سیاسی و مذہبی مضامین

مابعد کرونا دینی مدارس کو درپیش چیالنجس،محمد مصطفی علی سروری

کوویڈ کے سبب پیدا شدہ ناگہانی حالات نے زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے۔ اس پس منظر میں کویڈ کے ناگہانی حالات کے پروگرام یا سمینار کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ اس طرح کے تجزیہ سے بحران سے باہر نکلنے کے راستے بھی سجھائی دیں گے۔ 
کویڈ کے سبب لاگو کیے جانے ولے لاک ڈائون کے منفی اثرات نے مدارس اسلامیہ پر کس طرح کے اثرات مرتب کیے ہیں ان کے مطالعہ اور تجزیہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان حالات کو سمجھا جائے۔ جب پہلی مرتبہ مرکزی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے مارچ 2020ء کے دوران پہلے تو سنڈے کرفیو لگایا اور پھر ہنگامی حالات میں لاک ڈائون نافذ کردیا۔
لاک ڈائون کے نفاذ کے بعد ہر طرح کی عوامی اور تجارتی سرگرمیوں کو معطل کردیا گیا۔ روڈ ٹرانسپورٹ، ریل ٹرانسپورٹ اور یہاں تک کہ فضائی پروازوں کو بھی معطل کردیا گیا۔ اس لاک ڈائون کا اثر عام آدمی پر تو پڑا ہی ہے۔ بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں یہاں تک کہ حکومتوں کی آمدنی بھی متاثر ہوگئی۔ اس حوالے سے حکومت تلنگانہ کی مثال موزوں ہوگی۔ حکومت تلنگانہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2020کے دوران لاک ڈاؤن کے سبب ریاست تلنگانہ میں بے روزگاری کی شرح 34 فیصد تک جا پہنچی۔
ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش رائو کے حوالے سے اخبار بزنس لائن نے 12؍ جون 2021ء کی رپورٹ میں لکھا کہ ریاست تلنگانہ کو لاک ڈائون لگانے سے 4100 کروڑ کے محاصل کا نقصان ہوا اور ریاست کے خزانہ کی صورت حال اس قدر خراب ہوگئی کہ مارچ 2020ء میں حکومت تلنگانہ نے ریاستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں عارضی کٹوتی کرنے کا اعلان کیا اور پھر مسلسل 6 مہینوں تک تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کو صرف 50 فیصدی تنخواہیں جاری کی گئی۔ 

کیا کویڈ کے ناگہانی حالات نے صرف ریاستی حکومتوں کو متاثر کیا؟

حقیقت تو یہ ہے کہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو کویڈ 19 کے سبب بہت بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے حوالے سے اخبار فینانشیل ایکسپریس نے 19؍ مئی 2021ء کو اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ کرونا کے دوران کویڈ کے سبب اقوام عالم اور ملکوں کی معیشتوں پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی کل قومی پیداوار کی شرح گھٹ کر 4.8 تک پہنچ گئی۔
یہ تو حکومتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کی بات ہوئی اگر ہم معیشت کے انفرادی شعبوں کی بات کریں تو پتہ چلے گا۔ سیاحت، فضائی سفر، اور چلر فروش (یومیہ اجرت اور روزآنہ کاروبار کرنے والے ) کے بشمول ہر ایک شعبہ پر شدید ترین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے تجارتی اداروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن بڑے بڑے اداروں کے لیے اپنے نقصانات کی پابجائی کے لیے وسائل اور باضابطہ سسٹم ہے۔
اب میں دینی مدارس کی کارکردگی پر پڑنے والے کرونا بحران کے اثرات کا تجزیہ کرنا چاہوں گا۔ چونکہ لاک ڈائون کے سبب عام معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ اسکول اور کالجس کے بشمول سبھی تعلیمی ادارے یکلخت بند کردیئے گئے تھے اور آہستہ آہستہ دینی مدارس بھی حکومتی ہدایات کی پاسداری میں بند کردیئے گئے۔ عام اداروں اور عوام کے مقابل دینی مدارس کے مسائل دوہری نوعیت کے تھے۔ اول تو ان کی آمدنی کم ہوگئی یا بالکل بند ہوگئی۔
دوم جو مسئلہ تھا وہ دینی مدارس کے ہاں محفوظ مالی وسائل کا نہ ہونا تھا۔ اس وجہ سے بھی دینی مدارس جو کہ بالکلیہ عوامی عطیات پر انحصار کرتے تھے ان کے مسائل دوسروں سے مختلف اور نہایت سنگین تھے۔ 
جن مدارس کے لیے مستقل اثاثوں کی سہولت جیسے کسی بلڈنگ یا دوسرے کسی ذریعہ سے ملنے والے کرایوں کی آمدنی وغیرہ نہیں تھی وہ دیگر مدارس کے مقابل زیادہ پر یشان تھے۔ جن کے ہاں مستقل آمدنی کے ایسے کوئی ذرائع نہیں تھے۔ 
سب سے پہلے منصوبہ بندی کے فقدان نے نقصان پہنچایا کہ کبھی کسی مدرسہ نے
اس حوالے سے منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی کہ ایک سال ایسا بھی آنے والا ہے جس کے دوران اخراجات بدستور ہوں گے، مگر آمدنی بری طرح متاثر ہوگی۔ دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ دینی مدارس اب اس حوالے سے منصوبہ بندی کریں ۔
کیونکہ اب بعض گوشوں سے اس بات کی پیش قیاسی کی جارہی ہے کہ جب تک پورے ہندوستانیوں کو ٹیکہ اندازی کے تحت کور نہیں کیا جاتا ملک کے ہر شہری کی ٹیکہ اندازی نہیں ہوتی ، تب تک کرونا کی شدید لہریں آتی رہیں گی اور حکومت کرونا کے پھیلائو کو روکنے مختلف اقدامات بشمول اسمارٹ لاک ڈائون لگاتی رہے گی۔ 
سال 2020ء میں لگائے گئے لاک ڈائون کی شدت اس لیے بھی سنگین رہی کہ رمضان المبارک کی آمد سے عین قبل بڑی سختی سے لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں آنا اس لیے بھی مسئلہ رہا کہ عام طور پر اسی مہینے کے دوران دینی مدارس اپنے سال بھر کے مالی اخراجات کا بڑا حصہ جمع کرتے اور مدارس کی امداد کے لیے اپیل لوگوں تک پہنچائی جاتی ہے اور پھر مدارس کے سفیر حضرات بھی اس مہینے میں سفر اختیار کرتے ہیں لیکن سال 2020ء کے رمضان المبارک کے موقع پر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پہلے تو بجٹ ہی جمع نہیں ہوسکا، دوسرا دینی مدارس کے طلبہ بھی اقامت خانوں کا تخلیہ کرنے پر مجبور تھے۔ بہت سارے مدارس میں سالانہ امتحانات ہونے باقی تھے اور عین وقت پر مدارس بند کردیئے گئے۔ طلباء تو گھروں کو بھیج دیئے گئے۔ لیکن مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں معاون عملے کی #تنخواہیں #الیکٹریسٹی کا بل اگر عمارت کرایہ کی ہو تو اس کا کرایہ دینا ضروری تھا۔ لیکن عام عوامی نظریہ کہ طلبہ نہیں ہے تو مدارس بند ہیں اور مدارس بند ہیں تو اخراجات بھی نہیں ہوں گے کا تصور عام تھا۔یوں عطیات کی وصولی پر برا اثر پڑا۔ 
