
پانچ برس کی عمر میں نیاز کو جب فرسٹ کلاس میں ایڈمیشن دلایا گیا تو وہ بڑا خوش تھا کہ اب وہ اسکول جائے گا۔ لیکن نیاز کے والدین اس کو صرف اسکول میں شریک کرواسکتے تھے۔ اس کے لیے بُکس اور بیاگ دلانا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ ان سب کے باوجود نیاز بہت خوش تھا۔ نیاز نے اپنے اسکول کی کتابیں خریدنے اور بیاگ لینے کے لیے ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ نیاز اپنے پڑوس میں واقع ایک گھرمیں ملازم کے طور پر کام کرنا شروع کردیا۔ یوں نیاز کے لیے اسکول کی کتابیں بھی اور بیاگ بھی خریدنا آسان ہوگیا۔
یہ کوئی 24 برس پہلے بات ہے۔ ان برسوں کے دوران نیاز کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا نیاز نے تعلیم چھوڑ کر کام کرنا شروع کردیا؟ اور اگر نیاز نے تعلیم حاصل کی تو کہاں تک ترقی کی۔
11؍ اپریل 2021ء کو اخبار دی ٹائمز آف انڈیا نے منگلورو سے خبر دی کہ 10؍ اپریل 2021ء کو منگلور یونیورسٹی کا 39 واں کانووکیشن منعقد ہوا۔ جس کے دوران 117 امیدواروں کو پی ایچ ڈی (Ph.D.) کی اعلیٰ ترین سند سے نوازا گیا۔ ان امیداوروں میں 29 سال کا ایک نوجوان نواز بھی شامل تھا۔ جس نے دیہی مسلم طبقات کی سماجی اور معاشی ترقی میں کو آپریٹیو بینکس کے رول پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
قارئین یہی وہ نیاز ہے جس نے فرسٹ کلاس میں اپنی کتابوں اور بیاگ کا انتظام کرنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کیا تھا۔
اخبار ToI کی رپورٹ کے مطابق نیاز کے والد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں جبکہ نیاز کی والدہ جن کا نام زبیدہ بتلایا گیا ہے بیٹریاں بنانے کا کام کرتی ہیں۔ ان کے جملہ آٹھ اولادیں ہیں، چار لڑکے اور چار لڑکیاں اور نیاز ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ نیاز کا تعلق کرناٹک کے ضلع دکشن کنرٹا کے بل تانگڑی تعلقے سے تھا۔ اس کے مطابق وہ ابتداء سے ہی ایک ٹیچر بننا چاہتا تھا۔ ساتھ ہی اس کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اس کی غریبی ہی اس کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تو اس نے غریبی کو اپنی ترقی کے راستے میں کسی طرح کی رکاوٹ بننے نہیں دیا اور فرسٹ کلاس سے ہی پارٹ ٹائم کام کرنے لگا۔
نیاز کے مطابق اس نے مچھلی فروخت کی۔ میسن کے طور پر کام کیا۔ آٹو بھی چلایا اور ہر طرح کے کام کر کے اپنی تعلیم کے اخراجات خود پیدا کیے، اپنے ہائی اسکول کے دور میں نیازنے کھیتوں میں کام کیا۔ لوگوں کے گھروں میں اخبارات ڈالے۔ نیاز نے St. Agnes College سے ایم کام کی تکمیل کی اور پھر سال 2016ء میں Ph.D میں داخلہ کے بعد تو طلبہ کو اسکالر شپ ملتی ہے تو نیاز نے بتلایا کہ یونیورسٹی کالج منگلور میں پی ایچ ڈی میں داخلہ ملا تو اس کے بعد اس کو بھی دیگر طلبہ کی طرح ماہانہ 25 ہزار کی اسکالرشپ منظور ہوئی لیکن نیاز کے مطابق اس کا مسئلہ یہ تھا کہ یہ اسکالر شپ وقت پر نہیں ملتی تھی اور محنت کرنے والا یہ نوجوان خاموش نہیں بیٹھتا تھا۔ بلکہ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران اپنے مالی اخراجات پورا کرنے کے لیے وہ مچھلی بیچا کرتا تھا اور اس کے علاوہ نیاز کو بطور میسن بھی کام کرنا پڑا۔
کیا اس طرح کے معمولی جاب کرنے سے نیاز کی تعلیم پر بھی کچھ اثر پڑا تو اس سوال کا جواب اخبار Toi نے لکھا کہ نیاز نے اپنا Ph.D. کا کورس مقررہ مدت میں مکمل کرلیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران بھی نوکری کرنے سے نیاز کی تعلیم متاثر نہیں ہوئی۔ کالج کے دوران صبح 7 بجے سے 9 بجے تک آٹو چلاتا تھا۔ پھر کالج جاتا اور شام میں چار بجے سے 8 بجے تک دوبارہ آٹو چلاکر اپنے اخراجات کے پیسے خود جمع کرتا تھا۔ نیاز نے اپنی ایم کام کی تعلیم کے دوران ایک Receptionist کے طور پر لاجس میں بھی کام کیا۔
نیاز کی جدو جہد سے بھری زندگی کا سب سے خوشگوار پہلو یہ ہے کہ آج وہ سرینواس یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہا ہے اور ریسرچ اسکالر کے طور پر ابھی تک 25 سے زائد ریسرچ پیپرس پیش کرچکا ہے۔
قارئین کرناٹک کے نیاز نے ایک مرتبہ پھر سے مثال قائم کی کہ غریب ہونا عیب نہیں لیکن محنت سے جی چرانا اور حالات کا رونا رونا عیب ہے۔ ذرا آپ اپنے اطراف و اکناف کے ماحول کا جائزہ لیجئے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے شہر ، ہمارے اڑوس پڑوس میں بے شمار آٹو چلانے والے مل جائیں گے لیکن یہ لوگ بس آٹو چلانے کا ہی کام کرتے ہیں۔ ان کی صبح اور شام بس ایک ہی ڈگر پر چل رہی ہے۔ نیاز نے بھی آٹو چلایا لیکن آٹو چلانے کو اپنی زندگی کی قطعی منزل نہیں بنایا۔
شکایت کس سے کریں جن کو رہبری کرنا تھا اور جن کا کام اوروں کو راہ دکھانا تھا وہ بھی حصول جنت کے لیے آسان راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اور اس آسان طریقے سے جنت حاصل کرنے کا جو چلن چل پڑا ہے کہ آج کے ماحول میں محنت کرنا مشکل اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا آسان ہوگیا ہے۔
ترکاری فروخت کرنے والا سخت محنت کرتا ہے۔ ہم ترکاری خریدتے وقت فری میں ہری مرچ طلب کریں گے۔ قیمت زیادہ ہے کہہ کر قیمت کم ادا کریں گے۔ آٹو والا میٹر سے زائد طلب کرتا ہے تو حرام کا طعنہ دیں گے۔ لوٹ کا نام دیں گے۔ مگر اس کو کچھ زائد ادا نہیں کریں گے۔
لیبرر مزدوری کا کام کرنے کے بعد کچھ زائد رقم مانگ لے تو اس کے حاندان کو گن دیں گے۔ Swiggy کے ڈیلیوری بوائے کو Tip دینا ضروری نہیں سمجھیں گے اور مسجد کے باہر بیٹھنے والوں، برقعہ پہن کر بھیک مانگنے والوں، لاوڈ اسپیکر لگاکر اپنے معمولی زخموں کو سنگین بتانے والوں کو، بازار میں پھرنے والوں کو آسانی سے پیسے دے کر ہم جنت میں داخلہ کو یقینی سمجھنے لگے۔ جس کے نتیجے میں رمضان المبارک کے ساتھ ہی بہت سارے غیر مستحق، ڈرامہ باز اور کام چور لوگ مسلمانوں کا حلیہ اوڑھ کر یا بناکر یا تو ہاتھ پھیلائے پھرتے ہیں اور محنت کرنے والوں سے ایک ایک روپئے کی بچت کرنے، سر جوڑنے والے ہم لوگ آسانی سے ان لوگوں کے فریب میں آجاتے ہیں۔
اہلان زیراکس، ایک مشہور زیراکس کی دوکان ہے۔ جہاں پر کم قیمت میں زیراکس کے لیے اکثر لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور اس دوکان پر بھیک مانگنے والے بچے، عورتیں اور دیگر لوگ اپنا ایک روپیہ، دو روپئے اور دیگر چلر کو نوٹوں میں بدلوانے کے لیے لاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آدھے دن یا چار پانچ گھنٹوں میں مسجد کے اطراف گھوم کر یہ لوگ کم سے کم دو سو سے تین سو جمع کرلیتے ہیں۔ یہ تو اقل ترین بھیک ہے۔زیراکس کی دوکان پر 10 گھنٹے کام کرنے والا بمشکل 300 روپئے کماتا ہے۔
جب محنت سے انسان جی چرانے لگتا ہے تو اس کو بس ایک ہی دھن سوار ہوجاتی ہے کہ مجھے پیسے کمانا ہے اور یہ پیسہ کمانے کا طریقہ حلال ہے یا حرام اس سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ شہر حیدرآباد کے راجندر نگر علاقے کی پولیس نے 19؍ اپریل کو حیدر علی نام کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں پولیس نے صحافت کو جاری کردہ تفصیلات میں بتلایا کہ 24 سال کے شیخ حیدر علی کی دیڑھ برس قبل شاہانہ بیگم کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔ 2 مہینے قبل حیدر علی کو ایک بیٹا ہوا۔ سنگ دل باپ نے اپنے ہی بیٹے کو 3 لاکھ 80 ہزار میں ٹولی چوکی کے ایک میاں بیوی کو فروخت کردیا۔ شاہانہ بیگم اپنے شوہر کی اس حرکت پر جب پولیس میں شکایت درج کروائی تو پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے ملزم حیدر علی کو گرفتار کرلیا اور اس کے بچے کو بازیاب بھی کرلیا۔
قارئین اس طرح کی خبریں اگرچہ اکا دکا ہی ہوتی ہیں لیکن یہ خبریں سماج میں پھیل رہے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آج مسلمانوں میں محنت کرکے حلال طریقے سے کمانا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ کرونا کے لاک ڈائون نے یقینا ہر ایک کے لیے معاشی مسائل پیدا کیے ہیں۔ لیکن جس بڑی تعداد میں مسلم بچے اور نوجوان تعلیم سے ترک تعلق کر رہے ہیں وہ بڑی تشویشناک بات ہے۔
ہمارے بچوں کے لیے پارٹ ٹائم جاب کرنے کی بات شجر ممنوعہ کیوں بنی ہوئی ہے۔ مشکوٰۃ شریف کی حدیث شریفہ میں دعا سکھائی گئی ہے۔ ائے اللہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم اور پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔
قارئین انگریزی کا مشہور مقولہ ہے کہ
Give a man a fish and he will eat for a day. Teach a man How to fish you feed him for a lifetime.
اگر آپ کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس کو مانگنے کی عادت چھڑا کر محنت کرنے کا راستہ بتائیں اور سکھائیں۔ اللہ رب العزت سے ماہ مبارک میں ہم سب کو یہ دعا بھی مانگنی چاہیئے کہ ائے اللہ حرام بچاتے ہوئے اپنے حلال کے ذریعہ میری کفالت فرما اور اپنے فضل سے دوسروں سے مجھے بے نیاز فرمادے۔ آمین یارب العالمین



