تلنگانہ کی خبریں

انسانیت ابھی زندہ ہے! مسلمانوں نے کوویڈ سے فوت غیرمسلم خاتون کی آخری رسومات کے انتظامات کئے

فوت
” ہم تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتے ” متوفی خاتون کی تین بیٹیوں نے مسلم نوجوانوں کی خدمات کو خراج پیش کیا

تانڈور۔(یحییٰ خان؍ایس این بی)ریاست کے بھینسہ ٹاؤن سے ایک معمولی واقعہ کو فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل کرتے ہوئے املاک کی تباہی اور امن و امان کو لہولہان کرنے کی اطلاعات جاری ہیں فرقہ پرستی کی آگ اور ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت کا ماحول اس طرح گرم کردیا گیا ہے کہ اس کا خمیازہ دونوں جانب کے غریب اور متوسط طبقے کے عوام کر بھرنا پڑتا ہے۔

فوت

کاروباری اداروں اور مکانات کیساتھ ساتھ غریب طبقہ کے آٹو رکشاؤ ں کو آگ کی نذر کرکے انہیں بیروزگار اوربے یار و مددگار کردیا جاتا ہے جنہیں دوبارہ اپنا آشیاں اور کاروبار کا ذریعہ پیدا کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں ظاہر ہے یہ سارا کھیل حقیرسیاسی مفادات کیلئے کھیلاجاتا ہے!!

فوت

چند فرقہ پرست طاقتیں اور میڈیا کا ایک مخصوص گوشہ صبح سے رات تک اور رات سے صبح تک اپنی زہریلی سوچ کے ذریعہ ایک مخصوص مذہب اور اسکے ماننے والوں کیخلاف زہر اگلتا رہتا ہے اور انکے خلاف برادران وطن کے ذہنوں میں نفرت کے زہرمیں پیدا کیے گئے بیج بوتے ہوئے انسانیت کو نوچنے والے انسان نماء یہ گدھ انسانوں کو مذہبی خانوں میں بانٹنے اورملک کی ہندو۔ مسلم بھائی چارگی کے درمیان بلند دیوار کھڑی کرنے میں مصروف ہیں ۔

لیکن دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کہ آج بھی دونوں جانب بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو ملک اور انسانیت کی دشمن ان مکروہ طاقتوں کے درمیان امن اورانسانیت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اس ملک کے صدیوں پرانے امن و بھائی چارگی ، دستور ، سیکولرازم اور قوانین کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

ایسا ہی ایک نظارہ اس وقت ضلع محبوب نگر کے کوسگی میں نظرآیا جب تانڈور یوتھ ویلفیئر کے مسلم نوجوانوں نے ایک کورونا وائرس سے متاثرہ غیر مسلم خاتون کی موت کے بعد تمام احتیاطی اقدامات کیساتھ اس غیر مسلم خاتون کی آخری رسومات کی ادائیگی میں متوفی کے خاندان کی مدد کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور اسلام اورمسلمان ہرگزویسے نہیں ہیں جیسا کہ اس ملک کے میڈیا کا ایک بڑا گروپ اور فرقہ پرست جماعتوں کے قائدین روز میڈیا اورسوشیل میڈیا کے ذریعہ اسکی غلط تصویر پیش کرتے ہیں اورانکے خلاف روز ایک نیا زہریلاپروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔

کوسگی کی ساکن اس 60 ؍سالہ خاتون کی کوروناوائرس سے موت کے بعد اس کے لواحقین نے تانڈور یوتھ ویلفیئر کے اسوان شریف سے ربط قائم کرتے ہوئے خاتون کی ہندو رسم و رواج کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی میں تعاون کی گزارش کی۔جس کے فوری بعد سید کمال اطہر کی ہدایت پر تانڈور یوتھ ویلفیئر کے ارکان محمد شوکت قدیم تانڈور،محمد عرفان علی اندرانگر، اصغرحسین شاہی پور، نذیر احمد ایمبولنس سرویس اور حافظ توفیق نے تانڈور سے 35 ؍ کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرتے ہوئے ضلع محبوب نگر کے کوسگی پہنچے اور اس خاتون کی نعش کو وہاں کے شمشان گھاٹ تک منتقل کرتے ہوئے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے متوفی کے افراد خاندان کو سونپ دیا۔

