

کرسمس تماشائے جہنم ہے، یہ منائے وہ جو جہنم چاہے!
استاد البروج انٹرنیشنل اسکول پٹنہ واَونر روح حیات سینٹر (یوٹیوب)
کچھ دنوں قبل کی بات ہیکہ میری ملاقات ایک عیسائی سے ہوئی، وہ بڑے ہی پرتپاک انداز میں مجھ سے ملا، میں نے موقع کو غنیمت جانا اور کرسمس کے اوپر مسئلہ چھیڑ دیا اس نے میری باتوں کو دھیان سے سنا اور میری باتوں کے ختم ہونے کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوا اور کہا ’’مجاہد صاحب آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں، میں بھی مطالعات سے اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ ۲۵ دسمبر مسیح کا جنم دن نہیں ہے اور اب بھی تحقیق میں لگا ہوا ہوں،آپ مجھے بس اتنا بتلا دیں کہ کیا صرف مسیح کی سالگرہ منانے پر پابندی ہے یا ہر نبی و رسول کی؟‘‘ میں نے کہا کہ’’ ہم کسی کی بھی سالگرہ نہیں منا سکتے چاہے وہ کوئی بھی ہو شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے‘‘اس شخص نے کہا کہ’’ تب آپ لوگ عیدمیلاد النبی کیوں مناتے ہیں؟ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ خاص پتہ نہیں مگر اتنا تو سمجھ سکتا ہوں کہ یوں سڑکوں پر پھرتے ہوئے عیاری کرنا اور یانبی یانبی کا نعرہ لگانا کوئی مذہب نہیں ہو سکتا‘‘میرے ماتھے پر بل پڑ گئے میں نے شرمندگی سے جواب دیا ، ’’بھائی جو کچھ نام نہاد جاہل مسلمان نبی ْﷺکی پیدائش پر ڈھول تاشا کرتے ہیں وہ سراسر بدعتہے اس کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں یہ کچھ نام نہاد جاہل علماء کی دین ہے،جو اپنے پیٹ پوجا کیلیے امت کو گمراہ کیے ہوئے ہیں‘‘ اس شخص نے کہا کہ ’’مجاہد صاحب آپ میری اصلاح بعدمیں کر لیجیئے گا پہلے ان نام نہادوں کی کر لیجیئے جو آپ کے مذہب کے ہیں‘‘ اوراتنا کہہ کر وہ شخص میری نظروں سے دور ہوتا گیا اور میں شرمندگی اسے جاتے دیکھتا رہا، افسوس ہوتا ہیکہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جس کے کردار کو دیکھ کر پل میں لوگ اپنے آباء کے مذاہب کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور آج ایک ہم ہیں،ہماری ہی کرتوتوں کی وجہ سے اسلام بدنام ہوتا ہے،اور ایک راہ پر آنے والا شخص بھی ہدایت کی جام نوش نہیں کر پاتا، اس شخص کا سوچنا بالکل صحیح ہے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ نبی ﷺ کی پیدائش منائی جائے مگر مسیح کی پیدائش پر اعتراضات کیے جائیں۔ہمیں اس بابت سوچنا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ کیا ہم اسی اسلام پر عمل پیرا ہیں جو نبی کونین نے ہم تک پہونچایا تھا یا اس اسلام کے پیروکار ہیں جو کچھ جاہلوں کی
دین ہے، غور کریں۔آئیے اب کرسمس کے متعلق کچھ جان لیتے ہیں:
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی انسان کسی بھی تہوار یا کسی بھی طرح کا خوشی کا دن مناتا ہے تو حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور ان کاموں کو کرنے لگتا ہے جن کا شریعت قطعاً اجازت نہیں دیتی، اور انجانے میں ہی سہی مگر شرک کے سمندر میں خود کو تیرتا ہوا چھوڑ دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آسمانی مذاہب نے ان تقریبات، عیدوں اور تہواروں کو پاکیزہ رکھنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔لیکن انسان کی خواہشِ نفس کی تکمیل کے آگے جہاں مقدس الہامی کتب اور صحائف نہ بچ سکے،وہاں یہ عیدیں اور تہوار کیا چیز ہیں؟
کرسمس(Christmas) دو الفاظ کرائسٹ(Christ)اور ماس (Mass)کا مرکب ہے۔ کرائسٹ(Christ)مسیح کو کہتے ہیں اورماس (Mass) اجتماع، اکٹھا ہوناہے یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، اس کا مفہوم یہ ہوا: مسیحی اجتماع یایومِ میلاد مسیح۔(نوائے وقت: 27دسمبر 2005ء) مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب پایا گیا۔ اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ‘کرسمس’ کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے۔ نہ صرف مسیح کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علما میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ عام خیال ہے کہ سن عیسوی مسیح کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے مگر ‘قاموس الکتاب ‘اور دیگر مسیحی کتب کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی ولادت باسعادت4یا 6ق م میں ہوئی۔ قاموس الکتاب میں یہ تاریخ 4ق م دی گئی ہے جبکہ مائیکل ہارٹ ”The Hundred” میں 6ق م تسلیم کرتا ہے۔ پیدائش کے دن کے حوالے سے بھی شدید اختلاف ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25دسمبر، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6جنوری اور ارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے۔حضرت عیسی کی تاریخ پیدائش میں نبی کریم ﷺکی تاریخ پیدائش سے زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، نبی کونین کی تاریخ پیدائش کو لیکر تو بڑے بڑے علماء، مؤرخین اور سیرت نگاروں نے یہ بات واضح کر دی کہ نبی کونین کی تاریخ پیدائش 9 ربیع الاول ہے جیسا کہ اس پر تفصیلی تحریر ربیع الاول کے مہینے میں اخباروں کی نظر ہو چکی ہیں، البتہ عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش میں ہر ایک مؤرخ کا دوسرے سے اختلاف پایا جاتا ہے، کوئی 25 دسمبر بتلاتا ہے تو کوئی 6 جنوری، کوئی 25 مئی کہتا ہے تو کوئی 28 جون غرض سب کا اپنا اپنا قول ہے اور ایسے میں راجح مؤقف اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے اس لیے اکابرین بھی اسی اختلاف میں پڑے رہ گئے اور آج ہر کس و ناکس یہی مانتا ہیکہ حضرت عیسٰی کی پیدائش 25 دسمبر ہے، تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے۔ لیکن 25دسمبر کو پہلے پہل روم(اٹلی) میں بطورِ مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشنِ زُحل Saturnaliaکو (یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا،اس روز رنگ رلیاں خوب منائی جاتی تھیں) جو سورج کے راس الجدی پرپہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیح علیہ السلام کی سالگرہ منائی جائے۔(قاموس الکتاب:ص147) چار صدیوں تک 25دسمبر کو مسیح کی تاریخ ولادت نہیں سمجھا جاتا تھا۔530ء میں سیتھیا کا ڈایونیس اکسیگز نامی ایک راہب جو ایک مُنجّم(Astrologer)بھی تھا، تاریخ ولادت مسیح کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے مسیح علیہ السلام کی ولادت 25دسمبر مقرر کی،کیونکہ مسیح سے پانچ صدیاں قبل 25دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی۔ بہت سے دیوتاؤں کا اس تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا، چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ کی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ25دسمبر مسیح کا یومِ ولادت نہیں، بلکہ یہ دن دیگر اغراض ومقاصد کی بنا پر’یوم پیدائشِ مسیح’ بنا دیا گیا۔ حضرت عیسٰی کی تاریخ پیدائش نہ تو انجیل سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی اور مستند ذریعہ سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ویسے بھی ابتدائی تین صدیوں تک میلاد مسیح کو منانا، مشرکانہ اور بت پرستانہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک خود ساختہ رسم تھی اور بعدازاں مختلف کلیساؤں کی طرف سے اس کی روک تھام کے لیے متعدد احکامات بھی جاری کیے گئے۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: Collier’sانسائیکلو پیڈیا)
کرسمس ٹری کو بنانے کی وجہ:یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ 25 دسمبر کو کرسمَس ڈے اس لیے منایا جاتا ہے کیونکہ عیسائیوں کا ماننا ہیکہ حضرت عیسٰی اس دن پیدا ہوئے، مگر کرسمَس ٹری کو اتنا مقام کیوں حاصل ہے اس بارے میں شاید بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں، ارشاد ربانی ہے ”پھر دردِ زہ اسے (مریم کو)کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ وہ کہنے لگی: اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔ پھر اس (فرشتے)نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، یقیناً تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔”(سورہ مریم) قرآن میں حضرت مریم کا پورا واقعہ بیان کیا گیا ہے، چنانچہ عیسائیوں کے نزدیک وہ درخت نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اس درخت نے ہی حضرت مریم کا ساتھ دیا ان نادانوں کو یہ نہیں پتہ کہ ساتھ دینے والی ذات اللہ تھی، چنانچہ حضرت مریم کا ساتھ دینے کے باعث لوگ اس درخت سے بھی عقیدت رکھتے ہیں اور اس کی یاد میں کرسمس ٹری بناتے اور اس سے دعائیں مانگتے ہیں، یہ کرسمَس ٹری عیسائیوں کے نزدیک اتنا معتبر ہیکہ دعاؤں کے بعد اسے اپنے گھروں میں ایسے مقام پر رکھتے ہیں جہاں ہمیشہ ان کی نظر پڑتی رہے۔
کرسمس اور مسلمان: اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے غیر شرعی تہواروں میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا انہیں مبارکباد دینی چاہیے؟ کیا ان کی دعوت میں شرکت کرنی چاہیے؟ سب سے پہلے تو ہمیں یہ بات ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ عیسائی حضرات کا یہ ماننا ہیکہ نعوذ باللہ حضرت عیسٰی اللہ کے بیٹے ہیں جبکہ قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ رب العزت نے یہ بات واضح کر دی ہیکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔” (سورہ اخلاص) ”اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے،یہ نرا جھوٹ بول رہے ہیں۔” (سورہ کہف) کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا، اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے۔(سورہ مریم) یہ اور اس طرح کی بہتیرا آیات موجود ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ اللہ کا کوئی ولد نہیں، اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا شرک اکبر ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں، نہ تو ہم عیسائیوں کو ان کے تہواروں کی مبارک باد دے سکتے ہیں نہ ہی ان کی دعوت میں شرکت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کرسمَس کے خاص لباس کو زیب تن کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی نے اس سے سختی سے منع کیا، مکمل حدیث کیلیے دیکھیں ”(سنن ابوداؤد،۳۳۱۳) اس حدیث سے واضح ہوتا ہیکہ مسلمان کا ان مشرکانہ مراسم اور مقامات سے دور رہنا شریعت کا کتنا واضح تقاضا ہے۔فقہاے کرام نے اس مسئلہ (غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت نہ کرنے اور مبارک باد نہ دینے) پر اجماع نقل کیا ہے۔مگر آج کے کچھ نام نہاد اور ایڈوانس علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں جبکہ خود امیر المومنین عمر بن خطاب نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دارالاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے، اور اسی پر سب صحابہؓ اور فقہا کا عمل رہا ہے، چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی روکا گیا ہو، مسلمان کا وہیں پہنچ جانا اور شریک ہونا کیوں کر روا ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے حضرت عمر ؓ کا یہ حکم نامہ منقول ہے:
”عجمیوں کے اُسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جاؤ،
کیونکہ ان پر اللّٰہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔”(اقتضاء الصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہ)
علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارک باد کی ممانعت پر حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں۔(البحر الرائق لابن نجیم، المدخل لابن حاج المالکی، مغنی المحتاج للشر بینی،الفتاوی الفقہیہ الکبریٰ لابن حجر ہیثمی، کشف القناع للبہوتی) فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کافروں کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے، وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔(اقتضاء الصراط المستقیم: ص ۴۵۳) مندرجہ بالا گفتگو سے یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام تنگ نظر دین ہے۔ دینِ اسلام ہرگز تنگ نظری کی تعلیم نہیں دیتا بشرطیکہ حقیقی مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ تعلیماتِ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ انبیا و رُسُل اس کائنات میں سب سے زیادہ برگزیدہ تھے، لہٰذا یہ لوگ ہمیں اُن سے محبت و عقیدت کی کیا تعلیم دیں گے جن کی اپنی کتابیں ان پر ایسے گندے اور گھناؤنے الزام لگاتی ہیں کہ پڑھنے والے کی شرم سے آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ یہ مقدس لوگ تو قیامت تک پوری انسانیت اور زندگی کے لیے رول ماڈل ہیں۔ ‘ایک شام مسیح کے نام والا’ فلسفہ بالکل غلط اور ناقص ہے۔ ہر صبح و شام اللّٰہ اور اس کے دین کے نام ہونی چاہیے۔ یہ لوگ محسنوں کی قدر اور رشتوں کا مقام ہمیں کیا بتائیں گے جو اپنے کتوں کو تو اپنے ساتھ سلاتے ہیں مگر اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو تہذیب و تمدن کا مطلب ہی مذہب سے آزادی، ناچ گانا، مصوری، بت تراشی و بت پرستی، مردوزَن کا اختلاط، کثرتِ شراب نوشی، جنسی آوارگی، بے راہ روی، ہم جنس پرستی، سود اور لوٹ کھسوٹ ہے،یعنی ہر طرح کی مادرپدر آزادی جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں ،نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
عبدالوارث گل جو کہ ایک عیسائی تھے اور بعد میں مسلم ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا، آراستہ کرنا، حسِین بناناہے۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزوِتہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسین بنائے اور ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے،یہ ہماری تہذیب ہے۔ علم، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ ہے وہ تہذیب اور اسلام کی بے مثال تعلیم جو نہ صرف انبیاء کی عصمت، عزت اور مقام و مرتبہ کی حفاظت کاحکم دیتی ہے بلکہ ان کی اطاعت و اتباع اور ان سے ہر وقت محبت اور ہر لمحہ ان کی اطاعت کرنے کا درس دیتی ہے۔



