سیاسی و مذہبی مضامین

تری نسبت ابراہیمی ہے معمار جہاں تو ہے-ابوالفیض اعظمیؔ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اور عید قرباں کی اہمیت

مسلمان ہر سال عید قرباں بہت عقیدت واحترام کے ساتھ مناتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ تہوار سے زیادہ یاد دہانی کا دن ہے۔ یاد دہانی اس لیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان تما م صفات کو لازمی طور پر اپنانے کی کوشش کریں اور اپنی پوری زندگی آپؑ کی طرح اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے وقف کردیں،ساتھ ہی ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کی کوشش کریں جیسا کہ اللہ کے پیارے حبیب جناب محمد مصطفیٰ ﷺ نے تعمیر کیا تھا،جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے عمدہ نمونہ ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ رب العزت نے کم وبیش سوا لاکھ انبیائورسُل بھیجے جن میں سے صرف۲۶کا ذکر قرآن مجیدمیں ہے ا وران میں سے دورسول نبی کریم ﷺ اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے ہیں جن کی زندگی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ارشادباری تعالی ہے:

لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّہ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو ا اللّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّہَ کَثِیرًا۔ (الاحزاب:۲۱)

یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود)ہے،ہر اس شخص کیلیے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ کے تعلق سے فرمایاگیا: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہ۔(الممتحنہ: ۴)

(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم ؑ میں اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر سا ل مسلمانو ں کو سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہماالسلام کے اس بے مثال کارنامے کو یاد دلاتا ہے۔ جن کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ کی پوری زندگی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔مسلمان سال میں ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کر تے ہیں۔اس قربانی کا ایک اہم مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ ان تمام قربانیوں کو یاد کریں جو راہ ِحق میں حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی ہیں۔آپ کی قربانیوں کے چند نمایا ں پہلو یہ ہیں:

اعلان حق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ انہوں نے بغیر کسی ڈر اور خوف کے ایک اللہ وحدہ لاشریک کا اعلان کیا۔آپ نے جس سرزمین (عراق کے شہر اُر)میں آنکھ کھولی اس کے باشندے بت پرست تھے۔Sir Leonard Woolly (سر لیونارڈ وولی)کی کتابAbraham(ابراہیم)کے مطابق ابراہیم ؑ کے ز مانے میں اُرکے لوگ تقریباً پانچ ہزار خداوں کی پوجا کرتے تھے۔

آپ ؑ نے جب ہوش سنبھالا تب ہی پکارنے لگے کہ یہ چاند،یہ تارے،یہ سورج میرے معبود نہیں ہوسکتے ہیں۔میں غروب ہوجانے والی ہستیوں کو اپنا رب نہیں مان سکتا۔میں توصرف اس کے سامنے سجدہ کروں گا جو زمین وآسمان اور اس کے اند ر موجو د تمام چیزوں کا خالق و مالک ہے۔آپؑ بے اختیار پکار اٹھے:’’إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالااَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا انَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘ (الانعام: ۷۹)’’میں نے تواپنا رخ،بالکل یکسوہوکر اس کی طرف کیاجس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔

سیدنا ؑ نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہ کوئی معمولی گھر نہیں تھابلکہ وہ اس وقت کے سب سے بڑے پروہت کا گھر تھا۔ وہ بادشاہ ِوقت نمرود کے خاص مشیروں میں سے تھا۔بادشاہ اپنے ہر کا م میں اس سے مشورہ لیا کرتا تھا۔اگر حضرت ابراہیم ؑ چاہتے تو اپنے باپ آزرکے جانشین بن کر دنیا کی تمام لذتوں سے لطف اندوز ہوسکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ تمام طرح کی مصیبتیں جھیلیں اور تن تنہا حق کی صدا بلند کرتے رہے۔اپنی قوم کو بت پرستی سے روکنے اور خدائے واحد کی اطاعت وبندگی پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل کوشش کر تے ر ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے لوگوں کو دلائل کے ساتھ سمجھاتے۔جب وہ آپ کے سامنے بے بس ہوجاتے تو پھر آپ سے جھگڑا کرتے اورتکلیف دیتے۔ قرآن مجید میں مذکورہے ’’اس کی قوم ابراہیم سے جھگڑنے لگی۔ اس نے قوم سے کہا کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھائی اورمیں تمھارے ٹھہرائے ہوئے خداؤں سے نہیں ڈرتا۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے پھر کیا تم ہوش میں نہیں آؤگے۔ (الانعام:۸۰)

