ٹرمپ کا ریسکیو آپریشن کامیاب، ایران پر زمینی حملے کا منصوبہ ناکام
ایران کو کم سمجھنا امریکہ کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے
تہران 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایک ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران کے اندر مار گرایا گیا، جس کے بعد دو پائلٹوں کو بچانے کے لیے ہنگامی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اگرچہ پائلٹوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم اس کارروائی میں امریکہ کو بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا، جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ صورتحال مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہے اور ایران زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آئے۔ جیسے جیسے حالات پیچیدہ ہوتے گئے، ٹرمپ کے بیانات میں بھی تضاد اور بے چینی واضح ہونے لگی۔
ماہرین کے مطابق ایک F-15E لڑاکا طیارے کا مار گرایا جانا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ امریکی فضائی برتری کے دعوے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایران کے فعال فضائی دفاعی نظام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بڑے حملے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2 اپریل کو پیش آنے والے واقعے میں جب دو امریکی پائلٹ دشمن علاقے میں پھنس گئے تو ان کی بحفاظت واپسی امریکی وقار کا مسئلہ بن گئی۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ پائلٹ ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھ لگ جاتے تو امریکہ کو عالمی سطح پر شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔
ریسکیو آپریشن میں جدید فوجی وسائل استعمال کیے گئے جن میں خصوصی طیارے، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، ڈرونز اور نیوی سیل کمانڈوز شامل تھے۔ تاہم یہ کارروائی آسان ثابت نہ ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق دو خصوصی طیارے ناقابل استعمال ہو گئے جبکہ ایک ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا۔
اس صورتحال نے امریکی فوج کے اندر اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جہاں بعض اعلیٰ فوجی حکام کو ہٹائے جانے یا سائیڈ لائن کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان بڑھتے فاصلے مستقبل میں مزید خطرناک فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
خطے کی جغرافیائی صورتحال بھی امریکہ کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔ خلیج فارس کا تنگ سمندری راستہ، ایران کی میزائل صلاحیت اور غیر متناسب جنگی حکمت عملی امریکہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک بھی کھل کر امریکہ کا ساتھ دینے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف زمینی حملے کا منصوبہ جو کاغذ پر آسان نظر آتا تھا، حقیقت میں نہایت پیچیدہ اور خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ایران کے مختلف علاقوں میں جنگی تیاری اور مزاحمتی نیٹ ورک اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ یکطرفہ نہیں ہوگی۔
گزشتہ 48 گھنٹوں کی صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران کو کمزور سمجھنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔ امریکی طیاروں کا نقصان، ریسکیو آپریشن کی مشکلات اور بدلتی ہوئی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع ایک طویل اور پیچیدہ رخ اختیار کر سکتا ہے۔
ایرانی سفارتکاروں اور ٹرمپ کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی محاذ آرائی
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اب روایتی سفارتی بیانات کی جگہ سوشل میڈیا پر براہ راست اور سخت جملوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مختلف ممالک میں تعینات ایرانی سفارتکاروں کے درمیان یہ لفظی جنگ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے ایک جارحانہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے نہایت غیر رسمی اور سخت زبان استعمال کی۔ ان کے بیان میں نہ صرف دھمکی آمیز لہجہ تھا بلکہ اس میں غیر مہذب الفاظ اور ڈرامائی انداز بھی نمایاں تھا، جس نے سفارتی آداب کی روایتی حدود کو توڑ دیا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ انداز ان کے داخلی حامیوں کے لیے طاقت اور فیصلہ کن قیادت کا پیغام دیتا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر یہ طرزِ گفتگو سفارتی وقار کو متاثر کرتا ہے اور دیگر ممالک کو بھی اسی انداز میں جواب دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ایرانی سفارتخانوں نے بھی روایتی سفارتی احتجاج کے بجائے براہ راست اور طنزیہ انداز اختیار کیا۔ جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارتخانے نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کا حوالہ دیا، جو کسی صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس ردعمل نے ٹرمپ کے بیان کو سنجیدگی کے بجائے ذہنی صلاحیت پر سوال کے طور پر پیش کیا۔
اسی طرح بلغاریہ میں ایرانی سفارتخانے نے بھی نرم مگر طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے ٹرمپ کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ یہ انداز روایتی سفارتی زبان سے ہٹ کر تھا اور اس میں امریکی صدر کے اختیار کو کمزور دکھانے کی کوشش کی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی براہ راست محاذ آرائی نے سفارتکاری کے طریقہ کار کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب ریاستی نمائندے بھی عوامی پلیٹ فارم پر ذاتی نوعیت کے تبصروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف عالمی سیاست کو متاثر کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں سفارتی تعلقات کے انداز کو بھی نئی شکل دے سکتا ہے۔



