سیاسی و مذہبی مضامین

  ” کیا جینا اسی کا نا م ہے "

الطاف عطاء اللہ خان ، مدرس 

   

” کیا جینا اسی کا نا م ہے ” 
ہم پیدا ہوئے جئے اور بس مر گئے ، ہمارے پیدا ہونے سے کسی کو ناتو خوشی نہ کوئی غم پتہ ہے کیوں ، کیونکہ ہم نے ایسا کوئی کام ہی نہیں کیا جس سے اوروں کو ہمارے جینے اور مرنے سے کچھ حاصل ہو ، ہم تو بس ساری زندگی اپنے لئے ہی جیتے رہے۔ یاد رکھیئے بہت آئے اور چلے گئے لیکن نام انھیں کالیا جاتا ہے جنھوں نے اوروں کے لئے اپنی قربانیاں پیش کی چاہے پھر وہ وقت کی ہو ، پیسے کی ہو یا پھر جان کی ہو ۔ ہم زندہ ہے ایک مردے کی طرح جوزنده تو ہے پر احساس نہیں کچھ لوگ تنہا رہنے کو ترجی دیتے ہے یا یوں کہیے کہ اپنے آپ میں مغن کسی سے کچھ لینا نہ کچھ دینا ، سوچو اگر ہمارے پورخوں نے یہی زندگی کا طرز عمل اپنایا ہوتا تو دنیا کا حال کیسا ہوتا کیا سچ میں ہم ترقی کرتے یا پھر جنگلوں میں بھٹکتے پھرتے ، انسان سماجی جانور ہے سماج سے لین دین اور سماجی تعلق ایک فطری عمل ہے ۔ کیاہم سماج کے بغیر زندہ رہے سکتے ؟ نہیں بلکل نہیں ہم سماج میں رہتے ہوئے اپنے ہی فائدے کی سوچتے ہے اور سماج سے فائدہ اٹھاتے ہے ، سماج کے لئے کیا کیا اس کے بارے میں ہم قطعی فکر مند نہیں ہے ، بس میں اور میرا پریوار یہی میری دنیا اور یہی میری زندگی بس اسی سوچ سے ہمارے زندگی کی گاڑی کا سفر جاری ہے اور شاید مرتے دم تک جاری رہے گا یہ زندگی کا سفر ہماری موت کے ساتھ تھم جائے گا پیدا ہوئے ، جیئے اور مر گئے نہ دین کے کام آئے اور نہ دنیا کے ، یہی آج ہماری حقیقت ہیں "میرے تجربہ کی ڈائری سے "

الطاف عطاء اللہ خان ، مدرس 
( سلیم اردو ہائی اسکول ، شیونہ اورنگ آباد)

متعلقہ خبریں

Back to top button