
آدھار کارڈ رکھنے والوں کیلئے بڑی راحت، مفت اپڈیٹ کی مدت میں توسیع
آدھار مفت اپڈیٹ کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی
نئی دہلی 22 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آدھار آج ملک میں شناخت کی سب سے اہم دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بینک کھاتہ کھلوانے سے لے کر سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے تک تقریباً ہر مالی اور انتظامی کام کے لیے اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے میں اس دستاویز کو وقتاً فوقتاً تازہ معلومات کے ساتھ اپڈیٹ رکھنا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے لاکھوں شہریوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے آدھار کو مفت اپڈیٹ کرنے کی آن لائن سہولت کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ اب یہ سہولت 14 جون 2027 تک مکمل طور پر مفت دستیاب رہے گی۔ اس سے قبل یہ خدمت 15 جون 2026 سے بامعاوضہ ہونے والی تھی۔
یو آئی ڈی اے آئی مسلسل شہریوں کو اپنی شناخت اور پتہ سے متعلق دستاویزات تازہ رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے، خاص طور پر ایسے افراد کو جنہوں نے تقریباً دس سال قبل آدھار بنوایا تھا اور اب تک اس میں کوئی تبدیلی یا اپڈیٹ نہیں کرائی۔ تازہ معلومات کی موجودگی سے سرکاری ریکارڈ زیادہ درست اور قابلِ اعتماد رہتا ہے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ صارفین بغیر کسی فیس کے اپنی شناخت اور پتہ کے ثبوت سے متعلق دستاویزات آن لائن اپڈیٹ کرسکتے ہیں۔ البتہ یہ سہولت صرف myAadhaar پورٹل پر دستیاب ہے۔ اگر کوئی شخص یہی کام کسی فزیکل آدھار سینٹر جاکر کراتا ہے تو اسے مقررہ فیس ادا کرنی ہوگی۔
پرانی ایپ جلد بند ہوگی
یو آئی ڈی اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پرانی موبائل ایپ “mAadhaar” کو جلد بند کردیا جائے گا۔ اب صارفین کو نئی اور جدید “آدھار” ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی ہوگی۔ اس نئی ایپ میں محفوظ کیو آر کوڈ کے ذریعے معلومات شیئر کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جس سے رازداری اور تحفظ کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
آن لائن اپڈیٹ کا طریقہ
صارفین کو سب سے پہلے myAadhaar پورٹل پر جانا ہوگا۔ وہاں آدھار نمبر درج کرکے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہونے والا او ٹی پی استعمال کرتے ہوئے لاگ اِن کرنا ہوگا۔ اس کے بعد موجودہ پروفائل کی تفصیلات اسکرین پر نظر آئیں گی، جنہیں اچھی طرح جانچنا ضروری ہوگا۔
اگر تمام معلومات درست ہوں تو “میں تصدیق کرتا ہوں کہ اوپر دی گئی تفصیلات درست ہیں” والے اختیار پر کلک کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ڈراپ ڈاؤن مینیو سے شناختی دستاویز منتخب کرکے اس کی سافٹ کاپی اپلوڈ کرنی ہوگی۔ اسی طرح پتہ کے ثبوت سے متعلق دستاویز بھی اپلوڈ کرنا ہوگا۔ فائل کا حجم 2 ایم بی سے کم ہونا چاہیے اور وہ JPEG، PNG یا PDF فارمیٹ میں ہونی چاہیے۔
اگرچہ آن لائن سہولت نے کئی کام آسان بنادیے ہیں، لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اہم تبدیلیاں اب بھی صرف آدھار مراکز میں ہی کی جاسکتی ہیں۔ بایومیٹرک تفصیلات جیسے فنگر پرنٹ، آنکھوں کی اسکیننگ یا تصویر میں تبدیلی کے لیے صارفین کو آدھار سینٹر جانا لازمی ہوگا۔
اسی طرح نام، تاریخ پیدائش، جنس یا رجسٹرڈ موبائل نمبر میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے قریبی آدھار سروس سینٹر کا دورہ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔



