میاں حق کو دباؤگے اور کیسے کیسے؟
حافظ مجاہد الاسلام عظیم آبادی
منتظم البروج انٹرنیشنل اسکول پٹنہ واَونرروح حیات سینٹر (یوٹیوب)
کتنا افسوس ہوتا ہے نا اس وقت جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ملک کو اچانک سے جمہوریت کے نام پر کلنک کہا جانے لگے، اچانک سے دنیا والوں کی نظروں میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہ رہے اور دنیا والے بار بار ایک ہی سوال کر رہے ہوں کہ کیا یہی ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ہیں؟
جی ہاں میں بات کر رہا ہوں کسان آندولن کی، حکومت ہند نے کس کس طرح سے اس احتجاج کو ناکام بنانے کی کوشش نہیں کی؟ سب سے پہلے تو ان کسانوں کو خالصتانی کہا گیا، پھر انہیں راہ سے بھٹکا ہوا بتلا گیا اس کے بعد بھی جب کسان پیچھے نہیں ہٹے تو انہیں غدار وطن قرار دیا گیا، حد تو تب ہوگئی جب اس پورے آندولن کو برباد کرنے کیلیے حکومت نے یوم جمہوریہ کو ایک سازش رچی اور کسان ٹریکٹر پریڈ میں اپنے غنڈوں اور کچھ ایسے نام نہاد پنجابیوں کو اپنے ساتھ کیا جو حکومت کے تلوے چاٹتے ہیں اور پوری طرح سے کسان آندولن کو بدنام کرکے رکھ دیا مگر وہ کہتے ہیں نا کہ حق کو تم چاہے جتنا دبا لو یہ ابھر کے واپس آتا ہی ہے اور کسان آندولن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،
جس احتجاج کو حکومت نے بند کروانے کیلیے سب کچھ جوکھم میں ڈال دیا اسی احتجاج کو کسانوں نے پھر سے سجایا اور جیسے ہی کسانوں کو خبر پہونچی کہ دیپ سدھو نامی شخص جس نے لال قلعہ پر کسانوں کا جھنڈا لہرایا تھا وہ شخص بی. جے. پی کی انگلیوں پر ناچ رہا تھا اور جو کچھ بھی دہلی میں ہوا وہ ایک بنی بنائی سازش تھی ویسے ہی ملک بھر سے کسان ایک جُٹ ہونے لگے اور لاکھوں کی تعداد میں غازی پور اور دہلی کے بارڈر پر اپنے کسان بھائیوں کا ساتھ دینے کیلیے نکل پڑے،
ایک طرف جہاں کسان اپنے احتجاج کو دوبارہ راہ پر لانے میں لگے تو ادھر ہی حکومت ہند اپنا پاسہ پلٹتا ہوا دیکھ کر بوکھلا گئی اور دہلی میں انٹرنیٹ بند کر دیا، اب یہ تو حد ہی ہوگئی تھی، انٹرنیٹ بند کی خبریں عام ہونی لگیں اور رفتہ رفتہ اس چنگاڑی نے تیزی پکڑی اور صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا تک یہ خبر پہونچ گئی کہ حکومت ہند کسانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے،
اتنا سننا تھا کہ ہالی ووڈ کی بڑی بڑی اداکارائیں جن کا مقابلہ ہماری یہ نام نہاد بالی ووڈ اداکارائیں کبھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں ٹویٹ کرنا شروع کیا، جب امینڈا سرنی، گریٹا تھنبرگ، امریکی نائب صدر کی بھتیجی مینا ہیرس نے ٹویٹ کیا تو لوگوں کو زیادہ فرق نہیں پڑا.
مگر جیسے ہی دنیا کی سب سے مالدار اور شہرت یافتہ گلوکارہ رہانا نے ٹویٹ کیا(جس کے ٹویٹر پر 100 ملین سے زائد فالورز ہیں اور جو 600 ملین ڈالرز یعنی 4400 کروڑ روپے سے بھی زائد کی مالکن ہے) ویسے ہی حکومت ہند کے پیروں تلے زمین کھسک گئی،
اب صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگ کسانوں کی حمایت میں ٹویٹ کرنے لگے اور پھر آخرکار حکومت نے پریشان ہو کر ایک نوٹس جاری کیا جس میں صاف طور پر انہوں نے ذکر کیا کہ ’’کوئی بھی ودیشی اس معاملے میں کچھ نہ بولے اور اگر بولنا چاہے تو پہلے پوری تحقیقات کر لے‘‘ جبکہ رہانا نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ’’ہم کسان آندولن کے بارے میں بات کیوں نہیں کر رہے؟‘‘ لیکن حکومت کی بوکھلاہٹ بھی جائز ہے
کیونکہ ٹویٹ کسی ایرے غیرے نے نہیں کیا تھا بلکہ دنیا کی مانی جانی شخصیت نے کیا تھا، اور ہوا وہی جسکا اندیشہ تھا، اس سرکاری نوٹس کے سپورٹ میں حکومت کے تلوے چاٹنے والے سامنے آ گئے، اور سچن تندولکر، وراٹ کوہلی،اکشئے کمار، سنیل شٹی اور بھی مانے جانے کھلاڑیوں اور اداکاروں نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم ایک وطن کے رہنے والے ہیں، مصیبتیں آتی رہتی ہیں،
ہم اپنے مسائل خود حل کر سکتے ہیں، کسی بھی باہری کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے‘‘ واہ بھئی واہ، کیا ہی کہنے ہیں، اتنے دنوں سے جب کسان لاٹھی کھا رہے تھے، جب ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے، جب دہلی کی کڑکتی سردی میں وہ بیچاری بوڑھی مائیں سڑکوں پر اپنا دم توڑ رہی تھیں اس وقت یہ لوگ کہاں تھے؟
ارے کچھ تو شرم کرو،مانا کہ حکومت کے ٹکڑوں سے ہی تمہارا گھر چلتا ہے مگر ’’حق‘‘ اور ’’سچ‘‘ نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے، (میں یہ ذکر کرتا چلوں کہ سچن تندولکر اور وراٹ کوہلی وغیرہ کی خدمات یقینا ملک کیلیے بہت اہم ہیں مگر میں ان کا ویسا فین نہیں ہوں کہ غلط باتوں میں بھی ان کا ساتھ دوں) وہی کہتے ہیں نا کہ اپنوں سے بہتر تو غیر ہیں جو غموں اور پریشانیوں کو بہتر سمجھتے ہیں، اور ان تمام لوگوں سے میرا ایک سوال ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے‘‘کونسا اندرونی معاملہ؟
کسان آندولن اندرونی معاملہ کیسے ہوگیا؟ اچھا، اگر کسان آندولن اندرونی معاملہ ہے جس پر ودیشیوں کو کچھ بولنے کا حق نہیں تو اس حساب سے تو تمہیں بھی امریکہ کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے تھی جب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس پر کچھ شرپسندوں نے دھاوا بولا تو اس وقت تو تم نے دخل اندازی کی اور shame on America’s democracy کے نعرے لگائے تو اس وقت کیا ان کا یہ اندرونی معاملہ نہیں تھا؟ جب Black life matters پر حادثے ہوئے تو اس وقت بھی تم نے خوب بولا اور بحث کیا،کیا یہ ان کا اندرونی معاملہ نہیں تھا؟
یہ دوغلے بازی نہیں تو اور کیا ہے؟ کہ ہم ان کے معاملات میں بول سکتے ہیں مگر جب وہ ہمارے معاملات میں بولیں تو ’’یہ ہمارا اندوری معاملہ‘‘ہو جاتا ہے، کیسی جمہوریت ہے یہ؟ کیا جمہوریت کا یہی تقاضا ہے؟ حد تو تب ہوگئی ہے جب گودی میڈیا اور اندھ بھکتوں نے یہ جھوٹی افواہ پھیلانی شروع کی کہ رہانا اور وہ تمام ودیشی جو کسانوں کی حمایت میں ٹویٹ کر رہی ہیں
ان سب کے سب نے ٹویٹ کرنے کے پیسے لیے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ ان کی اس حرکت پر ہنسوں یا غصہ ہوں، مطلب ان کے حساب سے جو اداکارائیں ملین ڈالرز کی مالک ہیں وہ ٹویٹ کرنے کیلیے پیسے لیں گی،اور اگر کسی ایک کے بارے میں یہ بات کہی جاتی تو مان بھی سکتے تھے مگر سب کے بارے میں ایک ہی افواہ کے پیسے لیکر ٹویٹ کی ہیں، یااللہ، ان کی عقل گھٹنوں میں ہے یا وہ بھی نہیں ہے؟
ذرا خود سوچیں کہ ایک لڑکی جو چھ سو ملین ڈالرز کی مالکن ہے وہ ایک ٹویٹ کرنے کیلیئے پیسے لے گی؟ اور اس کا ثبوت کیا ہیکہ اس نے پیسے لئے؟ بس عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کچھ بھی بول دو کچھ بھی دکھا دو، افسوس ہے ان کی اندھی تقلید پر، کل رات بھر ٹویٹر پر گودی میڈیا نے #rihanaexposed #grekathunbergexposed کے نیوز دکھائے اور ہیش ٹیگس ٹرینڈ کروائے ، مگر جنتا اتنی بھی پاگل نہیں ہے جتنا یہ بیوقوف سمجھتے ہیں،
الٹا اسی تلوار سے کاٹے گئے اور پھر #IStandWithFarmersکے ہیش ٹیگس ٹرینڈ ہوئے اور لوگ سمجھ گئے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، پوری دنیا آج ہند پر ہنس رہی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا جو نعرہ ہے ’’جئے جوان جئے کسان‘‘اسی نعرے کی حکومت پامالی کر رہی ہے اور جوانوں و کسانوں کو آپس میں لڑا رہی ہے، اگر یہ ہمارا اندرونی ہی معاملہ ہے تو حل کیوں نہیں ہوا اب تک؟ رائیتا پھیلایا حکومت نے تو اسے صاف کون کریگا؟
اب بھی وقت ہے حکومت کے پاس اس سے پہلے کہ انٹرنیشنل افئرس اس معاملے میں دخل اندازی کرے حکومت کو کسانوں کی بات سن لینی چاہیے ورنہ جب انٹرنیشنل افئرس کی دخل اندازی ہوگی تو پھر اس وقت نہ حکومت ہند کچھ کر سکے گی اور نہ ہی ان کے چمچے۔ آپ بھی اپنی آواز اٹھائیں اور کسانوں کی حمایت میں #IStandWithFarmers کا استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کریں
تاکہ حکومت کو سمجھ آئے کہ ہم ان کے غلام نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے خادم ہیں، ہم نے انہیں اپنے اوپر حکومت کرنے کیلیے نہیں چنا ہے بلکہ ہم نے انہیں چنا ہے تاکہ وہ ہماری خدمت کریں۔ ایسے ہی نہیں کہا جاتا کہ ہمارا بھارت مہان ہے۔



