بین الاقوامی خبریں

خون آلود بستوں کا درد، مذاکرات سے قبل ایرانی اسپیکر کا خاموش مگر گونجتا پیغام

طیارے میں رکھے خون آلود اسکول بیاگس اور جوتے سیٹوں پر ترتیب سے رکھے گئے

تہران 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان میں ہونے والے اہم مذاکرات سے قبل ایک نہایت جذباتی اور معنی خیز منظر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے سفر کے دوران ایسی تصاویر شیئر کیں جنہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

قالیباف اسلام آباد روانگی کے وقت محض ایک سیاسی نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ ایک المناک واقعے کے درد کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر طیارے کے اندر کی تصاویر جاری کیں، جن میں معصوم بچوں کی تصاویر، ان کے اسکول بیاگس اور جوتے سیٹوں پر ترتیب سے رکھے گئے تھے۔ ان اشیاء پر لگے خون کے دھبے اس سانحے کی شدت کو واضح کر رہے تھے، جب کہ ہر نشست پر رکھا گیا پھول خاموش تعزیت کی علامت بن گیا۔

ان تصاویر کے ساتھ قالیباف نے مختصر مگر بامعنی کیپشن تحریر کیا: ’’میرے اس سفر کے ساتھی‘‘۔ یہ الفاظ اپنے اندر ایک گہرا پیغام سموئے ہوئے تھے، جس میں نہ صرف غم بلکہ انصاف کی خاموش اپیل بھی جھلکتی ہے۔ طیارے میں کھڑے قالیباف بچوں کی تصاویر کو حسرت اور درد بھری نگاہوں سے دیکھتے دکھائی دیے، گویا وہ دنیا کو ایک غیر لفظی پیغام دے رہے ہوں۔

یاد رہے کہ یہ تصاویر ان 168 بچوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو 28 فروری کو ہونے والے ایک ہولناک حملے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان میں ہونے والے ان مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایرانی وفد میں اعلیٰ سطحی نمائندگی شامل ہے، جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل میں سپریم لیڈر کے نمائندے علی اکبر احمدیان اور دیگر اہم حکام شریک ہیں۔ وفد میں سیکورٹی، سیاسی، فوجی، اقتصادی اور قانونی ماہرین بھی شامل کیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اس سفارتی عمل کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کی جانب سے پیش کی گئی یہ علامتی پیشکش محض ایک جذباتی اقدام نہیں بلکہ مذاکرات سے قبل ایک مضبوط سفارتی اشارہ بھی ہے، جس کے ذریعے عالمی برادری کو اس سانحے کی سنگینی کا احساس دلانا مقصود ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button