نئی دہلی 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے ساس اور بہو کے درمیان جائیداد کے تنازع سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بہو کو ساس کی خود کمائی ہوئی جائیداد میں رہنے کا کوئی آزاد قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر شوہر کا اس مکان میں رہنے کا حق ختم ہو جائے تو بہو بھی وہاں رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
جسٹس نینا بنسل کرشنا کی سربراہی والی بنچ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ شادی شدہ خاتون کا حقِ رہائش اور نگہداشت بنیادی طور پر اس کے شوہر کے خلاف بنتا ہے، نہ کہ ساس کے خلاف۔ عدالت کے مطابق بیٹے اور بہو کا ساس کے گھر میں قیام محض اجازت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور جائیداد کی مالک اگر یہ اجازت واپس لے لے تو اس کے بعد وہاں رہنے کا قانونی حق باقی نہیں رہتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کسی مکان میں رہائش اختیار کرنا یا مشترکہ خاندانی ماحول میں رہنا ملکیتی حق پیدا نہیں کرتا، خاص طور پر اس صورت میں جب جائیداد ساس یا سسر نے اپنی ذاتی آمدنی سے خریدی ہو۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق خاتون کی شادی 2003 میں ہوئی تھی اور وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ ساس کے گھر میں رہتی تھی۔ بعد میں خاندانی اختلافات کے باعث میاں بیوی الگ ہو گئے، تاہم بعد ازاں وہ دوبارہ ساس کی ملکیت والی جائیداد میں منتقل ہو گئے۔
ساس نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک لائسنس معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے ماہانہ 3000 روپے کے عوض رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد میں کرایہ ادا نہ کیے جانے پر ساس نے یہ اجازت ختم کر دی۔ اس کے باوجود بہو اور اس کا بچہ اسی مکان میں مقیم رہے۔
اس صورتحال کے بعد ساس نے دیوانی مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جائیداد اس کی ذاتی ملکیت ہے اور کسی دوسرے فرد کو اس پر قانونی حق حاصل نہیں۔ بہو نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ اسے ازدواجی گھر میں رہنے کا حق حاصل ہے، چاہے وہ مکان ساس کی ملکیت ہی کیوں نہ ہو۔
تاہم دہلی ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ساس کی خود کمائی ہوئی جائیداد پر بہو کا کوئی خودکار یا آزاد حق نہیں بنتا۔ عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے بہو کی اپیل خارج کر دی۔