آپ ؑ نے اپنی مشرک قوم کو سمجھانے اور توحید کو عملی طور پر واضح کر نے کے لیے بتوں کو بھی توڑ ڈالا،جس کی پاداش میں آپؑ کوآ گ میں ڈالا گیااور ہجرت کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ آپ کے والد نے بھی آپ کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی: لَئِن لَّمْ تَنتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیّاً (مریم:۴۶) ’’اگر واقعی تم (اس مخالفت سے)باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگ سار کر دوں گااور ایک طویل عرصہ کے لیے تم مجھ سے الگ ہوجاؤ‘‘۔یہ وہ آزمائشیں تھیں جنہیں سیدنا ابراہیم ؑ نے صرف اللہ واحدکی کبریائی کا اعلان کر نے کے لیے برداشت کیں۔ یہ وہ دور تھا جس میں ہر چہارجانب باطل طاقتیں اپنا تسلط جمائے ہوئے تھیں۔

اس وقت مصنوعی خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمر دو نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی خدائی تسلیم کرانے کے لیے ہر طرح کے حربے اپنائے لیکن اس بندہ خدا کے پائے استقامت میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی اور وہ حکومتِ وقت کے سامنے تن ِتنہا اللہ اکبر کی صدا بلند کرت رہے۔اگر ہم موجودہ دور میں اپنا اورخود ساختہ قائدین کے علاوہ عام مسلمانوںکا جائزہ لیں تو ہمیں یہ محسوس ہوگا کہ حکمت ومصلحت کے نام پر لوگوں نے اس دینِ براہیمی کو کھلواڑ بنا رکھاہے۔پوری دنیا میں باطل طاقتیں اسلام اور اہل اسلام پر چڑھ دوڑی ہیں اور اس دین رحمت کو مٹانے کے لیے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے۔ایسے ناگفتہ بہ دور میں امت کے اکثرنام نہاد قائدین ظالم حکم رانوں کی گود میں بیٹھ کر حکمت و مصلحت کے نام پر وہی سب کرر ہے ہیں جن سے طاغوتی نظام بجائے ٹوٹ پھوٹ کاشکارہو نے کے مزید مستحکم ہوتاجارہاہے۔

لق ودق صحرامیں بیوی اور بچہ

حضرت ابراہیمؑ جب ہجرت کرکے شام پہنچے اس وقت آپ بوڑھے ہوچکے تھے۔جب اسماعیلؑ پیدا ہوئے تو حکم ہوا کہ شیر خوار بیٹے اوراپنی بیوی کولق ودق صحرا میں چھوڑآؤ۔

حکم ِخداوندی ملتے ہی حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی اوردودھ پیتے بچے کو مکہ مکرمہ میں چھوڑ آئے، جہاں دور دور تک ریت ہی ریت تھی، سبزہ اور پانی کا نام ونشان نہ تھا۔ ابراہیم ؑ اور نا ہی آپ کی وفا شعار بیوی ہاجرہ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی شکایت کی بلکہ حکم خداوندی پر سر اطاعت خم کیا، اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی کو لے کر بے آب وگیاصحرا میں چلی آئیں اور یہیں پر حضر ت اسماعیل ؑ کی پرورش وپرداخت ہوئی۔گویا حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اپنے رب سے اطاعت شعاری،اپنے شوہر سے وفاداری او ر اپنے بیٹے کی تربیت یہ تینوں چیزیں یہاں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ حضرت اسماعیل ؑ بھی نبی تھے اس لیے ان کی پرورش وپرداخت کا ذمہ بھی دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح اللہ تعالیٰ نے لے رکھاتھا،اس لیے ان کی تربیت غیبی طورسے ہوئی ہوگی۔

