
ایک بیٹی کا نکاح کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر سے وداعی لینا ایک فطری عمل ہے جو زندگی کا حصہ ہے۔اس عمل سے ماں باپ اور ایک بیٹی کے ذہن اور نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ صرف اور صرف ماں باپ ہی محسوس کرتے ہیں جسکا اظہار سواے آنسوں کے بہنے اور چہرہ کی جھریوں کے اور کوءی دوسری صورت میں نہیں ہوسکتا۔ایک بیٹی کی اٹھارہ تا بیس سال اپنی آنکھوں کے سامنے پرورش کرنا اور آگے کی ازدواجی زندگی کی خاطر یکلخت اپنے گھر چاہے وہ ایک جھونپڑی ہو یا ایک شاہی محل سے وداع کرنا بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے
اگرچیکہ زمانہ جاہلیت سے لیکر آجکے دور جدید میں بھی ایک بیٹی کی پیدایش پر انسانی چہروں پر خوشی کی کمی سامنے آی تھی اور آرہی ہے جسکا انکار ایک جھوٹ ہوگا ۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہیکہ ایک ماں باپ اپنی لخت جگر کو اپنے گھر سے وداع کرنے پر اندر سے بری طرح ٹوٹ جاتے ہیں جو اوروں کیلیے محسوس کرنا ناممکن ہے۔
ایک بیٹی کے گھر سے وداع ہونے پر ماں باپ کا سینہ تار تار ہوجاتا ہے اور وہ اندر ہی اندر چیخ چیخ کر روتے ہیں جسکی آواز صرف اللہ ہی سنتا ہے جسکا سننا انسانوں کے بس کی بات نہیں اور ماں باپ کے بے تحاشہ بہنے والے آنسوؤں کو بھی صرف اللہ ہی دیکھتا ہے۔یہ آنسوں ایک جانب ماں کے ڈپٹے میں جذب ہوتے ہیں تو دوسری جانب رات کی تاریکیوں میں باپ کے سراہنے کے تکیے میں جذب ہوتے ہیں۔ان آنسووں کے بہنے سے انسان کا دکھ کم ہوجاتا ہے جو اللہ کی جانب سے ایک نعمت ہے ورنہ انسان سینے میں چھپے اس دکھ کی وجہ سے مر ہی جاتا۔
ایک بیٹی کے گھر سے جدا ہونے پر ماں باپ ایسا محسوس کرتے ہیں جیسا ایک نہایت ہی باریک کپڑا کانٹے دار جھاڑیوں کے درمیان سے کھینچا جارہا ہو۔
اس بچھڑنے کی تکلیف کو ایک بیٹی بھی بڑی حد تک محسوس کرتی ہے پر زندگی تکمیل کرنے کیلیے اس کیفیت سے گذرنا لازمی ہوتا ہے۔
ماں باپ وہ ہستیاں ہیں جو اپنی بیٹی کی ہنسی میں ہنسی محسوس کرتے ہیں اور اسکے رونے پر دل ہی دل میں روتے ہیں جسکا انکی آنکھوں سے بہنے والے خاموش آنسووں سے پتہ چلتا ہے۔یہاں ایک بیٹی کے دکھ بھرے آنسوں ماں باپ کے ان آنسوؤں سے کم نہیں ہوتے مگر وہ آگے کی زندگی جینے کی خاطر سہی جاتی ہے۔
گھر سے وداعی کے بعد ماں باپ اپنی بیٹی کی ہر سانس اور دھڑکن کو بہت قریب سے محسوس کرتے ہیں اگرچیکہ درمیان میں فاصلے ہوتے ہیں۔یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہیکہ ماں باپ دل کی کس گہراءی سے اپنی بیٹی کو چاہتے ہیں وہ گھر پر رہنے والی بیٹی کبھی نہیں محسوس کرپاتی۔چاہت کا یہ احساس قدرت کی ایک نعمت ہے جسکا مزہ اسکے چکھنے والے کو ہی آتا ہے۔
"تیری جداءی کا غم آنسوؤں سے دھولیں گے:
کہیں بھی جاکے اکیلے میں خوب رولیں گے”
جہاں تک ایک باپ کی اسکی بیٹی سے محبت کا تعلق ہے ہمیں ہمارے آخری رسول محمد صلعم کی اپنی لخت جگر فاطمہ رض کو چاہنے کے عمل کو یاد کرنیکی ضرورت ہے۔آپ ص جب بھی اپنی بیٹی سے ملتے سب سے پہلے اپنی بیٹی کی پیشانی کو چومتے۔جب کبھی بیٹی فاطمہ رض آپ ص کے گھر تشریف لےجاتیں تو آپ ص اٹھ کھڑے ہوتے اور بیٹی کی پیشانی کو چومتے۔