مولانا سہیل احمد عمری نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دنوں بھی اسی خاندان میں کوویڈ سے متاثرہ ایک فرد کی دؤران علاج حیدرآباد کے گاندھی ہسپتال میں موت ہوگئی تھی تو بلدی عملہ کی مدد سے وہیں بالاپور میں آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں۔ تاہم اسی خاندان کی اس خاتون کی موت کے بعد لواحقین نے تانڈور یوتھ ویلفیئر سے رابطہ کرتے ہوئے آخری رسومات کی انکے مقام کوسگی میں ادا کرنے میں تعاون کی درخواست کی اور ہمارے تیقن کے بعد ہی نعش کو گاندھی ہاسپٹل سے کوسگی لانے کا فیصلہ کیا گیا ۔

اس خاتون کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد اس کی تینوں دختران نے اپنی نم آنکھوں کیساتھ یہ کہتے ہوئے ٹیم کا شکریہ ادا کیا کہ "ہم تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتے”۔ کاش یہ منظر وہ لوگ دیکھ پاتے جو محض اپنی نچلی سطح کی سیاست کیلئے دن رات اپنی زہریلی تقاریر کے ذریعہ عوام کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں !!

جبکہ دو دن قبل ہی تانڈور یوتھ ویلفیئر کی جانب سے پدیمول منڈل کے موضع اندور میں کوویڈ سے فوت ایک 65؍سالہ مسلم خاتون کی تجہیز و تکفین بھی انجام دی گئی ۔ سید کمال اطہر نے اس سلسلہ میں شوکت قدیم تانڈور، عرفان علی اندرا نگر، اصغر حسین شاہی پور،نذیر احمدایمبولنس سرویس اور حافظ توفیق شاہی پور کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ان ارکان کا یہ تعاون جاری رہے گا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ سال کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے تانڈور یوتھ ویلفیئر کی ٹیم تانڈور کے علاوہ قریبی مقامات میں کوروناوائرس سے متاثر ہوکر فوت ہونے والوں کی میتوں کی تغسیل، تجہیز اور تدفین جیسے فرضِ کفایہ کو بحسن خوبی اور بلاء خوف و خطر پورے وقار و احترام اور تمام احتیاطی اقدامات کیساتھ انجام دینے میں مصروف ہے۔اور اب تک تانڈور یوتھ ویلفیئر کی ٹیم زائد از 35مسلم میتوں کی مکمل تجہیز و تکفین اور 10؍سے زائد برادران وطن کی آخری رسومات کی ادائیگی میں تعاون کرتی آئی ہے۔ تانڈور یوتھ ویلفیئر کے ذمہ داران سید کمال اطہر اور مولانا سہیل احمد عمری نے بتایا ہیکہ ان کاموں میں مصروف تانڈور یوتھ ویلفیئر کی ٹیم کو اس بات سے اچھی طرح واقف کروادیا گیا ہے کہ غیرمسلم حضرات کی اس سلسلہ میں مدد کرتے وقت صرف اور صرف انسانی ہمدردی ہمارے پیش نظر ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کی کسی بھی مذہبی رسومات کا ہم ہرگز حصہ نہ بنیں۔

تانڈور یوتھ ویلفیئر کی اس انسانی جذبہ کے تحت کی جارہیں خدمات کی مسلمانوں کیساتھ ساتھ برادران وطن میں بھی ستائش کی جارہی ہے کہ کوویڈ سے فوت ہونے کے بعد خود خوفزدہ قر یبی خونی رشتہ دار تک نعشوں سے دور رہتے ہیں تو ایسے میں تانڈور یوتھ ویلفیئر کے ذمہ داران اور ان کی ٹیم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button