نئی دہلی 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بالی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس ایک بار پھر 200 کروڑ روپے کے مبینہ بھتہ خوری اور منی لانڈرنگ کیس کے باعث خبروں میں ہیں۔ بدھ کو وہ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔ عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد مقدمہ اب باقاعدہ سماعت کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران جیکولین فرنینڈس نے واضح کیا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو تسلیم نہیں کرتیں اور قانونی کارروائی کا سامنا کریں گی۔ اس ہائی پروفائل مقدمے میں مبینہ دھوکہ باز سکیش چندر شیکھر، اس کی اہلیہ لینا ماریا پال اور دیگر افراد بھی شریکِ ملزم ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے الزام لگایا کہ سکیش چندر شیکھر جیل کے اندر سے کروڑوں روپے کی بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس مبینہ غیر قانونی رقم کا ایک حصہ مہنگے تحائف، قیمتی اشیاء اور دیگر مراعات کی صورت میں مختلف افراد تک پہنچایا گیا۔
تحقیقات کے دوران جیکولین فرنینڈس کا نام بھی سامنے آیا اور دعویٰ کیا گیا کہ انہیں سکیش چندر شیکھر کی جانب سے کئی قیمتی تحائف موصول ہوئے تھے۔ تاہم اداکارہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ وہ خود دھوکہ دہی کا شکار ہوئیں اور سکیش کی اصل شناخت یا اس کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں سے واقف نہیں تھیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران سکیش چندر شیکھر اور جیکولین فرنینڈس کے تعلقات بھی خبروں کا موضوع رہے۔ دونوں کی مبینہ نجی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جبکہ سکیش نے جیل سے جیکولین کے نام متعدد کھلے خطوط بھی لکھے۔ ان خطوط میں اس نے اداکارہ کے لیے محبت کا اظہار کیا اور مختلف مواقع پر مہنگے تحائف بھیجنے کے دعوے کیے تھے۔
اگرچہ جیکولین فرنینڈس متعدد مواقع پر کہہ چکی ہیں کہ انہیں عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے اور وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہیں، لیکن فردِ جرم عائد ہونے کے بعد یہ مقدمہ اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں پیش کیے جانے والے شواہد اور گواہوں کے بیانات اس مقدمے کی سمت اور انجام کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، جس پر بالی ووڈ سمیت پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔



