
14؍جون 2021ء پیر کی رات تھی۔ شہر #حیدرآباد میں غیر معمولی بارش ہو رہی تھی۔ رات کے 9 بج چکے تھے اور رات کا کرفیو بھی لگا ہوا تھا۔ ایسے میں کنگ کوٹھی کے رہنے والے رابن مکیش کو چائے پینے کی چاہت ہوئی۔ رابن نے اپنا فون اٹھایا اور پھر فون پر زوماٹو کے ذریعہ چائے بک کی اور اب انتظار کرنے لگے کہ یہ چائے کب ان کے پاس پہنچے گی۔
نیلوفر دواخانے کے پاس واقع مشہور #ہوٹل سے چائے آنا تھا۔ فون پر دیکھا تو مکیش کو پتہ چلا کہ ان چائے لانے کے لیے ڈیلیوری بوائے مہدی پٹنم سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور وہاں سے وہ لکڑی کا پل پہنچ کر نیلوفر ہوٹل سے چائے لے کر کنگ کوٹھی پر مکیش کے گھر پہنچتا ہے۔ مکیش کو پہلے تو تھوڑا سا تعجب ہوا کہ ان کی چائے کے لیے نوجوان مہدی پٹنم سے کیوں آرہا ہے۔ لیکن ان کے فون پر بتلا رہا تھا کہ ان کی چائے #ڈیلیوری کرنے والے جوان کا نام عقیل ہے۔ وہ ایک اسٹوڈنٹ ہے، وغیرہ۔
خیر سے تھوڑی ہی دیر میں مکیش کو فون آگیا۔ ڈیلیوری بوائے نے اطلاع دی کہ وہ مکیش کے ایڈریس پر گھر کے باہر کھڑا ہوا ہے۔ مکیش جب گھر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک نوجوان جس کے چہرے پر داڑھی بھی ہے پانی میں بھیگتا ہوا کھڑا ہے اور چائے کا پارسل لایا ہے۔ مکیش کو تعجب ہوا تو اس نے پوچھا کہ تمہاری گاڑی کہاں ہے تو عقیل نام کے ڈیلیوری بوائے نے بتلایا کہ سر میرے پاس تو گاڑی نہیں ہے میں اپنی سائیکل پر فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا ہوں۔
یہ جواب سن کر مکیش کو اور تعجب ہوا کہ انہوں نے اس محنت پسند نوجوان کے ساتھ ایک سیلفی لینا ضروری سمجھا اور پھر اس سیلفی کو اپنے فیس بک کے پیج پر شیئر کردیا کہ کس طریقے سے محمد عقیل نے سائیکل پر تیز رفتار سواری کرتے ہوئے پہلے تو مہدی پٹنم سے لکڑی کا پل تک سفر کیا اور وہاں سے کنگ کوٹھی تک کا سفر کیسے پورا کیا اور ان کو گرما گرم چائے پہنچائی۔
14؍ جون 2021 ء کو نیلوفر کی گرما گرم چائے پی کر مکیش نے رات 11:10 بجے اپنے فیس بک پیج پر محمد عقیل سائیکل کے ساتھ فوٹو شیئر کی۔ رابن کے اس پوسٹ کو اندرون چند گھنٹے 10 لوگوں نے #شیئر کیا اور پھر چند دنوں میں رابن مکیش میڈیا کے سامنے ہیرو کے طور پر انٹرویو دیتے ہوئے نظر آرہے تھے کہ جیسا کہ رابن مکیش نے بتلایا کہ انہوں نے جب عقیل کے محنت کے جذبہ کو دیکھا تو اس وقت انہوں نے عقیل کی مدد کرنے کا تہیہ کرلیا تھا لیکن رابن کے ہاں صرف مدد کرنے کا جذبہ اور نیت تھی۔
عقیل کی خواہش تھی کہ وہ بھی ایک گاڑی خرید سکے تاکہ وہ فوڈ ڈیلیوری کا کام بہتر طور پر انجام دے کر اپنی اور اپنے گھر والوں کی مدد کرسکے۔ رابن بس عقیل کی اسی خواہش کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ پھر اس نے روی کانت ریڈی سے اس بات پر مشورہ کیا۔ روی کانت ریڈی کون ہے یہ بھی جان لیجئے۔ روی کانت ریڈی کا تعلق بھی شہر حیدرآباد سے ہے اور یہ ایک فیس بک کا گروپ The Great #Hyderabad Food and Travel Club کے نام سے چلاتے ہیں۔
