدی کے لیے کامیابی کا پیمانہ کیا ہونا چاہیے۔ مگر اصل کامیابی کیا ہے کسی ملک میں قیام کرلینا، کسی ملک کی شہریت حاصل کرلینا، زیادہ سے زیادہ بینک بیالنس جمع کرلینا۔ بہت ساری جائیداد خرید لینا کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ نبی کریمﷺ نے لڑکیوں کو رحمت قرار دیا۔ لیکن ہمارے سماج میں لڑکیوں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک سب پر عیاں ہے۔ اپنی لڑکیوں کے ساتھ خراب سلوک کی تو سب کو شکایت کرتے ہیں اور خود ہم نے اپنے گھروں میں اپنے لڑکوں کو بے جا لاڈ و پیار میں جس طریقے سے تباہ کردیا ہے وہ ہمیں نظر نہیں آتا۔

ہماری بہو کی ہر شکایت بے جا اور ہماری بیٹی کی ذرا سی چھینک بھی بیماری نظر آنے لگتی ہے۔ ہاں ہماری زبانیں ہمارے سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم دعاؤں اور استغفار سے بھرے پڑے ہیں او رایسا تاثر دیتے ہیں کہ ہم سے بڑا کوئی دوسرا اللہ والا نہیں لیکن ہم یہ بھول گئے کہ ہماری بخشش ہمارے ہر عمل سے ہے اور ہر اچھائی و برائی کا جواب دینا ہے اور جواب دہی کے اس عمل سے کسی کو چھوٹا ہو یا بڑا فرار ممکن نہیں کاش کے کوئی سمجھائے۔ نبی کریمﷺ نے ہمیں سورۃ الفاتحہ جیسی دعا سکھائی ہے نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور مصیبتوں پر صبر کرنا سکھلایا ہے اور سب سے اہم بات یہ بتلائی کہ ہم اس دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجے گئے اور اب ہم اپنی مرضی سے اپنی زندگی گذارنے کے لیے آزاد نہیں بلکہ ہمیں ہر قدم پر سانس قرآن و حدیث کی روشنی میں لینی ہے۔بقول ظفر علی خاں خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلینہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے۔ آمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

email :sarwari829@yahoo.com

مضامین

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button