قومی خبریں

غازی آباد کے حج ہاؤس کو گاؤشالہ بنانے کا مطالبہ، ہندوتوا رہنما کا متنازع بیان

ستیَم پنڈت نے کہا کہ حج ہاؤس کی زمین کو گاؤشالہ میں تبدیل کیا جائے

نئی دہلی 18/جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں واقع حج ہاؤس ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ ہندوتوا تنظیم نیشنل ہندو ویر سینا کے رہنما ستیَم پنڈت نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندن وہار میں واقع حج ہاؤس کو گاؤشالہ میں تبدیل کردیا جائے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں وہ دعویٰ کررہا ہے  کہ یہ عمارت اپنے اصل مقصد کے مطابق استعمال نہیں ہو رہی اور اسے کسی ایسے کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جس سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

ویڈیو میں ستیَم پنڈت نے کہا کہ حج ہاؤس کی زمین کو گاؤشالہ میں تبدیل کیا جائے تاکہ اس کا بہتر استعمال ہوسکے۔ اس  نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ مقام بلا ضرورت مسلم برادری کے لیے مختص کیا گیا اور برسوں سے بند پڑا ہے۔

اعلیٰ حضرت حج ہاؤس کو 2016 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے افتتاح کے بعد مغربی اتر پردیش کے عازمین حج کے لیے ایک ٹرانزٹ مرکز کے طور پر شروع کیا تھا۔ سات منزلہ اس عمارت میں ایک وقت میں تقریباً 1,886 عازمین کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں حاجیوں کے طبی معائنے، ویکسینیشن اور سفرِ حج سے قبل ضروری انتظامات کیے جاتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات برسوں سے عمارت عملی طور پر بند پڑی ہے اور اس کی حالت بھی خراب ہوچکی ہے۔ حال ہی میں ریاستی محکمہ اقلیتی امور نے ایک تجویز پیش کی تھی جس میں حج ہاؤس کو گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی تھی تاکہ عمارت کا استعمال بڑھایا جاسکے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے آمدنی حاصل ہو۔

تاہم اس تجویز پر مسلم برادری کے مختلف حلقوں نے اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حج ہاؤس مذہبی اور سماجی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا، اس لیے اسے کسی تجارتی یا متبادل مقصد کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

اب ہندوتوا رہنما کے گاؤشالہ بنانے کے مطالبے کے بعد معاملہ مزید سیاسی رنگ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر ابھی تک اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button