سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

سنگھاڑہ، لیکوریا اور جریان کیلئے اکسیر-حضرت ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی

سنگھاڑا: مردانہ و زنانہ صحت کے لیے قدرتی طاقت کا خزانہ

سنگھاڑا ایک مشہور آبی پھل ہے جو عموماً تالابوں اور پانی والی جگہوں پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بیل پانی کی سطح پر تیرتی رہتی ہے جبکہ اس کے تکون نما پھل اپنے منفرد ذائقے اور غذائیت کی وجہ سے کافی پسند کیے جاتے ہیں۔ سنگھاڑے پر سینگوں جیسے کانٹے ہوتے ہیں، اسی لیے سنسکرت میں اسے شرنگاٹک بھی کہا جاتا ہے۔

سنگھاڑا جب کچا ہوتا ہے تو اس کا رنگ سبز ہوتا ہے، مگر پکنے کے بعد اس میں سیاہی مائل رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے سخت چھلکے کے اندر سفید رنگ کی نرم گری ہوتی ہے جو ذائقے میں ہلکی مٹھاس رکھتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اسے کچا کھاتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں ابال کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ابالنے کے بعد اس میں دوبارہ مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے۔

سنگھاڑے میں پائی جانے والی غذائیت

ماہرین غذائیت کے مطابق سنگھاڑے میں نشاستہ، پروٹین، قدرتی شکر، معدنیات اور میگنیز جیسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جسمانی توانائی فراہم کرنے والی قدرتی غذا تصور کیا جاتا ہے۔

یونانی و آیوروید نظریات کے مطابق تازہ سنگھاڑا سرد و تر جبکہ خشک سنگھاڑا سرد خشک تاثیر رکھتا ہے۔ تازہ سنگھاڑا پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈک پہنچانے میں مفید سمجھا جاتا ہے۔

جسم کی گرمی اور جلن میں فائدہ

ایسے افراد جنہیں ہاتھ پاؤں میں جلن، منہ کے چھالے، جسمانی گرمی یا جلد پر دانوں کی شکایت رہتی ہو، ان کیلئے سنگھاڑا مفید غذا مانا جاتا ہے۔ روایتی طب کے مطابق کھانے کے کچھ دیر بعد سنگھاڑا یا اس کا مربہ استعمال کرنے سے فائدہ ہوسکتا ہے۔

خواتین کی صحت کیلئے سنگھاڑے کے فوائد

قدیم طبی نسخوں میں سنگھاڑے کو خواتین کی صحت کیلئے اہم قرار دیا گیا ہے۔ خاص طور پر:

ایام کی زیادتی
جسمانی کمزوری
لیکوریا یعنی سیلان الرحم
رحم کی کمزوری

جیسے مسائل میں سنگھاڑے کے آٹے سے بنی غذائیں استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

ایام کی زیادتی

روایتی طور پر سنگھاڑے کے آٹے کی روٹی استعمال کرنے کو ایام کی زیادتی میں مفید سمجھا جاتا ہے۔

سیلان الرحم

جن خواتین کو لیکوریا یعنی سیلان کی شکایت رہتی ہو، ان کیلئے خشک سنگھاڑے کے آٹے کا حلوہ مفید قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے کمزوری کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

مردانہ صحت اور جسمانی طاقت

یونانی طب میں سنگھاڑے کو جسمانی طاقت بڑھانے والی غذا تصور کیا جاتا ہے۔ بعض روایتی نسخوں میں اسے دودھ، ثعلب مصری، تال مکھانہ اور موصلی سفید کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ نسخے:

جسمانی تھکن
جریان
منی کی کمزوری
ازدواجی کمزوری

جیسے مسائل میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

منی کی کمی

روایتی یونانی طب کے مطابق سنگھاڑے کے آٹے کو مناسب مقدار میں دودھ کے ساتھ استعمال کرنا مفید سمجھا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس کا حلوہ بنا کر بھی کھاتے ہیں۔ قدیم طبی نسخوں میں اسے جسمانی کمزوری اور منی کی کمی جیسے مسائل میں معاون غذا قرار دیا گیا ہے۔

مغلظ منی کیلئے روایتی نسخہ

ثعلب مصری 5 گرام، سنگھاڑے کا آٹا 5 گرام، بنولے کا آٹا 5 گرام، گائے کا دودھ 250 گرام میں ملا لیں، پھر اس میں چھلکا اسبغول 5 گرام اور تھوڑا پانی شامل کرکے پکائیں۔ روایتی طور پر اس کھیر کو جسمانی طاقت کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایک دوسرے نسخے میں ثعلب مصری، مغز پنبہ دانہ اور سنگھاڑے کا آٹا برابر مقدار میں دودھ کے ساتھ استعمال کرنے کا ذکر ملتا ہے۔

جریان کیلئے روایتی سفوف

روایتی طبی حوالوں کے مطابق سنگھاڑا خشک، ستاور، موصلی سفید، بیج بند، تال مکھانہ، خشخاش سفید اور دیگر اجزاء کو ملا کر سفوف تیار کیا جاتا ہے۔ اسے نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سنگھاڑے کے آٹے کی خوراک

روایتی طبی حوالوں کے مطابق خشک سنگھاڑے کے سفوف کی مقدار تقریباً 20 گرام سے 50 گرام تک بیان کی جاتی ہے، تاہم ہر فرد کی جسمانی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ماہر معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

احتیاط ضروری ہے

ماہرین صحت کے مطابق کسی بھی گھریلو نسخے یا جڑی بوٹی کو مستقل علاج سمجھنے کے بجائے متوازن غذا اور طبی مشورے کو ترجیح دینی چاہیے۔ شوگر، ہاضمے کے مسائل یا کسی پرانی بیماری میں مبتلا افراد استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

ڈسکلیمر:
یہ مضمون صرف عمومی معلومات کیلئے ہے۔ کسی بھی بیماری یا طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button