اس میں والدین خاص طورپر والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ ان سے یہ کہا جائے گا یہاں حضرت ہاجرہ ؑ نے بغیر کسی اسباب کی فراہمی کے اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہا۔ اگر وہ چاہتیں توبحیثیت شاہ زادی شام وفلسطین کے مرغزاروں میں رہ سکتی تھیں یااپنے بیٹے کو کسی دائی کے سپرد کرسکتی تھیں؛لیکن انہوں نے یہ سب نہیں کیا۔بغیر کچھ سوچے سمجھے صرف اور صرف اللہ تعالی کے حکم پرراضی بہ رضاہوگئیں۔یہ ہوتی ہے ایمان کی کسوٹی۔اطاعت وبندگی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہونی چاہیے۔حالات چاہے کتنے ہی خراب ہوں،سامنے امید کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آرہی ہو،اس کے باوجوداللہ تعالیٰ کی بندگی سے جی چرانا اور اسے حکمت ومصلحت کا نام دینا ایک مسلمان کے لیے زیب نہیں دیتا۔اس کی زندہ مثال حضرت ابراہیمؑ اور ان کے اہل وعیال کے اس واقعہ میں موجودہے۔

بیٹے کی قربانی

جب اسماعیل ؑ جوانی کی دہلیز پرپہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور حکم ہوا کہ اے ابراہیم! اپنی سب سے محبوب چیز قربان کرو، چنانچہ ابراہیم ؑ نے خوشنودی رب کی خاطر اپنے اکلوتے لختِ جگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری پھیر دی اور یہ بتا دیا کہ اللہ کے راستے میں ہر چیزحتی کہ اپنی اکلوتی اور محبوب ترین اولاد بھی قربان کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کروگے اللہ کو معلوم ہے‘‘۔(آل عمران: ۹۲)

اسلام میں جتنی بھی عبادات ہیں خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی سب کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔یہی بات قرآن مجید میں قربانی کے تعلق سے بھی کہی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ’’اللہ کو قربانی کا گوشت اورقربانی کا خون نہیں بلکہ اخلاص و تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔(الحج:۳۷) یہ تقویٰ قربانی کا اصل جوہر ہے جو بندہ مومن کی زندگی میں ہمیشہ نمایاں رہنا چاہیے۔قربانی کے وقت ہم جو دعا پڑھتے ہیں اس میں بھی اللہ ِواحد کی بندگی او رفرماںبرداری کے اقرار کے ساتھ ساتھ ہمیں تقویٰ کی ترغیب ملتی ہے۔

قرآن مجید میں ابراہیم ؑکی قربانی اوراس ک لئے بیٹے کی آمادگی کا ذکرموجود ہے۔’’بیٹے نے کہا:ابّا جان! آپ کو جو حکم دیاجارہا ہے اسے کر ڈالئے۔ آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں پائیں گے۔پس جب دونوں نے ااپنے ٓپ کورب کے حوالے کردیااورابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل پچھاڑدیا۔ اور ہم نے اس کو آوازی:اے ابراہیم!بس تم نے خواب سچ کر دکھایا!بے شک ہم خوب کاروں کواسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔بے شک یہ کھلاہوا امتحان تھا۔اور ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑالیا۔اور ہم نے اس(کی ملت)پر پچھلوں میں (ایک گروہ کو) چھوڑا۔سلامتی ہوابراہیم پر۔اسی طرح ہم خوب کاروں کو صلہ دیتے ہیں‘‘۔ (الصافات:۱۰۲تا۱۰۱)
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیلؑ کو بچالیا اور ان کی جگہ پرمینڈھے کو بھیج دیاجسے ابراہیم ؑ نے ذبح کیاپھراسے قیامت تک کے لیے ہر استطاعت رکھنے والے مسلمان کے لیے سنت ابراہیمی کے طور پر واجب قراردیا۔

قربانی ایک عظم سنت

قربانی ایک عظیم سنت ہے،جسے نبی کریمﷺ نے اپنی دس سالہ مدنی زندگی میں کر کے دکھایا اور صحابہ کرام کو قربانی کرنے کا حکم دیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺنے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپﷺقربانی کرتے رہے۔ (ترمذی،ابواب الاضاحی) مطلب یہ کہ نبی کریمﷺ نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ایک مرتبہ بھی قربانی ترک نہیں کی۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھُروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی)۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی؛باب ما جاء فی فضل الاضحیہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی؛باب الذبائح، سنن کبری للبیہقی ج۹ ص۲۶۱)

