سیاسی و مذہبی مضامین

مودی حکومت :بدتر حکمرانی کے سات سال

urdu duniya اردو دنیا پوسٹرمودی حکومت کے گزشتہ سات سالوں کا موازنہ اگر کسی سے کیا جا سکتا ہے تو شاید لال بہادر شاستری کے راج کے پہلے سال سے۔ برائے کرم حیران نہ ہوں۔ خارجہ پالیسی (کَچھ کے ریگستان) میں ہماری شرمناک شکست، ہندی زبان تھوپے جانے کے ایشو پر ہندوستانی ریپبلک سے الگ ہونے کی زبردست دھمکی دے رہا جنوبی ہندوستان، درآمد تیل اور ضروری سامان پر ہمارا انحصار، چین کی ایفرو-ایشیائی ملکوں کا دادا بننے کی کوششیں اور اعلیٰ قیادت کو خود اپنی ہی پارٹی کے کچھ پرانے مضبوط لیڈروں سے مل رہے تلخ چیلنج، یہ سب آج کے ضمن میں بھی کافی ملتے جلتے ہیں۔

فرق یہی ہے کہ ہند-پاک جنگ کے ساتھ مختصر مہینوں میں ایک پرسکون، لیکن ہیرو بن کر ابھرے شاستری جی کے دور نے ان کے آخری مہینوں کو روشن کر دیا تھا۔ لیکن کرناٹک کے تازہ معاملہ کو دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کہیں 2019 کے عام انتخابات کو پارٹی کی (اور اس سے بھی زیادہ خود اپنی) پہچان بچانے کی خاطر حدود طاق پر رکھ کر ایسی آر پار کی لڑائی نہ شروع کر دیں جس کی ایک چھوٹی شکل کرناٹک انتخابات میں دیکھنے کو ملی۔سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بہت کم بولتے ہیں،

لیکن جب بولتے ہیں تو اسے اُستاد رجب علی خاں صاحب کے الفاظ میں ’بوڑھے کی بڑبڑاہٹ‘ سمجھ کر فراموش کرنے کی جگہ غور سے سننا چاہیے۔ کیونکہ پرانے دانشور کی دماغی گہرائیوں سے کبھی اچانک نایاب نظریاتی موتی ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ یاد کریں، ایک بار منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ بی جے پی کےسرکردہ لیڈر کا وزیر اعظم بننا تباہناک ثابت ہوگا۔ کیا ان کو مستقبل کا پہلے سے کوئی اندازہ تھا جب انھوں نے نوٹ بندی کو ملک کی کھلی لوٹ قرار دیا تھا؟ کیا وہ ظاہر کر رہے تھے کہ ابھی عوام کی ملکیت اور آئینی حقوق کی لوٹ کی ایک پوری ’تھیسارس‘ کے نہ جانے کتنے صفحات مزید کھلنے ہیں؟

اتر پردیش کے ضمنی انتخابات اور کرناٹک انتخابات کے بعد این ڈی اے حکومت کے دور کے دو تہائی حصہ کا پہلے ایک تہائی سے فرق نظر آنے لگا ہے۔ 2014 کا انتخابات لڑتے ہوئے اور پھر حکومت کے پہلے برس تک بی جے پی نے اپنے اور آر ایس ایس کے اندرونی اختلافات کو کنارہ ڈال کر کئی نئے قدم اٹھاتے ہوئے پرانے راج سماج کی تمام سوچ اور اداروں کو بدعنوان اور ناکارہ بتا کر کئی شروعاتوں کی ایک زبردست مہم چھیڑی تھی۔

سوچھ بھارت، بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ سے شروع ہوئی نئی باتونی رفتار کئی لوگوں کو اس وقت تک بڑی دَمدار معلوم ہوئی تھی۔ 14 گھنٹے کام کرتے ہوئے پردھان سیوک نے وزراء کے ساتھ خوب میٹنگیں کیں۔

سرکردہ نوکرشاہی سے تعمیری نظریہ والی بحثوں کی تفصیلات جاری ہوئیں۔ پھر منریگا، نریگا بن گیا، پلاننگ کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ آیا، نوجوان بے روزگاروں میں ہنرمندی بڑھانے کو اسکل ڈیولپمنٹ وزارت بنا۔ اور ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے بیرون ملک اسفار کی تصویر بھی کافی رنگارنگ، باتونی اور گرمجوشی بھری معلوم ہونے لگی۔ اپنی حلف برداری تقریب میں عالمی لیڈروں کو دعوت دینے کے بعد لگاتار بیرون ملکی سفر کرتے ہوئے نئے وزیر اعظم نے عالمی سیاست میں بھی کافی سرخیاں بٹوریں۔ پہلے راج بھونوں میں بند کمروں کی سیاست چلتی تھی اور آخری دن مشترکہ بیان جاری ہوتے تھے۔ اب ان اسفار کے دوران بڑے بڑے ہال بک کرائے جانے لگے جہاں خود وزیر اعظم تقریباً ایک کرشماتی راک اسٹار کی طرح ہندوستانیوں کی جذباتی بھیڑ کو خطاب اور مسحور کرتے تھے۔

عالمی میڈیا میں لگاتار پیش کیے گئے ان پروگراموں میں وزیر اعظم بالکل نئے کردار میں دنیا کو ’میک اِن انڈیا‘ اور ہندوستانی سیاحت کے لیے سیلس مین بن کر چھائے۔ لیکن دوسری طرف خود ہندوستان میں میڈیا سے وزیر اعظم جی اور کابینہ کا بے تکلف اور لگاتار ڈائیلاگ بند ہوتا گیا۔ بے تکلف تو دور، تکلفی ملاقاتوں کی جگہ بھی مشینی وزارتی بریفنگ یا کبھی کبھی حکومت کے شیدائی منتخب صحافیوں سے تقریباً یکطرفہ اور اسپانسر محسوس ہوتی ہوئی ملاقاتوں نے لے لی۔

