قومی خبریں

آئی اے ایس افسران کے بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال

سپریم کورٹ میں او بی سی کریمی لیئر ریزرویشن کیس کی سماعت

نئی دہلی 22 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے او بی سی کریمی لیئر ریزرویشن معاملے کی سماعت کے دوران اہم تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آئی اے ایس افسران کے بچوں کو ریزرویشن کے فوائد کیوں فراہم کئے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ اگر طلبہ کے والدین اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوں اور اچھی آمدنی حاصل کررہے ہوں تو ایسے خاندانوں کے بچوں کو ریزرویشن کے دائرے سے باہر ہونا چاہئے۔ عدالت نے اس معاملے کو سماجی اور معاشی ترقی سے جوڑتے ہوئے اہم مشاہدات پیش کئے۔

سماعت کے دوران جسٹس ناگارَتنا نے استفسار کیا کہ جب والدین دونوں آئی اے ایس افسران ہوں تو ان کے بچوں کو ریزرویشن کی سہولت دینے کی ضرورت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور معاشی استحکام سماجی بلندی کا راستہ ہموار کرتے ہیں، اس لئے ایسے حالات میں ریزرویشن کا مطالبہ مناسب نہیں سمجھا جاسکتا۔

یہ معاملہ کرناٹک کے کُروبا طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار سے متعلق ہے جسے اسسٹنٹ انجینئر کے عہدہ کیلئے منتخب کیا گیا تھا، تاہم ذات اور آمدنی کی جانچ کمیٹی نے اسے کریمی لیئر میں شامل قرار دیتے ہوئے ذات کی توثیقی سند جاری کرنے سے انکار کردیا۔ حکام کے مطابق امیدوار کے خاندان کی سالانہ آمدنی تقریباً 19.48 لاکھ روپے تھی اور دونوں والدین سرکاری ملازم ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر والدین اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوں، اچھی تنخواہ حاصل کررہے ہوں اور سماجی طور پر مستحکم ہوچکے ہوں تو ان کے بچوں کو ریزرویشن سے باہر آنا چاہئے تاکہ حقیقی طور پر پسماندہ طبقات تک اس کا فائدہ پہنچ سکے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ سرکاری ملازمین کیلئے کریمی لیئر کا تعین صرف تنخواہ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ والدین کے عہدہ اور خدمات کے زمرہ کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button