ہمارا جذبہ قربانی کہاں ہے؟

ہر وہ مسلمان جس کے اوپر قربانی فرض ہے، سال میں ایک مرتبہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے کہ’’میں نے تواپنا رخ،بالکل یکسوہوکر اس کی طرف کیاجس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (الانعام:۷۹)بے شک میری نماز اورمیری قربانی،میری زندگی اور میری موت،سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی ساجھی نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملاہے اور میں پہلا مسلم ہوں‘‘۔(الانعام:۱۶۲،۱۶۳) یہ تمام عہدصرف ایک کھوکھلا دعوی بن کر رہ جاتے ہیں۔

ایک طرف ہم اپنی نسبت اس رسول کی طرف کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خلیل یعنی دوست اور اس کی نظر میں سب سے محترم ہیں۔حتی کہ ہمارے علاوہ دوسری قومیں مثلاًیہود ونصاری بھی انہیں روز اول سے اپنارہنما مانتی ہیں۔ اس پیغمبر نے کم سنی کے ایام میں ہی اللہ وحدہ لا شریک کے علاوہ تمام معبودانِ باطل کا انکار کردیا تھا،لیکن ہم وہ تمام کا م کرتے ہیں جن سے اللہ رب العزت نے ہمیں روکا ہے۔

ہم اللہ کی اطاعت و فرما ںبرداری کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں لیکن شعور رکھنے کے باوجود بھی تمام طرح کے طاغوت سے اپنی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ اسلام کودین مبین ماننے کے بجائے دوسرے مذاہب میں ا پنی بہتر ی تلاش کرتے ہیں،جن سے سیدنا حضرت ابراہیم ؑ نے براء ت کا علان کیا تھا۔ہم صرف جمعہ اور عیدین کی نماز کی طرح اجتماعی طور پر گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام بڑی ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں؛لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اسی دن اپنے بیٹے کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم پر قربان کردیا تھا۔

موجودہ دور میں ہماری حالت تو ایسی ہوگئی ہے کہ غیر مسلم اور دوسرے ادیان کے ماننے والوں کی طرح یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم قربانی کیوں کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا معاملہ ہے توہم اس رقم کوکہیں اور بھی خرچ کرسکتے ہیں۔یہ سب اس وجہ سے ہے کہ نہ ہمیں قربانی کی تاریخ، اہمیت واصلیت کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ ہی ہماری اولاد اس کے تعلق سے کچھ جانتی ہے۔

ہم قربانی کیوں کریں؟

گذشتہ کئی برسوں سے یہ بات عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہیکہ مسلمان بلاوجہ کیوں قربانی کے نا م پر اپنی دولت کو ضائع کریں؟بلکہ انہیں پیسوں سے کسی کی کفالت کی جاسکتی ہے،اسپتال اور تعلیمی ادارے کھولے جاسکتے ہیں جن سے مسلمانوں کا بھی بھلا ہوسکتا ہے اور دوسروں کا بھی۔ یہ بات مسلم دانشوروں کی طرف سے اور برادران وطن دونوں کی طرف سے کی جاتی ہے۔ہر سال قومی وملی جماعتوں کی طرف سے قربانی کے سلسلے میں جوہدایات جاری ہورہی ہیں ان میں بھی یہ بات لکھی ہوتی ہے کہ اگر مجبوری کے تحت آپ قربانی نہیں کرسکتے تو بعد میں اس کا فدیہ ادا کردیں۔

یہ بات ذہن میں بالکل صاف رہنی چاہیے کہ قربانی اللہ کی عبادت ہے جس کا مقصداس کی خوشنودی کا حصول ہے۔اور یہ قربانی امت محمدیہ سے پہلے کی امتوں پربھی واجب تھی۔
ارشاد باری تعالی ہے: ’’اورہم نے ہر امت کے لیے قربانی مشروع کی، تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ا ن پر وہ اس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تواپنے آپ کواسی کے حوالہ کرواور خوش خبری دو ان کو،جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں‘‘۔(الحج: ۳۴)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے۔(سنن ابن ماجہ؛باب الاضاحی۔ مسند احمد؛ جلد۲، ص۳۲۱۔ السنن الکبری؛ جلد۹،ص۲۶۰۔کتاب الضحایا)
اگر ہم ابراہیم ؑ کی پوری زندگی جو ابتلا اور آزمائش سے پُر ہے اس پر ایک سر سری نگاہ ڈالیں توابراہیم ؑ کی صورت میں ایک باپ اور ایک ذمہ دار شخص نظر آتا ہے۔حضرت اسماعیل ؑ کی شکل میں ایک حلیم اور بُردبار بیٹا نظر آتا ہے اور حضرت ہاجرہ ؑ کی صورت میں ایک اطاعت شعاراور فرماںبردار بیوی نظر آتی ہے۔یہی چیزیں(باپ،بیٹااور بیوی)ایک اچھے اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں بہت کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔جن سے خاندان،قبیلہ اور شہر آباد ہوتے ہیں۔

