بین ریاستی خبریںسرورق

مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں بڑا ردوبدل، 10 رکنی بورڈ میں پہلی بار دو ہندو اراکین شامل

موہن یادو حکومت نے نئے وقف ایکٹ 2025 کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا، سنور پٹیل کو چیئرمین مقرر کیا گیا۔

بھوپال:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش نئے وقف ایکٹ 2025 کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل کرنے والا ملک کا پہلا ریاست بن گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر ریاستی حکومت نے مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے نئے ڈھانچے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نو تشکیل شدہ بورڈ میں سنور پٹیل کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

اس بار 10 رکنی وقف بورڈ میں پہلی مرتبہ دو ہندو اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے وقف ایکٹ 1995 (ترمیم شدہ 2025) کی دفعات 13 اور 14 کے تحت بورڈ کی تشکیل کی ہے۔ بورڈ میں منوج مالپانی اور انیمیش بھارگو کو ہندو اراکین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

نئے وقف بورڈ کے دیگر اراکین میں نجمہ ہپت اللہ، رکن اسمبلی عاطف عقیل، فیضان خان، فاطمہ چودھری، شائستہ سلطان، شبانہ خان اور پسماندہ طبقات و اقلیتی فلاح و بہبود محکمہ کے کمشنر شامل ہیں۔

ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نجمہ ہپت اللہ کی رکنیت کا دورانیہ 19 اپریل 2023 کی نوٹیفکیشن کے مطابق 18 اپریل 2028 تک برقرار رہے گا، اس لیے انہیں نئے بورڈ میں بھی بطور رکن شامل رکھا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق نئے وقف قانون کے نفاذ کے بعد مدھیہ پردیش پہلا ریاست ہے جس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وقف بورڈ کی ازسرنو تشکیل مکمل کی ہے۔

وقف بورڈ کیا کام کرتا ہے؟

مدھیہ پردیش وقف بورڈ ایک قانونی ادارہ ہے جو وقف ایکٹ 1995 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس کا صدر دفتر بھوپال میں واقع ہے۔ بورڈ کی ذمہ داریوں میں وقف املاک کا انتظام، ان کی حفاظت، جائیدادوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنا، غیر قانونی قبضوں سے تحفظ فراہم کرنا اور وقف املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی فلاح کے کاموں میں استعمال کو یقینی بنانا شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button