امریکہ نے ایرانی اثاثے منجمد ختم کرنے کے معاہدے کی خبروں کی تردید کر دی
ایران کا مطالبہ برقرار، امریکہ کا انکار-امریکہ اور ایران آمنے سامنے
اسلام آباد/تہران 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق کسی بھی معاہدے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ منجمد اثاثوں کی رہائی کو آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی سے جوڑا گیا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکہ کی جانب سے اثاثوں کی رہائی "نیک نیتی کا امتحان” اور پائیدار امن معاہدے کے لیے سنجیدہ ارادے کا اشارہ ہوگی۔
اسلام آباد میں جاری مذاکرات سے قبل تہران نے واضح کر دیا تھا کہ بیرونِ ملک موجود منجمد اثاثوں کی رہائی اس کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔ ایران ایک ایسے فریم ورک پر زور دے رہا ہے جو نہ صرف عارضی جنگ بندی کو مستحکم کرے بلکہ مستقبل میں کسی جامع معاہدے کی بنیاد بھی رکھ سکے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ پابندیوں میں نمایاں نرمی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے تہران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں لچک دکھانا ہوگی۔ واشنگٹن اس عمل کو مرحلہ وار اور مخصوص شرائط کے ساتھ آگے بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔
قطری بینکوں میں موجود ایرانی اثاثوں کا معاملہ بھی اس وقت خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ 2023 میں امریکہ، ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک معاہدے کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کی ایرانی تیل کی رقم، جو کئی برسوں سے جنوبی کوریا میں منجمد تھی، قطر کے ایک بینک میں ایران کے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے مختلف اندازے موجود ہیں۔ یہ اثاثے ایران کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ ماضی میں یہی زرِمبادلہ ملکی کرنسی کو سہارا دیتا رہا ہے۔
امریکی پابندیوں کے باعث ایران کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ غیر ملکی زرِمبادلہ کی کمی، بینکنگ نظام پر دباؤ اور مہنگائی میں تیزی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران میں افراطِ زر کی شرح 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
تاریخی طور پر ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ 1979 کے انقلاب کے بعد شروع ہوا، جبکہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت کچھ بہتری آئی تھی۔ تاہم 2018 میں امریکہ کی علیحدگی کے بعد پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ مزید گہرا ہو گیا۔
مجموعی طور پر اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی دباؤ، علاقائی سلامتی اور عالمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا منجمد اثاثوں کی رہائی کسی بڑی پیش رفت کا سبب بنتی ہے یا صورتحال بدستور جمود کا شکار رہتی ہے۔



