بے خوابی کے مضر اثرات-ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی
پرسکون نیند صرف آرام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے نیند انتہائی ضروری عمل ہے جو فطرت کا تقاضہ بھی ہے۔ سوئے بغیر انسان کا دماغ اور جسم درست طور پر کام نہیں کرتا۔ زندگی کے دباؤ اور روزمرہ کی مشکلات کے باعث بعض افراد طویل وقت تک جاگتے رہتے ہیں، تاہم اس کے سنگین اثرات جسم اور دماغ دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
الرجل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق نیند جسمانی نشوونما، توانائی اور قوت مدافعت کیلئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مسلسل جاگتے رہنے سے جسم کی دفاعی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے جس کے نتیجے میں مختلف بیماریوں کے جراثیم جسم پر آسانی سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
کتنی دیر تک جاگا جا سکتا ہے؟
ماہرین اب تک اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ انسان کتنی دیر تک بغیر نیند کے صحت مند رہ سکتا ہے۔ تاہم دنیا میں مسلسل جاگنے کا ریکارڈ 264 گھنٹے یعنی تقریباً 11 دن بتایا جاتا ہے۔
ایک سروے میں شریک فرد نے بتایا کہ مسلسل تیسرے دن جاگنے کے بعد اسے متلی، یادداشت کی کمزوری اور ذہنی الجھن کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جسم طویل عرصے تک نیند کی کمی برداشت نہیں کر سکتا۔
ہیلتھ لائن ویب سائٹ کے مطابق تین سے چار دن تک نیند نہ لینے سے انسان کی ذہنی حالت متاثر ہونے لگتی ہے۔ توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ اور شدید تھکن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
24 گھنٹے مسلسل جاگنے کے اثرات
مسلسل 24 گھنٹے جاگنے کے بعد جسم میں کئی تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں، جن میں:
- جلد غصہ آنا
- شدید تھکن
- فیصلہ کرنے میں دشواری
- یادداشت کی کمزوری
- بصارت اور سماعت میں کمی
- جسم میں کپکپی
ماہرین کے مطابق اس دوران خون کی کیفیت بھی متاثر ہو سکتی ہے اور دماغ میں ایسے کیمیکل جمع ہونے لگتے ہیں جو بعد میں الزائمر جیسے امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔
36 گھنٹے مسلسل بیداری کے بعد
36 گھنٹے تک نہ سونے کی صورت میں جسم میں ہارمونز کا توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔ کورٹیزول، انسولین اور گروتھ ہارمون جیسے اہم ہارمونز میں کمی پیدا ہو سکتی ہے جس کے باعث:
- بھوک میں اضافہ
- مزاج میں چڑچڑاپن
- جسمانی درجہ حرارت میں خرابی
- توجہ میں کمی
- بلڈ پریشر میں اضافہ
- خطرناک فیصلے کرنے کا رجحان
جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔
48 گھنٹے تک جاگنے کے نقصانات
48 گھنٹے تک مسلسل جاگنا انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ اس دوران انسان کو غیرارادی طور پر جھپکیاں آنے لگتی ہیں۔ ذہنی الجھن بڑھ جاتی ہے اور قوت مدافعت تیزی سے کمزور ہونے لگتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق مسلسل بیداری سے جسم میں کینسر سے لڑنے والے خلیات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
72 گھنٹے تک نیند نہ لینے کے اثرات
اگر کوئی شخص 72 گھنٹے تک نہ سوئے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو جاتی ہے۔ معمولی کام بھی مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں اور انسان اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو سکتا ہے۔ اس مرحلے پر جسم زبردستی نیند کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔
بے خوابی کب دائمی شکل اختیار کرتی ہے؟
جب کوئی شخص مستقل طور پر بھرپور اور پرسکون نیند نہ لے سکے تو بے خوابی دائمی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں:
- ذہنی دباؤ
- الجھن
- مزاج میں خرابی
- توجہ کی کمی
- کام کی صلاحیت متاثر ہونا
جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
طویل عرصے تک نیند کی کمی سے بعض سنگین بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں، جن میں:
- ہائی بلڈ پریشر
- دل کے امراض
- دماغی فالج
- ذیابیطس ٹائپ ٹو
- موٹاپا
شامل ہیں۔
روزانہ کتنی نیند ضروری ہے؟
ماہرین کے مطابق عمر کے لحاظ سے نیند کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے:
- نومولود بچے: 14 سے 17 گھنٹے
- شیرخوار بچے: 12 سے 16 گھنٹے
- چھوٹے بچے: 11 سے 14 گھنٹے
- اسکول جانے والے بچے: 9 سے 12 گھنٹے
- نوعمر بچے: 8 سے 10 گھنٹے
- بالغ افراد: 7 سے 9 گھنٹے
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کیلئے روزانہ مناسب اور پرسکون نیند لینا نہایت ضروری ہے، کیونکہ نیند ہی جسم اور دماغ کو دوبارہ توانائی فراہم کرتی ہے۔



