الھند ایئر کے بانی محمد حارث تھتھانی: جنہوں نے ٹراویل بزنس سے ایئرلائن انڈسٹری تک کا سفر طے کیا
محمد ریاض احمد
ہندوستان میں کیرالا ایک ایسی ریاست ہے جہاں تعلیمی شعبہ سے لے کر معاشی اور سیاسی شعبوں میں بھی مسلمانوں کی اجارہ داری ہے یعنی ان شعبوں میں مسلمانوں کا موقف بہت مستحکم ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم مردم شماری 2011ء کی ہی بات کریں تو کیرالا کی آبادی میں 54.7 فیصد ہندو، 26.6 فیصد مسلمان اور 18.4 فیصد عیسائی شامل ہیں۔ چونکہ وہاں کی آبادی میں خواندگی کی شرح تقریباً صد فیصد ہے اور لوگ مذہب سے زیادہ اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کو اہمیت دیتے ہیں، اس لیے کیرالا میں سیکولرازم و جمہوریت مضبوط و مستحکم ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بی جے پی اور اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس نے اس پرامن و خوشحال ریاست میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں فرقہ پرستی کی بیماری کیرالا کے معاشرے میں آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
مثال کے طور پر بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود ریاست کیرالا میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی تھی، لیکن اب کیرالا ہی نہیں بلکہ جذبہ حب الوطنی سے سرشار امن پسند ہندوستانیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ کیرالا کے دارالحکومت تھروانتھا پورم میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اس نے 101 بلدی وارڈس میں سے 50 پر کامیابی حاصل کی اور 25 دسمبر کو اس کے منتخب میئر نے اپنے عہدے کا حلف بھی لیا ہے۔
بی جے پی کے وی وی راجیش نے 51 ووٹ حاصل کیے جبکہ سی پی آئی ایم کے آر بی شیواجی نے 29 اور کانگریس کے امیدوار نے 19 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح کانگریس اور سی پی آئی ایم کی لڑائی میں بی جے پی کا فائدہ ہو گیا۔ ویسے بھی بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود 2016ء میں بی جے پی کا صرف ایک ایم ایل اے او راجہ گوپال منتخب ہوئے تھے، جبکہ 2024ء میں تھریسور سے اداکار سریش گوپی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
سب سے پہلے آپ کو بتا دیں کہ حال ہی میں ہندوستانی مرکزی وزارت شہری ہوابازی نے دو ایئرلائنز کو ڈومیسٹک ایئرلائنز کے شعبے میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، جن میں الھند ایئرلائنز اور فلائی اکسپریس جیسی شہری ہوابازی کی کمپنیاں شامل ہیں۔ ان دونوں ایئرلائنز کو مرکزی وزارت شہری ہوابازی نے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری کر دیا ہے۔
الھند گروپ کا قیام 1990ء کے دوران کالی کٹ میں عمل میں آیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کی ٹراویل اینڈ ٹور مینجمنٹ انڈسٹری کا اہم لیڈر بن گئی۔ الھند گروپ اپنے بانی اور چیئرمین محمد حارث ٹی کی قیادت میں مسلسل ترقی کے منازل طے کرتی جا رہی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس کمپنی کو صرف Air Operator Certificate کا انتظار ہے جس کے ساتھ ہی وہ اپنے آپریشنز کا آغاز کر دے گی۔
محمد حارث ٹی کی الھند ایئر اپنے قافلے میں ATR72-600 طیارے شامل کرتے ہوئے مسافروں کی خدمات کے لیے تیار ہے، بعد میں یہ سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، کویت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش تک اپنی پروازوں کو وسعت دے گی۔ جہاں تک محمد حارث ٹی کا سوال ہے، وہ الھند ایئر چلانے کے ساتھ ساتھ انڈین حج عمرہ اسوسی ایشن کے بانی جنرل سکریٹری بھی ہیں۔ انہیں ٹراویل اور ٹورازم انڈسٹری کا کافی تجربہ ہے۔
انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات ٹکٹ بکنگ سروس سے کی اور آج اس مقام پر پہنچ گئے جہاں ان کی کمپنی کا ٹرن اوور 20 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ ان ارب پتیوں میں جوائے الوکاس گروپ کے بانی اور مالک جوائے الوکاس، لولو گروپ کے صدرنشین ایم اے یوسف علی، GEMS گروپ کے سربراہ سنی وار کی، کلیان جیولرس کے مالک ٹی ایس کلیانہ رمن، کرس گوپالا کرشنن (انفوسس)، ایس ڈی تیسولال، رمیش کہنی جو Kaynes Technology کے مالک ہیں، اور Brjeel Holdings کے شمشیرو پالی شامل ہیں۔
محمد حارث کی ترقی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ٹکٹس بکنگ سے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، پھر بس سروس شروع کی اور اب شہری ہوابازی کے شعبے میں داخل ہوئے ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ محمد حارث نے الھند بزنس سنٹر 2021ء میں قائم کیا، اس سے پہلے 2014ء میں انہوں نے B2B بزنس ٹو بزنس پورٹل شروع کیا۔
الھند گروپ آف کمپنیز متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، عمان، کویت اور بنگلہ دیش میں اپنے صارفین کو کم از کم 11 خدمات فراہم کرتی ہے، جن میں بزنس سیٹ اپ، پی آر او خدمات، گولڈن ویزا، ٹراویل اینڈ ٹورازم، رئیل اسٹیٹ، اٹیسٹیشن اینڈ ٹرانسلیشن، اضافی قدر ٹیکس سے متعلق خدمات، کارپوریٹ رجسٹریشن اینڈ کنسلٹینسی اور فیملی ویزا سروس شامل ہیں۔
کالی کٹ میں پیدا ہوئے محمد حارث ٹی نے آرٹس میں بی اے کیا، ان کے مخصوص مضامین میں ہسٹری اور اکنامکس شامل تھے، ساتھ ہی وہ فارماکولوجی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے آپ کو پہلے بتایا کہ محمد حارث نے بہت محنت کی اور ان کی محنت کا پھل یہ ملا کہ اب ان کی الھند ایئرلائن انڈیگو ایئرلائنز، ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر، اسپائس جیٹ، وسٹارا، الائنس ایئر، فلائی بگ، اسٹار ایئر اور انڈیا ون ایئر جیسی ایئرلائنز کی صف میں شامل ہو گئی ہے۔



