محمد مصطفی علی سروری
وجئے کولانگے ایک آئی اے ایس آفیسر ہیں اور اڑیسہ کے ضلع گنجام میں بطور کلکٹر کام کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق 2013 کے بیاچ سے ہے۔ 28؍ اپریل 2021ء کو وجئے کولانگے نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک تصویر شیئر کی۔ قارئین یوں تو بے شمار لوگ ٹویٹر پر تصاویر شیئر کرتے ہیں لیکن جب آئی اے ایس کیڈر کا کوئی آفیسر جو کہ ضلع کلکٹر بھی ہو تصویر شیئر کرتا ہے تو وہ عام لوگوں کے مقابل کئی گنا زیادہ توجہ حاصل کرلیتی ہے۔
تصویر میں ایک نوجوان دواخانہ کے بستر پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر ماسک چڑھا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ پر دوا چڑھانے کے لیے ڈاکٹرس کی سوئی لگی ہوئی ہے اور وہ بڑے ادب کے ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھ رہا ہے۔ اس کے ایک جانب بستر پر کیالکولیٹر اور دوسری جانب رائٹنگ پیاڈ رکھا ہے۔ غرض دواخانہ کا بستر نہیں بلکہ پڑھائی کا ٹیبل بنا ہوا ہے۔
اس تصویر کے ساتھ وجئے کولانگے لکھتے ہیں کہ ’’کامیابی کبھی بھی اتفاقی نہیں ہوتی ہے۔ آپ کے اندر لگن ہونی چاہیے۔ میں نے جب ایک دواخانہ میں کویڈ کے مریضوں کا معائنہ کیا تو مجھے یہ نوجوان نظر آیا جو اپنے CA کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔ آپ کی لگن آپ کی تکالیف کم کردیتی ہے۔ اس کے بعد کامیابی تو صرف ضابطے کی تکمیل رہ جاتی ہے۔‘‘
قارئین ایک ایسے ماحول میں جب کرونا کا قہر چاروں طرف اپنی تباہی پھیلا رہا ہے اور مایوسی کا دور دورا ہے ایسے نوجوان، ایسی خبریں اور واقعات ہمیں درس دیتے ہیں کہ امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سونچ مثبت اور منصوبہ بندی ناگہانی حالات کے لیے ہو تو ہر صورت حال کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔
آرومل گوپال کا تعلق کیرالا سے ہے۔ 25؍ فروری 2010ء کو اس کے ساتھ ایک سڑک حادثہ پیش آیا۔ جس کے دوران وہ اپنی گاڑی سے گرنے کے بعد کوما میں چلاگیا۔ حالانکہ 16 دن کوما میں رہنے کے بعد گوپال کو ہوش تو آگیا لیکن اس کے بائیں بازو کو جو نقصان پہنچا اس کو صحیح کرنے کے لیے گذشتہ 11 برسوں کے دوران اس کی 15 مرتبہ سرجریز کی گئیں۔
قارئین کرام 28 برس کے اس نوجوان نے اس ساری صورت حال کے باوجود حصول تعلیم کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔ آخر گوپال کو اپنی زندگی کے اس سنگین ترین حادثہ سے باہر نکلنے میں کیسے مدد ملی اور کہاں سے ملی۔ قارئین کرام ٹی این ایم ڈاٹ کام نے 30؍ اپریل کو گوپال کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔ تفصیلات کے مطابق گوپال جب لاء کا کورس کر رہا تھا فرسٹ ایئر کے دوران ہی اس کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔
گوپال کی ماں پشپا لتا ایک سرکاری ملازم تھی۔ اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے اس خاتون نے اپنے دفتر کو چھٹی لگادی۔ ابتداء میں تو گوپال کوما میں تھا اور خود ماں کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کب صحت یاب ہوگا۔ 16 دن کے بعد گوپال کوما سے تو باہر نکل آگیا مگر اس کا علاج چلتا ہی گیا۔ ایسے ہی 5 برس بیت گئے۔ ماں نے اس عرصے کے دوران اپنے آفس کو پلٹ کرنہیں دیکھا مگر اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گوپال کا ہاتھ ٹھیک ہوجائے۔ ساتھ ہی پشپا لتا نے اپنے بچے کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے خود بھی لاء کورس میں داخلہ لے لیا۔