رابن مکیش کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے روی کانت ریڈی نے اپنے فس بک کے گروپ کے تعاون سے محمد عقیل کو ایک گاڑی دلانے کا فیصلہ کیا اور اپنے گروپ کے ممبران سے عطیہ دینے کی اپیل کی۔ ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں نے صرف اپیل کی بلکہ اپنی طرف سے بھی عطیہ دینے کی پہل کی اور صرف بارہ گھنٹوں کے دوران ہی فیس بک کے ان دوستوں نے 70 ہزار سے زائد کی رقم جمع کرلی۔
رابن مکیش نے لوگوں سے مدد کرنے کی اپیل کیسے کی۔ وہ بھی جان لیجئے۔ انہوں نے اپنی اپیل کو اس طرح کی سرخی لگائی۔ Let’s All become rich by helping poor. آیئے #غریبوں کی مدد کرتے ہوئے امیر بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ دور کے نوجوانوں کے لیے عقیل کی زندگی ایک مثال ہونی چاہیے جس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت کے راستے پر چل کر اپنی اور اپنے گھر والوں کی مدد کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔
لوگوں سے مدد مانگنے سے پہلے رابن مکیش نے خود اپنی جیب سے پانچ ہزار روپئے اس کار خیر میں دینے کا اعلان کیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے محمد عقیل کون ہے یہ بھی جان لیجئے کہ محمد عقیل پرانے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے۔ ایک بھائی اور تین بہنوں کے خاندان میں محمد عقیل کے والد واحد کمانے والے فرد ہیں اور وہ معمولی کام کرتے ہیں۔
جبکہ عقیل محنت کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھا ہوا ہے اور انجینئرنگ کے سال سوم میں زیر تعلیم ہے۔ ذرا اس محنتی نوجوان کے واضح ارادوں کو دیکھ لیجئے، اس سے پوچھا گیا کہ اگر تمہیں ٹو وہیلر دلوا دی جائے تو تم کونسی ٹو وہیلر لینا پسند کرو گے تو محمد عقیل نے بالکل واضح لفظوں میں بتایا کہ وہ TVS XL پسند کرتا ہے کیونکہ اس گاڑی کا مائیلیج اچھا ہے اور زیادہ کچھ خرچہ بھی نہیں ہے۔
یوں صرف 12 گھنٹوں میں رابن مکیش اور روی کانت ریڈی نے محمد عقیل کے لیے پیسے جمع کیے اور پھر چند دنوں میں محمد عقیل کو ایک نئی گاڑی دلوادی۔ محمد عقیل کی محنت نے رنگ دکھایا۔ رابن مکیش اور روی کانت کی ہمدردی نے مدد کا راستہ کھولا اور اب محمد عقیل پہلے سے زیادہ فوڈ آئیٹم ڈیلیوری کر رہا ہے اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر والوں کا بھی ہاتھ بٹا رہا ہے۔
شہر حیدرآباد کی یہ وہ تصویر ہے اور ایسی خبر ہے جو ریاستی میڈیا سے لے کر قومی میڈیا تک چھائی رہی۔
ایک داڑھی والے مسلم #نوجوان کی مدد کا ایک کرسچن نوجوان نے ارادہ کیا۔ پھر ایک ہندو نوجوان نے اس کام کو آگے بڑھایا اور پھر بہت سارے غیر مسلم حضرات نے یہ جاننے کے بعد بھی محمد عقیل مسلمان ہے۔ محمد عقیل کے چہرے پر داڑھی ہے ان لوگوں نے نقد رقم دی اور یوں 70 ہزار سے زائد کی رقم جمع ہوگئی۔ اس واقعہ نے شہر حیدرآباد کی اس #تاریخی گنگا جمنی تہذیب کی دھندلی ہوتی ہوئی تصویر میں ایک مرتبہ پھر سے رنگ بھردیا جہاں پر سابق حکمراں نواب میر عثمان علی خاں ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھوں سے تعبیر کیا تھا۔
اور جہاں تک سبق کا تعلق ہے تو ایک واضح اور بالکل صاف صاف سبق ہے کہ محنت کرنے والے ہی دنیا میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ذرا سونچئے کتنے نوجوان ایسے ہیں جو اپنے گھر والوں سے صرف اس لیے ناراض ہیں لڑتے ہیں کہ ان کے گھر والے انہیں گاڑیوں میں ڈلوانے پٹرول کے پیسے کم دیتے ہیں۔ کتنے نوجوان اپنے والدین سرپرستوں سے یہ شکایتیں کرتے نہیں تھکتے کہ اگر ان کو ٹو وہیلر گاڑی دلائی جاتی تو وہ بھی فوڈ ڈیلیوری کا کام کرسکتے ہیں۔
