قومی خبریں

دہلی میں بچوں کی اسمگلنگ کا بڑا گینگ بے نقاب، 12 گرفتار، 5 نومولود بچے بازیاب

بے اولاد جوڑوں کو لاکھوں میں بچے فروخت کرنے والا گینگ پکڑا گیا،

نئی دہلی 18/جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی پولیس نے شمالی ہند میں سرگرم بچوں کی اسمگلنگ کے ایک بڑے بین الریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک IVF (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) اسپتال کی مالک بھی شامل ہے۔ کارروائی کے دوران پانچ نومولود بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔

پولیس کے مطابق 5 جون کو مرکزی ضلع کی آپریشنز یونٹ کو بچوں کی خرید و فروخت سے متعلق خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے فرضی خریداروں کو پہاڑ گنج کے آر کے آشرم میٹرو اسٹیشن کے قریب بھیجا، جہاں ایک نومولود لڑکے کی خریداری کے لیے 20 ہزار روپے بطور پیشگی رقم ادا کی گئی۔

اس کارروائی کے نتیجے میں جیوتی عرف کملیش، شالو اور للت کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ تینوں ایک منظم گینگ کا حصہ ہیں جو مختلف ذرائع سے نومولود بچوں کو حاصل کرکے بے اولاد جوڑوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق جیوتی اس نیٹ ورک کی اہم کارندہ تھی، جبکہ راجستھان سے نومولود بچوں کی فراہمی میں کالیا نامی شخص ملوث تھا۔ گینگ کا ایک اور رکن وپن بچوں کی نقل و حمل اور ترسیل کا انتظام کرتا تھا۔

مزید تحقیقات کے دوران پرتیبھا اور وپن کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اور نومولود بچے کا انتظام کرنے جا رہے تھے۔ ان کے قبضے سے 2 لاکھ 92 ہزار 400 روپے نقد برآمد ہوئے، جو پولیس کے مطابق ایک نومولود بچے کی خریداری کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔

تحقیقات میں گروگرام میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی اوم وتی کے کردار کا بھی انکشاف ہوا، جو نومولود بچوں کو حاصل کرنے اور انہیں اسمگلنگ نیٹ ورک تک پہنچانے میں مدد کرتی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ دہلی کے بیگم پور علاقے میں واقع ہیرا ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی مالک ڈاکٹر ویویکی بھی اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائی گئی۔ الزام ہے کہ وہ اسپتال میں لائے گئے نومولود بچوں کو رکھتی تھیں اور علاج کے لیے آنے والے بے اولاد جوڑوں میں خریدار تلاش کرتی تھیں۔

تفتیش کے مطابق بچیوں کو 3 سے 4 لاکھ روپے جبکہ بچوں کو 7 سے 8 لاکھ روپے تک میں فروخت کیا جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکوں کی زیادہ مانگ کے باعث ان کی قیمت بھی زیادہ رکھی جاتی تھی۔

حکام کے مطابق گینگ جعلی طبی دستاویزات، پیدائش کے ریکارڈ اور اسپتال سے متعلق کاغذات تیار کرکے بچوں کی اصل شناخت چھپاتا تھا تاکہ غیر قانونی فروخت کو قانونی شکل دی جا سکے۔

پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور اس کے بین الریاستی روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button