ہم یہاں ذرا ٹھہر کر اپنا محاسبہ کریں!!! کیا ہم میں سے جو لوگ والدیاگھر کے ذمہ دارہیں،کیا وہ اپنے گھر والوں کی تربیت اس طور پر کرتے ہیں کہ اگر ان سے کہا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فلاں کام کرنے جارہا ہوںتوان کے گھر والے اسے مان لیں گے؟ جو بیٹے کی عمر کے ہیں کیاوہ حضرت اسماعیل ؑ جیسا بیٹا بننے کی کوشش کرتے ہیں؟ ہماری وہ بہنیں جو بیوی کے روپ میں شوہر کی خدمت گارہوتی ہیں وہ حضرت ہاجرہ ؑ کی طرح فرماںبرداری اور جانثاری کا ثبوت پیش کرسکتی ہیں؟اگر ایک باپ اور گھر کے ذمہ دار شخص کے اندر یہ صفت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر والوں کی صحیح طور پر تربیت کرسکے۔ایک بیٹے کے اندر حضرت اسماعیلؑ والی فرماںبرداری نہیں آتی کہ وہ اپنے والدین اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اپنی ذات پر مقدم سمجھے۔ایک بیٹی،بہن یابیوی کے اندر حضرت ہاجرہ ؑ کی طرح سلیقہ مند اور اطاعت گزار بیوی بننے کاملکہ نہیں ہے توضرور ہماری قربانی میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہے۔ ہماری نیت درست نہیں ہے۔ ہم صرف نام ونمود کے لیے اور گوشت کھانے اور کھلانے کے لیے قربانی جیسے مقدس فرض کو انجام دیتے ہیں۔ہم بطور ٹیکس اس قربانی کو سال میں ایک مرتبہ جان چھڑانے کی غرض سے کرڈالتے ہیں۔

آئیے ! ہم عہد کریں

اگر ایسا نہیں ہے تو آئیے! ہم عہد کریں کہ جانور کی گردن پر چھری پھیرنے سے پہلے اپنے آپ کو مکمل طور پر تیار کریں گے۔ہم اپنے اندرآزمائش میں استقامت اور قربانی کی وہ تمام صفات پیدا کریں گے جوسیدنا حضرت ابراہیم ؑ کے اندر تھیں۔ ہم یہ عہد کریں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت اور فرماںبرداری کا اس طرح مظاہرہ کریں گے کہ گھر بار چھوڑنے،بیوی بچوں سے جدا ہو نے اور راہِ خدا میں جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم آج سے ان تمام معبودان باطل کی پوجا چھوڑدیں گے جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی پوجتے اور ان سے امید یں وابستہ رکھتے ہیں۔ہم کسی طرح کی مصالحت کے نام پر نا تو اسلام اور اسلامی احکامات سے رو گردانی کریں گے اورنا ہی شریعت میں کسی طرح کی مداخلت برداشت کریں گے۔

ہم یہ بھی عہد کریں کہ ہمیں بھی حضرت ابراہیم ؑ کی طرح اس جہاں کا معمار بننا ہے،سسکتی اور بلکتی انسانیت کو ہر طرح کی غلامی سے نکال کر اللہ ِواحد کی بندگی وفرماںبرداری کی طرف دعوت دیناہے۔ ایک نئے جذبے اور حوصلے کے ساتھ انہیں میدانِ عمل میں لاکھڑا کرنا ہے تاکہ وہ بھی علی الاعلان یہ کہہ سکیں: ’’میں نے تو اپنا رخ،بالکل یکسو ہوکر اس کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (الانعام:۷۹)بے شک میری نماز اورمیری قربانی،میری زندگی اور میری موت،سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی ساجھی نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملاہے اور میں پہلا مسلم ہوں‘‘۔ (الانعام:۱۶۲،۱۶۳)

اگر ایسا ہوا تو بیشک وہ دن دور نہیں جب آگ پھر سے گلزار بن جائے گی اور عوا م اپنے حقیقی رب سے متعارف ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button