محمد عقیل کے پاس نہ تو گاڑی تھی اور نہ کچھ، بس سائیکل تھی اور کچھ نہیں تھا تو وہ بے کار کے بہانے نہیں تھے۔ محمد عقیل نے سائیکل کو بھی غنیمت جانا اور اسی کو اپنی محنت کے راستے کا کانٹا نہیں بنایا بلکہ آگے بڑھنے کا وسیلہ بنایا۔ محمد عقیل کئی لحاظ سے خوش قسمت ہے اور سمجھ دار بھی۔ خوش قسمت اس لیے کہ اس کی محنت لوگوں کو نظرآگئی اور سمجھ دار اس لیے کہ اگر وہ کوئی لاکھ دیڑھ لاکھ کی گاڑی کی فرمائش کرتا تو شائد لوگ شک کرنے لگتے کہ اب یہ محنت سے زیادہ اسٹائل کے پیچھے پڑا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک عقیل کی کہانی ہے اب ذرا یہ بھی پڑھئے ۔
دیانکر مونڈل کی عمر 40 سال ہے۔ وہ مغربی بنگال کے 24 پرگنہ گائوں سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی نوکری کولکتہ میں ہے۔ وہ تو پہلے ٹرین کے ذریعہ کولکتہ آتا جاتا تھا لیکن کویڈ 19 کے سبب جو لاک ڈائون نافذ ہوا تو ٹرینیں بند ہوگئیں اور مونڈل کے لیے مسئلہ پیدا ہوگیا کہ وہ کیا کرے۔ اس کی نوکری خانگی تھی اور چونکہ الیکٹریشین کا کام بدستور جاری تھا اب مونڈل نے بجائے گھر پر ہی بیٹھے رہنے کے جنوبی پرگنہ 24 سے روزآنہ سائیکل پر کولکتہ تک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔
مئی جون کی تپتی دھوپ میں پینے کے پانی کی باٹل ساتھ لیے اور سائیکل چلاتے ہوئے 50 کیلو میٹر آنے 50 کیلو میٹر واپس جانے کا سفر طئے کر رہا تھا۔ 21؍ مئی 2021ء کو اخبار ید ٹیلیگراف نے Lockdown: Electrician Cycle 100 KM a day for work in summer sun کی سرخی کے تحت خبر شائع کی۔ اگر دیپانکر مونڈل سائیکل پر کام کو نہیں جاتا تو اس کی ماہانہ گیارہ ہزار کی تنخواہ رک جاتی تھی۔
مونڈل دراصل ایک کنٹراکٹر کے ہاں ملازم ہے جہاں پر کنٹراکٹر نے ایک خانگی بینک میں لائٹ کے Maintenance اور جنریٹر کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور مونڈل کو اسی کام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔مونڈل کے گھر پر اس کے ضعیف ماں باپ، بیوی اور دس سال کی ایک بیٹی ہے۔ جن کی ذمہ داری اس پر ہے۔ پچھلے برس کے لاک ڈائون میں جب اس نے بجائے سائیکل پر آفس جانے کے گھر پر ہی رہنا پسند کیا تو دو مہینے تک اس کو کافی مالی مشکلات پیش آئی تھیں۔
اس لیے اس مرتبہ مونڈل نے سائیکل سے روزآنہ 100 کیلومیٹر کی مسافت طئے کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی مدد آپ کا راستہ ڈھونڈ نکالا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مدد اس کی کرو جو محنت کرے۔ ورنہ مانگنے والے تو پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں۔
قارئین کرام مدد کیجئے گا مگر محنت کش لوگوں کی۔ نوجوانوں کو ترغیب دلانے اب کوئی آسمانی مخلوق آنے والی نہیں ہے۔ کیا آپ نے اپنے حصے کی شمع روشن کی۔ آیئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو ہر طرح کی محتاجی سے محفوظ رکھے اور محتاجوں کی مدد کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