یہاں فاطمہ رض کی اپنے والد رسول صلعم سے محبت کا اندازہ کرنا ہوتو اس حالت پر غور کرنیکی ضرورت ہے کہ جب دشمنان اسلام نے نماز کی حالت میں آپ ص کی گردن پر جانور کی اوجھڑی رکھ دی تب فاطمہ رض بلا خوف و خطر آگے بڑھکر اس اوجھڑی کو ہٹایا اور اپنے والد محترم کو راحت پہونچایں۔حضور صلعم نے یہ بھی کہا ہیکہ جو کوءی میری بیٹی کو تکلیف دیگا مجھے تکلیف دینے کے مماثل ہے۔
پھر کیوں آج ایک شوہر اپنی بیوی کی خوشی اور غم کو محسوس کرنے میں ناکام ہے؟ جبکہ اسکی بیوی کسی کی بیٹی ہوتے ہوے سب کچھ چھوڑکر اپنے شوہر کے گھر باقی زندگی تکمیل کرنے کیلیے آتی ہے۔کیوں ایک شوہر ایک ماں باپ کی چہیتی بیٹی پر ذہنی و طبعی ظلم ڈھاتا ہے؟ کیوں اسکو ایک نوکرانی سمجھتا ہے ؟کیوں اسکو اپنے ماں باپ کی خادمہ سمجھتا ہے؟کیا اسطرح کے برتاؤ کو اپنی بیٹی اور بہن کیلیے برداشت کرسکتا ہے ؟
کیا یہ شوہر اور بھاءی ایک بیٹی کے باپ بننے اور اپنی بہن کی شادی کے بعد اسکے گھر سے وداع ہونیکی بعد ہی اپنی ظالمانہ نیند سے بیدار ہوگا جبکہ بہت دیر ہوچکی ہوگی بلکہ وقت ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا اور خود کو ایک وقت کے ظالم کی صف میں کھڑا پایگا۔اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے ظلم کے نتیجہ میں اس فانی دنیا میں سزا تو پایگا ہی اور آخرت کی زندگی میں بھی سزا پانے کے لیے تیار رہنا ہوگا جس پر یقین ہی ہے۔
اے بیوی کے شوہر جو اپنے آپ کو مرد کہتا ہے تو ہوش میں آ اور اپنی مردانگی بیوی اور بچوں کی بہتر نگہداشت و پرورش میں دکھا جو مذہب اسلام میں ایک عبادت کا درجہ رکھتی ہے یہ یقینا تجھے یہاں کے بعد کی زندگی میں ہمیشہ کا سکون اور خوشی دیگی۔
حاصل گفتگو یہ ہیکہ جسطرح ایک بیٹی کو ماں باپ پیار دیتے ہیں جو انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے اسی طرح ایک شوہر یعنی مرد پر بھی لازم ہیکہ اپنی بیوی کو انسانی پیار و محبت دے جو ایک عبادت کا مقام رکھتی ہے بجاے ایک وحشی درندہ بنکر کسی کی بیٹی پر ظلم ڈھانیکے۔
حد تو یہاں تک ہوگءی کہ چند انسانی شکل کے درندے معصوم بیٹیوں کو اپنی جنسی حوس کا شکار بھی بنارہے ہیں جبکہ اسطرح کی حرکت سے جانور بھی دوری اختیار کرتے ہونگے۔کیا ایک مرد ایک بیٹی کے باپ بننے کے بعد ہی اپنی درندگی سے باز آیگا یا پھر اللہ کی غیبی مار کے بعد ہی اسکے ظلم کی آنکھ کھلیگی۔
یہاں ساس اور نندوں کے ایک بہو اور بھاوج کے ساتھ کے برتاؤ کا ذکر نہ کرنا ایک بیٹی کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔یہ امر بھی واضح ہیکہ ساس اور نندوں کا ظالمانہ برتاؤ کءی ایک بہوؤں کو طلاق کی کھاءی میں ڈھکیل رہا ہے تو کچھ خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں بلکہ بسااوقات قتل بھی کیے جارہے ہیں۔کب یہ ظلم بند ہوگا؟کیا ان ساس اور نندوں کی بیٹیوں اور بہنوں پر اسی طرح کے ظلم کے بعد ہی آنکھ کھلیگی۔افسوس!
اللہ دنیا کی ہر بیٹی کی حفاظت کرے اور اسکو اپنے شوہر اور خاصکر ساس اور نندوں کا پیار نصیب کرے جسطرح ایک ماں کھل کر اور باپ دل ہی دل میں پیار کرتے ہیں۔آمین۔
اظہار احساس :- ایس۔ایم۔عارف حسین۔اعزازی خادم تعلیمات۔مشیرآباد



