

خواجہ الطاف حسین حالیؔ (۳۱؍دسمبر یوم وفات)
شکیل مصطفی (مالیگاؤں)
حالیؔ کا اصل نام خواجہ الطاف حسین اور تخلص حالیؔ تھا۔ ان کے والد کانام خواجہ ایزد بخش تھا۔ ۳۰؍ستمبر کو بہ مقام پانی پت میں ولادت ہوئی۔ جب آپ ۹؍برس کے تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔ بچپن میں قرآن مجید ختم کرکے فقہ، حدیث، فلسفہ او رمنطق کی تعلیم حاصل کی۔ اپنے علمی ذوق و شوق کی بدولت انہوںنے فارسی اور عربی زبان میں مہارت پیدا کرلی۔ حالیؔ کے ادبی ذوق کی تربیت شیفتہؔ اور مرزا غالبؔ کی صحبتوں میں ہوئی۔ نثری اصناف میں سوانح ایک اہم صنف ہے۔ اُردو میں اس صنف کی ابتدا الطاف حسین حالیؔ نے کی۔ مرزا غالبؔ کی سوانح ’’یادگار غالب، سرسیّد کی سوانح حیاتِ جاوید اور سعدی شیرازی کی سوانح ’حیاتِ سعدی‘ ان کی اہم سوانح تصانیف ہیں۔
حالیؔ کا شمار جدید اُردو شاعری کے بانیوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے عصری تقاضوں کے پیش نظر اصلاحی نوعیت کی عمدہ نظمیں لکھیں۔ ان میں مدو جزر اسلام کو بہت شہرت ملی۔ یہ نظم مسدس حالیؔ کے نام سے بھی مشہور ہوئی۔ حالیؔ نے نظم جدید کے ساتھ ساتھ غزل اور مختلف معاشرتی و اخلاقی مسائل پر بھی نظمیں لکھی ہیں۔ ان کے دیوان کا مقدمہ اُردو تنقید کی پہلی کتاب سمجھا جاتا ہے جو مقدمۂ شعر و شاعری، کے نام سے مشہور ہے۔ حالیؔ نے اپنے استاد مرزا غالبؔ کی وفات پر ’مرثیہ غالبؔ‘ لکھا تھا اس طرح اُردو شاعری میں شخصی مرثیہ نگاری کو رواج دیا۔ یہ مرثیہ پاکیزہ لب ولہجہ، زبان کی شیرینی اور پُرخلوص جذبۂ عقیدت کے اظہار کا بہترین نمونہ ہے۔
خواجہ الطاف حسین حالیؔ کا انتقال ۳۱؍دسمبر ۱۹۱۴ء میں پانی پت میں ہوا۔



