شامیَرپیٹ تحصیلدار دفتر میں اے سی بی چھاپہ،30 لاکھ روپے رشوت کیس میں ایم آر او گرفتار
اے سی بی کے جال میں پھنسی خاتون ایم آر او
میڈچل 27 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ کے میڈچل ضلع میں واقع شامیَرپیٹ تحصیلدار دفتر میں انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی اچانک کارروائی سے سنسنی پھیل گئی۔ رنگاریڈی اے سی بی کے ڈی ایس پی آنند کمار کی قیادت میں حکام نے دفتر میں تفصیلی تلاشی مہم چلائی۔
اے سی بی حکام کے مطابق شامیَرپیٹ منڈل کے عالی آباد علاقہ میں تقریباً 30 ایکڑ اراضی کے کنورژن معاملہ میں بھاری رقم بطور رشوت طلب کیے جانے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئیں۔
ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ فی ایکڑ ایک لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے طلب کیے گئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ تحصیلدار کے ڈرائیور کے ذریعے 2 لاکھ روپے وصول کیے جارہے تھے، اسی دوران اے سی بی ٹیم نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔
کارروائی کے دوران دفتر سے اہم دستاویزات، اراضی اجازت ناموں سے متعلق ریکارڈ اور دیگر فائلیں ضبط کرلی گئیں۔ ذرائع کے مطابق ایم آر او سچریتا کے علاوہ کیسرا آر ڈی او راجیش سمیت کئی ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
اے سی بی حکام نے کہا کہ معاملہ کی مکمل جانچ جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ اس واقعہ کے بعد ضلع بھر میں سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کے معاملات پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2024 میں بھی شامیَرپیٹ تحصیلدار دفتر رشوت خوری کے ایک معاملہ میں خبروں میں رہا تھا۔ اُس وقت کے ایم آر او ستیہ نارائنہ اور ان کے ڈرائیور کو 2 لاکھ روپے رشوت کیس میں اے سی بی نے گرفتار کیا تھا۔ اب ایک بار پھر اسی دفتر میں کارروائی ہونے سے عوامی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔



