قومی خبریں

خان سر کے کوچنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش، گارڈ پر تشدد، فائرنگ سے سنسنی

غریب طلبہ کو تعلیم سے محروم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ خان سر

پٹنہ 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں واقع معروف تعلیمی ادارے خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر بدھ کو فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مصلّہ پور ہاٹ علاقے میں پیش آیا، جہاں دو کوچنگ اداروں کے درمیان تنازعے کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے پانچ سے چھ راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس دوران کوچنگ سینٹر کے باہر نصب پوسٹرز اور بینرز بھی پھاڑ دیے گئے۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر ادارے کے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی گارڈ کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس نے قریبی دکانداروں اور عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ علاقے میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی کھنگالی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے۔

مصلّہ پور ہاٹ پٹنہ کا ایک اہم تعلیمی مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں متعدد کوچنگ ادارے اور طلبہ کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد طلبہ اور مقامی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے خان سر نے کہا کہ چند سماج دشمن عناصر کوچنگ سینٹر پہنچے اور دو دن کے اندر ادارے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے گارڈ کو بری طرح مارا پیٹا اور زخمی حالت میں چھوڑ دیا۔

خان سر نے الزام لگایا کہ بعض عناصر ان کے ادارے کی کم فیس اور بہتر تعلیمی نتائج سے ناخوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ان کا مقصد ہے اور ایسے عناصر طلبہ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں اور طلبہ کی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کیے جائیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button