جی ہاں ماں چاہتی تھی کہ ایکسڈنٹ کے بعد بچے کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ لیکن بچہ لاء کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور ماں کو لاء کی تعلیم کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ اس لیے اس خاتون نے خود بھی ایک لاء کے اسکول میں ایڈمیشن لے لیا۔
ماں خود لاء کی کلاسس اٹنڈ کرتی اور پھر گھر پر بچے کو بھی پڑھنے میں مدد کرتی۔ گوپال کا علاج بھی چلتا رہا اور گذشتہ 11 برسوں کے دوران اس کی 15 مرتبہ سرجری کی گئی جس کے بعد اس کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو صحیح حرکت دینا ممکن ہوا۔
25؍ اپریل 2021ء کو ایل ایل بی لاء اکیڈیمی، کیرالا کا کانووکیشن ہوا تو اس کے دوران گوپال کا خصوصی تذکرہ کیا گیا کہ کس طرح نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے اس نوجوان نے اپنی تعلیم مکمل کی۔
قارئین کرام اس سارے واقعہ کا اہم پہلو تو یہ ہے کہ ماں اور بیٹے نے اگرچہ ایک ساتھ لاء کی تعلیم حاصل کی لیکن جب امتحان لکھنے کی باری آئی تو ماں نے پورے پرچے نہیں لکھے۔ وہ لکھتی بھی کیسے ایک ہی دن تو دونوں کے امتحانات ہوتے تھے۔ لیکن پشپا لتا نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کا لڑکا سارے امتحان کے لیے اچھی طرح تیاری کرے۔ TNM ویب سائٹ کے مطابق اب جبکہ گوپال نے لاء کا کورس کامیاب کرلیا اور پشپا لتا بھی سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہوچکی ہے تو وہ لاء کے باقی امتحانات لکھنے کی منصوبہ بند ی کر رہی ہے۔
پریشان کن حالات اور مشکلات ہر دوسرے فرد کو پیش آتی ہیں لیکن ان سے نکل باہر آنے کے لیے حوصلہ اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ھدیٰ حامد کی عمر 21 سال تھی جب اس کے والد کا اچانک انتقال ہوگیا۔ ھدیٰ اس وقت یونیورسٹی کے دوسرے سال میں تھی۔ اس کے والد کنسٹرکشن کی ایک کمپنی چلاتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد وہ کمپنی اس کے دوسرے پارٹنر یعنی ھدیٰ کی ماں کے نام میں منتقل ہوگئی لیکن ھدیٰ کی ماں کو کاروبار کا اور کمپنی چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ھدیٰ کی ماں کی وہ کمپنی دیوالیہ ہوگئی اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ان لوگوں کو اپنا فلیٹ بھی چھوڑ دینا پڑا۔
ھدیٰ چار بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ وہ لوگ اپنی ماں کے ساتھ رشتہ داروں کے پاس رہنے لگے۔ لیکن ایک کے بعد دیگر سب رشتہ داروں کی سرپرستی ختم ہوگئی۔ تب کہیں جاکر ھدیٰ کو احساس ہوا کہ معاشی طور پر دوسروں پر انحصار کرنا صحیح نہیں ہے اور ھدیٰ نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر سوچنا شروع کیا۔
ھدیٰ کے پاس ایک کیمرہ تھا سو اس نے اسی کیمرے کے ساتھ فوٹو گرافی شروع کردی کیونکہ ھدیٰ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہتی تھی۔ ایک کیمرہ اور ایک MacBook کے ساتھ سال 2014ء کے رمضان میں ھدیٰ نے جو سفر شروع کیا اس کے بعد اس نے دوبارہ پلٹ کر نہیں دیکھا۔آج ھدیٰ کی Corporate Content Marketing کمپنی ہے۔ ھدیٰ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ایک فلیٹ میں رہنے لگی ہے۔ گذشتہ چھ برسوں کے دوران ھدیٰ نے اپنے پیروں پر خود کھڑے ہونے کے بعد ایک کارخیر بھی شروع کیا۔
