ہندوتوا سیاست کا ’’پوسٹر بوائے‘‘ آج فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے پر مجبور
مذہبی جنون کیلئے استعمال کئے گئے دلت نوجوان اشوک موچی کی کہانی
حیدرآباد 22 /مئی : گجرات کے 2002ء فسادات کے دوران ماتھے پر زعفرانی پٹی باندھے اور ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھامے ایک نوجوان کی تصویر کو ہندوتوا تنظیموں اور بی جے پی کے حامی حلقوں نے ’’ہندو بیداری‘‘ اور ’’غصے‘‘ کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہی نوجوان اشوک پرمار تھا، جو بعد میں اشوک موچی کے نام سے مشہور ہوا۔ دو دہائیوں بعد آج وہی شخص احمد آباد کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اشوک موچی نے ایک ٹیلی ویژن چیانل سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تلخ حقیقت بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا طاقتوں نے سیاسی فائدے کیلئے نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا، فسادات کرائے اور پھر ایسے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ اشوک موچی نے کہا کہ وہ دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اسی لئے انہیں کبھی وہ مقام یا عزت نہیں دی گئی جس کا وعدہ کیا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تصویر کو ہندوتوا ایجنڈے کی تشہیر کیلئے بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا، مگر بعد میں کسی مذہبی یا سیاسی پروگرام میں مدعو تک نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب میں بھی انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں صرف ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
اشوک موچی نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2002ء کے فسادات کے بعد سے آج تک کسی ہندو تنظیم، بی جے پی یا کسی اور ادارے نے ان کی کوئی مالی مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو ہندو دھرم کا ٹھیکیدار کہتے ہیں، انہوں نے مجھے سڑکوں پر مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔
اشوک موچی کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو فرقہ وارانہ سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں گجرات کی سیاست اور سماجی منظرنامہ مکمل طور پر بدل گیا، کئی قائدین اقتدار کے اعلیٰ منصبوں تک پہنچ گئے، لیکن وہ شخص جو فسادات کی علامت بنا دیا گیا تھا، آج بھی فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اپنی برباد جوانی کو یاد کرکے کرب محسوس کرتا ہے۔