اب عملی طور پر ایک برس ایسا گذر گیا کہ سالانہ #اخراجات کا بڑا حصہ اکٹھا ہی نہیں کیا جاسکا۔ نئے تعلیمی سال کا آغاز عام طور پر #رمضان المبارک کے آس پاس ہوتا ہے تو دینی مدارس کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک برس داخلوں کے لیے دینی مدارس کچھ بھی نہیں کرسکے۔ ہاں ایسے بھی مدارس رہے جنہوں نے پچھلے 18 مہینوں کے کرونا کی وباء کے دور میں اپنے آپ کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور آن لائن طریقہ تعلیم کو اختیار کیا۔
لیکن یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں کہ دینی مدارس میں زیر #تعلیم طلباء کا سماجی اور معاشی پس منظر کس طرح کا ہوتا ہے ایسے میں ہر طالب علم کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ کا دستیاب ہونا عملی طور پر ناممکن بات رہی۔
اب میں ان دینی مدارس کی بات کروں گا جو کہ مختلف اداروں سے یا حکومت سے امداد حاصل کرتے تھے اترپردیش میں نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق 500 سے زائد دینی مدارس ایسے تھے جن کو ریاستی حکومت کی جانب سے امدا ملتی ہے۔ لاک ڈائون کے سبب جب طلبہ مدارس سے چلے گئے، وقت پر نصاب مکمل نہیں ہوسکا تو ایسے میں  ان مدارس کو سرکاری امداد کا برقرار رہنا ایک مشکل امر بن گیا تھا۔
اردو کے بعض اخبارات اور میڈیا گھرانوں نے بھی اس مسئلے پر  آرٹیکل شائع کیے۔ مختلف افراد نے مختلف انداز میں اپنی رائے پیش کی اور اس بات پر سبھی کا اتفاق تھا کہ دینی مدارس سے بچے ضرور اپنے گھروں کو چلے گئے تھے لیکن مدارس کے اخراجات بدستور برقرار تھے۔ لیکن عطیہ دہندگان اور زکوٰـۃ دینے والوں کا بڑا طبقہ اس نقطہ نظر کا حامی تھا کہ جب بچے جو کہ زکوٰۃ کے اصل حقدار ہیں وہی نہیں ہے تو مدارس کو زکوٰۃ بھی نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی ہوگی کہ حکومت سے ہم دینی مدارس کی دوبارہ #کشادگی کی صرف اجازت لے سکتے ہیں۔ مدارس کے #اخراجات کی تکمیل کے لیے حسب سابق روایت ہم مسلمانوں کو ہی آگے آنے کی ضرورت ہے۔
ساتھ ہی طویل مدتی منصوبہ کی ضرورت ہے کہ ایسے اثاثہ جات تیار کیے جائیں۔ ان کی منصوبہ بندی کی جائے جو کہ ناگہانی حالات میں مدارس کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ جب مدارس کے اخراجات لاکھوں، کروڑوں میں بھی عطیات سے پورے کیے جاسکتے ہیں تو ایسے اثاثے جات کیوں نہیں خریدے جاسکتے جن سے مدارس کو ماہانہ، سالانہ آمدنی کی شکل دستیاب ہو۔
مالی معاملات میں جتنی زیادہ ہو شفافیت ہوگی اور باضابطہ آڈٹ کے سلسلہ کو جاری رکھا جائے اور حکومت ہند کے انکم ٹیکس کے قانون کے تحت رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے توجو #عطیہ دہندگان #مدارس کو #عطیات دیتے ہیں ان کو انکم ٹیکس میں اس کی رعایت ملے۔ کچھ ایک ہی مدارس نے اس ضمن میں توجہ دی ہے۔ اس پر غور کرنا ہوگا۔
جب دینی مدارس کے ذمہ دار بڑے #جانور کی #قربانی کا انتظام کرسکتے ہیں تو چھوٹے جانور کی قربانی کر کے اور گوشت کو گھروں تک پہنچاکر کیوں نہ ہدیہ لیا جائے۔ جب دینی مدارس سالانہ کیلنڈر کی اشاعت اور فروخت سے کام چلاسکتے ہیں تو کیوں نہ سبھی دینی مدارس کے طلبہ کو کمپیوٹر لازمی نصاب کے طور پر سکھایا جائے۔ اقامتی دینی مدارس کے وہ طلباء جو لاک ڈائون میں مدارس سے باہر تھے انہوں نے اس عرصے کے دوران کمپیوٹر کی سروس (DTP) وغیرہ کی خدمات کے ذریعہ اپنا جیب خرچ خود فراہم کیا۔ 
مالی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمس کا بھرپور استعمال کرنے کے متعلق غور کرنا ہوگا۔مدارس کے ذمہ داران کے لیے خاص طور پر یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مختصر مدتی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے دوران ان چیالنجس کا خاص لحاظ رکھیں جو کہ #کرونا کے سبب لاحق ہونے والے حالات نے #مدارس کے لیے پیدا کیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ اور خاص کر دینی مدارس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
 

متعلقہ خبریں

Back to top button