سیاسی و مذہبی مضامین

26/جنوری،، یوم جمہوریہ،، کیوں منایاجاتاہے؟؟؟

26/جنوری،، یوم جمہوریہ،، کیوں منایاجاتاہے؟؟؟
ازقلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبیدالرحمان قاسمی بہراچی۔
قارئین کرام۔

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،
ایک 15/اگست دوسرا 26/جنوری جس میں ملک کا آئین نافز ہوا۔
ڈاکٹر بھیم را امبیڈکر کہ صدارت میں 29/اگست1947/کوسات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کوملک کے موجودہ قانون مرتب کرنے میں 2/سال11/ماہ اور18 دن لگے۔

بالآخر 26/جنوری 1950/کواس نےقانون کو لاگوکرکے پہلا یوم جمہوریہ منایاگیا،اس طرح ہرسال 26/جنوری کےدن جشن منایاجانےلگا۔

بہار وجشن کایہ دن بہت ہی قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں نصیب ہوا،کہ جب18/ویں صدیں میں مغلیہ سلطنت کےزوال سےانگریزوں کوعروج ملا۔

اسی دوران ظلم وبربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئی،جس کا ہر صفحہ ہندوستانیوں کےخون سےلت پت ہے،جزبہ آزادی سے سرشار،سرپرکفن باندھ کروطن عزیز اور اپنی تہذیب کی بقاءکیلے بےخطرآتش افرنگی میں کودنےوالوں میں مسلمان صف اول میں تھے۔

انڈیاایک آزاد جمہوری حیثیت سےوجود میں آیا جس میں تمام شہریوں کیلے سماجی،معاشی،سیاسی،لسانی، آزاد خیال،اظہاررا، آزاد مذہب،انفرادی تسخص کو یقینی بنایاگیا،اورملک کی سالمیت ویکجہتی کوقام ودام رکھنے کاعہد لیاگیا۔
26/جنوری اسی مساوی دستور پر ناز کرنے کیلے جشن جمہوریت مناکر شہیدان ملک،آئین کے بانیین ومرتبین کو خراج عقیدت ومحبت کی جاتی ہے۔

لیکن قارئین کرام۔
جشن جمہوریت کی یہ بہار یونہی نہیں آئی بلکہ جمہوری نظام لانے اور انگریزی تسلط ختم کرنے کی داستان بڑی دلخراش ہے۔جب پورے ملک پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا،تواس پرفتن درو میں شاہ ولیٕ اللہ محدث دہلوی کےبیٹے شاہ عبدالعزیزدہلوی نےپوری جرأت وبیباکی کےساتھ فتوای جاری کیاکہ ہندوستان دارالحرب ہوگیاہے،اس فتوےکی روشنی میں علمإ سرپرکفن باندھ کر کھڑے ہوے۔سیداحمد شہیدؒاورشاہ اسماعیل شہیدؒ کی قیادت میں جنگ لڑی گی اور یہ دونوں حضرات1831/کوبالاکوٹ کی پہاڑی پر جام شہادت نوش کیا۔

1857/کوشاملی کے میدان میں انگریزوں خلاف جنگ ہوئی،جس میں حاجی امداداللہ مہاجرمکی کی قیادت میں مولاناقاسم نانوتویؒ،مولانارشیداحمد گنگوہیؒ،مولانامنیرؒ وحافظ ضامن شہیدؒ شامل ہوے۔
یہاں تک ایک ہندومرخ میوارام گبت کے بقول 1857/میں پانچ لاکھ مسلمانو کو پھانسیاں دی گی۔
30/می 1866/کواکابرین امت نے ملک کی بقإ اور انگریزوں کے ذریعہ پھیلاے جانے والے ذہنی ارتداد کے دفاع کیلے دیوبند میں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی جوآگے چل کر دارالعلوم دیوبند کے نام سے مشہور ہوا۔

1878/میں اسی درسگاہ کےایک فرزند مولانا محمودحسن دیوبندی،انگریزوں کیلے مسلسل درد سر بنے رہے۔
1885/میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد ڈالی گی۔
1909/میں جمعیالانصارکےنام سے ایک تنظیم قام ہوی، جس کے پہلے ناظم مولانا عبیداللہ سندھی منتخب ہوے۔
1911/یا 12/میں مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ سے الھلال اخبار کے ذریعہ آزادی صور پھونکا۔
1915/میں ریشمی رومال تحریک چلی۔
1916/میں ہندو مسلم اتحاد کی تحریک چلی۔
1919/میں دہلی میں خلافت کانفرس کااجلاس ہوا اسی جلسے میں جمعی علمإہند کی تشکیل ہوئی جس کے پہلے صدر مفتی کفایت اللہ ؒ منتخب ہوے۔

1921/میں مولانا حسین احمد مدنی نے کراچی میں پوری جرأت کے ساتھ اعلان کیا کہ گورنمنٹ برطانیہ کی اعانت اور ملازمت حرام ہے۔

1922/ہندومسلم ختم کر نے کیلے انگریزوں نے شدھی اور سمنگھٹن تحریکیں شروع کیں جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹے۔
1926/کو کلکتہ میں جمعیت کے اس جلسے میں جسکی صدارت مولانا سید سلیمان ندوی نے کی مکمل آزادی کی قرار دار منظور ہوئی۔
1929/یا30/میں گاندھی جی نے ڈانڑی مارچ اور نمک ستیہ گرہ چلائی ۔
1935/میں حکومت ہند کا ایک دستور بنایا گیا۔
1939/میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔
1942/میں انگریزوں ہندوستان چھوڑوں تحریک چلی ۔
بالآخر ان سب قربانیوں کے بعد انگریزوں کے ناپاک سایہ سے 15/اگست 1947 کو ملک آزاد ہوگیا۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button