جب ریاستی انتخاب آئے تو اس ڈائیلاگ کی کمی سے ناراض میڈیا کے بے خوف حصہ نے پوچھنا شروع کیا کہ پارٹی کے کئی بے نام پرچارک بلا روک ٹوک زہریلے، متنازعہ فرقہ وارانہ بیانات، بھڑکاؤ مار پیٹ سے ووٹ بینکوں کا پولرائزیشن کیوں کر رہے تھے، تو ایک عجیب خاموشی چھائی رہی۔ پھر اچانک میڈیا میں (خاص کر ٹی وی خبریہ چینلوں میں) پرانی ادارتی ٹیموں کو پھینٹ کر پرانے سوال پوچھنے کو بے چین لوگ ہٹائے گئے اور نئے (تقریباً نامعلوم) مدیر رکھ لیے گئے جن کے اداریے ہرچند تعریفی کلمات بیان کرتے تھے۔

پیغام واضح تھا۔ اتر پردیش انتخاب اس نئے طرز کا آئینہ بنے۔ تشہیر کے دوران برسراقتدار پارٹی کے امیدوار کو کہیں دور رکھ کر آچاریہ درون کی طرح خود وزیر اعظم نے محاذ سنبھالا اور میڈیا میں سرکاری اشتہارات پر خوب خرچ کرنے کے ساتھ اپوزیشن کے وزیر اعلیٰ امیدواروں کے خلاف عوامی ریلیوں میں (اکثر حیران کرنے والے ذاتی قسم کے بارود سے بجھے) اسلحوں کی جھڑی لگا دی۔ اتر پردیش اور شمال مشرق ریاستوں میں اس فارمولے کی دھواں دھار جیت ہوئی تو اس کے بعد وہاں اسی طرز میں کام کرنے والے لیڈر وزیر اعلیٰ تعینات ہوئے۔

اقلیتوں، نوجوان طلبا، دلتوں اور استحصال کی شکار خواتین کو لے کر عجیب ذہنیت، سلوک اور سرکاری مشینری کے استعمال کا طریقہ سامنے آتا رہا ہے، جس طرح قانون متنازعہ انکاؤنٹروں کا فخر کے ساتھ پبلک میں اعلان کیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ریاستوں میں جمہوری اداروں اور پولس انتظامیہ کا استعمال لگاتار فکر پیدا کرتا ہے۔پھوٹ پر مبنی تشہیر کا شمال ہندوستانی فارمولہ جنوب میں بھی اختیار کیا گیا۔ وہاں خشک سالی سے متاثر کسانوں یا غیر قانونی کانکنی اور جنگل کاٹنے کے سوالوں کو حل کرنے کی جگہ ان ریاستوں کے تمام ذاتیاتی، فرقہ وارانہ، جنسی اور لسانی اختلافات کو اُبھار کر ایسی بحث چھیڑ دی گئی کہ سارا ہلاہل اور امرت سطح پر آ گیا!

اچانک کچھ خود اعلانیہ لوگ عوامی اخلاقیات کے ٹھیکیدار بنے جنوب پنتھی دستوں نے ریاست میں کھلے نظریات کے حامی دانشوروں، لیفٹ طلبا اور میڈیا اہلکاروں پر ہی نہیں، نوجوان جوڑوں پر بھی لگاتار حملے کیے۔ لیکن ان کے خلاف بھی اوپر سے روک ٹوک کی جگہ بانٹنے والی کوشش ہی سامنے آئی۔ پھر دلتوں کو سرعام بے عزت کیا گیا اور ان پر مظالم کرتے ہوئے کئی زہریلے ایشوز مثلاً ذات پر مبنی جنگ کو ابھار کر سماج کے پانی میں آگ لگایا جانا شروع ہو گیا۔

جب جواب میں متحد اپوزیشن نے بھی مٹھوں، مندروں، مسجدوں کی معرفت ہندو اتحاد کی دوسری مہم شروع کی تو پہلے سے خوفزدہ مسلم برادری اور زیادہ حساس ہو گئی۔ اس نے فرقہ واریت کی جو آگ ملک بھر میں بھڑکائی، اس کے خوفناک نتائج ہم کو کرناٹک، اتر پردیش، ہریانہ، بہار، تلنگانہ اور کشمیر تک دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اور ملک کی تمام پارٹیاں کسی بھی قیمت پر اکثریت حاصل کرنے کو مجبور ہو رہی ہیں۔ اس کا ایک بڑا خطرناک ’کو-پروڈکٹ‘ کئی پارٹیوں میں بڑے مشکل کشا طاقتوروں کا وہ اُبھار ہے جو انتخابات کو تشدد اور لوٹ پاٹ سے لیس کسی دور وسطیٰ کے ’تانترک رسم‘ میں بدل رہا ہے۔

یہ سب عام ووٹر کے ذہن میں خوف اور نفرت بھرے گا، مستقبل کے تئیں عقیدت نہیں۔ اسی طرح انتخابات لڑے گئے تو سوال یہ نہیں کہ 2019 میں تاج کس پارٹی یا گٹھ جوڑ کو ملے گا بلکہ یہ ہے کہ راشٹرپتی بھون میں جس بھی پارٹی یا گٹھ جوڑ کا ’راج تلک‘ ہوگا اسے جو ملک ملے گا وہ کتنا قابل حکومت اور جمہوری بچا ہوگا؟

متعلقہ خبریں

Back to top button