سیاسی و مذہبی مضامین

لبرل ازم اور اسلام کا مختصر تعارف۔۔۔

لبرل ازم اور اسلام کا مختصر تعارف۔۔۔
از قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبیدالرحمان قاسمی بہراٸچی ہےـکو

قارٸین کرام۔
لبرل ازم اور اسلام دو الگ الگ نظریات ہیں۔
دنیا میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے۔جو پاکیزہ تعلیم کا امتیازی پہلوں رکھتاہے۔اوروہ یہ کہ حق وباطل،نیک وبدی،بلندی وپستی کے درمیان صراط مستقیم اورطریق قویم کی نہ صرف نشان دہی کرتا ہے۔بلکہ اس پرچلنے اور بے خطرمنزل مقصودتک پہچنے کا سروسامان بھی فراہم کرتا ہے۔

جس کے پاس ایک مکمل ریاستی نظام ہے۔سیاسی،معاشی،عدالتی،اقتصادی غرض ہر میدان میں اسلامی قوانین موجود ہیں۔

اسی طرح لبرل ازم [liberalism]  بھی ایک نظریہ ہے۔لبرل {liberal} انگریزی لفظ ہے۔جس کے معنی حریت وآزادی کے ہیں۔اسکی ابتدإ اٹلی کی ادبی تحریک سے ہوٸی،جوپورے یورپ میں چودھویں صدی سے لیکر ستر ویں صدی تک پھیلتی رہی ۔

لبرل ازم کابنیادی نقطہ نظر یہ ہے ،کہ کسی بھی ملک کےنظام میں مذہب کا کوٸی عمل ودخل نہیں ہوگا۔بلکہ نظام وقونین انسانی مشاہدات وتجربات کے روشنی تشکیل دٸے جاٸیگے۔کہ ریاست اگر عوام کو شراب پینے کی اجازت دیتی ہے ۔تو کسی مذہب کو اختیار نہیں ہے کہ اس قانون چیلنج کر سکے ۔

انفرادی طور پہ ہر شخص کو ہر قسم کی آزادی ہو گی۔

خواہ وہ کسی مذہب پہ عمل کرے یا نہ کرے ۔مندر جاۓ،چرچ جاۓ،یا مسجد جاۓ،یا کسی بھی مذہب پہ عمل نہ کرے۔

لبرل ریاست میں زنا،سود،شرب نوشی جاٸز ہے ۔اور یہ شخصی زمرے میں آٸیگا۔مذاہب کے متعين کردہ جرائم اطلاق اس پر نہیں ہو گا ۔

قارئين آپ کی توجہ اس طرف بھی ہو ۔
کہ لبرل ازم کا سب بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ دار کو تحفظ دیتا ہے۔جس کی وجہ سے امیر،امیرتر ہوجاتاہے۔اور غریب ،غریب تر ہو جاتا ہے ۔

لبرل ازم میں ایلیٹ کلاس ،بزنس کلاس ،اپرکلاس،مڈل کلاس جیسی ٹرم استعمال کی جاتی ہے ۔یہ طبقاتی تقسیم،احساس کمتری،عوامی روابط کا فقدان اور جرائم کو جنم دیتی ہیں۔

آپ یہ جان کر انگشت بدنداں ہوگے کہ تمام ترقی یافتہ لبرل ممالک ،جراٸم میں سرفہرست ہیں۔چوری ،ڈکیٹی،قتل ،ریپ،غرض ہر جرم میں یہی لبرل ممالک اول درجے پہ ہیں۔

آخر ہم جسے تعلیم یافتہ مہزب معاشرہ سمجھ رہے ہیں۔وہاں جرائم اول درجے پہ کیوں ہے؟

کیا کو ٸی امیر بندہ چوری ،ڈکیٹی کرسکتاہے؟کیا پڑھا،لکھا آدمی قتل وقتال کرسکتا ہے ؟ کیا مہذب معاشرے کی عورت کسی جانور سے شادی  کرسکتی ہے ؟

اگر لبرل ازم معاشرے کو پرموٹ کرتا ،اور عوام کو دماغی سکون مہیا کرتا ،تو یہ جرائم کیوں کر پیدا ہوتے۔

خیر۔۔۔ابناۓ اسلام کیلۓ ضروری ہے کہ وہ ان جیسے باطل نظریات سے پوری طرح واقف ہوں کیوں کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے جس نوعیت علمی صلاحيتوں سے نوازا ہے اس کو استعمال میں لاٸیں،خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچاٸیں۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button