چیانل نیوز ایشیاء سے بات کرتے ہوئے ھدیٰ نے بتلایا کہ اگر میری والدہ کو کاروبار کی کچھ بھی بنیادی معلومات ہوتی تو وہ اپنے شوہر کے کاروبار کو سنبھال سکتی تھی۔ ھدیٰ نے کہا کہ میری ماں کی کہانی کوئی الگ کہانی نہیں ہے بلکہ پورے ایشیاء میں ایسی کئی خواتین ہیں جو کاغذی طور پر اپنے شوہر کی بزنس پارٹنر ہیں اور قانونی طور پر شراکت دار ہیں لیکن جب ان کے شوہر چلے جاتے ہیں یا گذر جاتے ہیں تو کاروبار اور کمپنی چلانے کی ذمہ داری عورتوں کے سرپر آنپڑتی ہے۔چونکہ وہ لوگ کاروبار کی الف ب سے واقف نہیں اس لیے ناکام ہوجاتی ہیں۔
اس لیے اب ھدیٰ نے جو کارخیر شروع کیا ہے اس کے تحت وہ خواتین کو کاروباری گُر سکھانے لگی ہیں۔ اس نوجوان خاتون کا کہنا ہے کہ کاروبار اور بزنس کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ بہت سارا سرمایہ چاہیے بلکہ کاروبار کے لیے اصل میں کام کرنے کی چاہت ہونی چاہیے۔ھدیٰ نے زندگی کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا اور آگے بڑھ کر اپنے پیچھے جو لوگ مشکلات کا شکار بن سکتے ہیں ان کے لیے راحت پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔
حالات کے ستم جھیل کر بھی ھدیٰ نے نہ تو رشتہ داروں کا شکوہ کیا اور نہ ہی خدا سے شکایت کی کہ ہمارے ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ آج بھی جب وہ چیانل نیوز ایشیاء کو انٹرویو دے رہی تھی تو اس کے سر پر اسکارف تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زمانہ کی مشکلات کا بہانہ بناکر اس خاتون نے دین سے بھی دوری اختیار نہیں کی۔
ھدیٰ کا تعلق سنگاپور سے ہے اور بانگلہ دیشی ماہر معاشیات محمد یونس کا قول دہراتے ہوئے وہ کہتی ہے:’جب ایک آدمی بزنس کرتا ہے اس کا بزنس ترقی کرتا ہے اور جب ایک خاتون بزنس کرتی ہے تو اس کی پوری کمیونٹی خوشحال بنتی ہے۔‘‘اس برس مارچ میں Young Entrepreneurs Global Programme (YSE Global)، سنگاپور کی جانب سے جن لوگوں کو فاتح قرار دیا گیا تو ھدیٰ حامد بھی ان میں شامل تھی۔ ھدی حامد نے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بعد اپنی ادھوری تعلیم کو دوبارہ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(بحوالہ CNA.com ۔ 27؍ اپریل 2021)
قارئین کرام حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں اللہ رب العزت کی ذات پر ایمان رکھنے والوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیشہ روشنی فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو غنیمت جان کر اگر ہم قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کو سمجھنے کی بھی کوشش کریں اور تربیت کے اس مہینے کی اہمیت کو سمجھیں تو حالات کا سامنا کرنے کے لیے ایک نیا حوصلہ، نئی امید مل سکتی ہے۔
ورنہ اس مرتبہ بھی خدانخواستہ رمضان المبارک کا مہینے کیلنڈرکے ایک مہینے کی طرح نہ گذر جائے۔ دعا کیجئے گا اپنے لیے اور سب کے لیے کیونکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ اور کوشش کیجئے گا کہ رمضان کا یہ مہینہ صرف جسمانی عبادت کا نہیں بلکہ اعلیٰ روحانی منازل طئے کرنے کا بھی مہینہ بن جائے۔ کیونکہ ہم مسلمانوں کو رب سے ڈرنے کی تعلیم دی گئی کرونا سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ماہ مبارک کی برکت سے ہم سب کو ہدایت کا سامان فرمادے۔ آمین یارب العالمین۔



