سرورققومی خبریں

بیٹوں کو حق ہے تو بیٹیوں کو کیوں نہیں؟ شادی کے بعد بھی بیٹیاں خاندان کا حصہ ہیں: سپریم کورٹ

شادی شدہ بیٹیاں بھی خاندان کا حصہ، حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا

نئی دہلی 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے شادی شدہ خواتین کے حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شادی کے بعد بھی بیٹیاں اپنے والدین کے خاندان کا حصہ رہتی ہیں اور انہیں صرف ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر کسی فلاحی اسکیم یا ہمدردانہ فائدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو شادی کی بنیاد پر خاندان کی تعریف سے خارج کرنا آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شادی شدہ بیٹیوں کو فلاحی منصوبوں کے دائرے سے باہر رکھنا فرسودہ صنفی تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق ایسا امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 میں دی گئی مساوات اور عدم امتیاز کی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ تصور کہ شادی کے بعد بیٹی اپنے والدین کے خاندان کا رکن نہیں رہتی یا ان پر انحصار ختم ہو جاتا ہے، آئینی طور پر ناقابل قبول ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شادی نہ تو بیٹی اور اس کے والدین کے درمیان خاندانی تعلق ختم کرتی ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر اس کے حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں۔

بنچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شادی شدہ بیٹے اپنی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر خاندان کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بیٹیوں کو صرف شادی کی وجہ سے خاندان سے الگ تصور کیا جاتا ہے، جو مساوات کے اصول کے منافی ہے۔

یہ فیصلہ کلثوم نشاء نامی خاتون کی اپیل پر سنایا گیا۔ اتر پردیش میں مارچ 2024 میں ان کی والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے منحصر کوٹہ کے تحت فیئر پرائس شاپ کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دی تھی۔ نشا کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے بعد بھی اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ رہتی تھیں، دکان کے انتظام میں مدد کرتی تھیں اور خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔

تاہم مقامی مجسٹریٹ نے ان کی درخواست صرف اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ وہ شادی شدہ بیٹی ہیں اور ریاستی حکومت کے حکم کے مطابق خاندان کی تعریف میں شامل نہیں ہوتیں۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں نشا نے مؤقف اختیار کیا کہ شادی شدہ بیٹیوں کو اس طرح کے فوائد سے محروم رکھنا مساوات کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ شادی کے بعد بیٹیاں عموماً اپنے سسرال منتقل ہو جاتی ہیں اور والدین کے گھر سے ان کا تعلق کم ہو جاتا ہے۔

عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رہائش کا معاملہ الگ اہلیت کی شرط ہو سکتا ہے جس کا جائزہ ہر مقدمے کے حقائق کی بنیاد پر لیا جا سکتا ہے، لیکن صرف شادی شدہ ہونے کی وجہ سے کسی خاتون کو حقوق یا فوائد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے حوالے سے ایک اہم قانونی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button