بین الاقوامی خبریں

امریکہ-ایران جنگ رک گئی؟ ٹرمپ نے امن معاہدے، ہرمز کی بحالی اور ناکہ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا

تاریخی موڑ: ٹرمپ کا دعویٰ، ایران سے معاہدہ مکمل

واشنگٹن، 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے درمیان ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اب عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی رکاوٹ کے کھولا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے خطے میں استحکام اور عالمی تجارت کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

ادھر ایران کی جانب سے معاہدے کی مکمل سرکاری توثیق ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل جلد اس حوالے سے اپنا باضابطہ مؤقف پیش کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سفارتی حلقے تہران کے سرکاری اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے بلکہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکی سمیت ان ممالک کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں معاون کردار ادا کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے رواں ماہ سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کر سکتے ہیں جہاں معاہدے کو باضابطہ شکل دینے اور آئندہ مراحل پر تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے خام تیل کی سپلائی میں بہتری اور بین الاقوامی منڈیوں میں استحکام پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کی نظریں اب دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات اور متوقع سرکاری اعلانات پر مرکوز ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button