وارانسی میں گنجِ شہیداں مسجد پر ریلوے کا نوٹس، 20 جون کی ڈیڈ لائن
گنجِ شہیداں مسجد صدیوں پرانی عبادت گاہ ہے
وارانسی | 16 جون 2026 | اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں :وارانسی میں کاشی ریلوے اسٹیشن کی ازسرنو تعمیر اور مجوزہ ملٹی ماڈل انٹرموڈل ٹرمینل پروجیکٹ کے درمیان گنجِ شہیداں مسجد کو لے کر ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ نے مسجد کے باہر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے 20 جون 2026 تک تعمیرات ہٹانے کی ہدایت دی ہے، جبکہ مسجد کمیٹی نے اس اقدام کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق مسجد اسٹیشن کے داخلی علاقے کے قریب واقع اس زمین پر قائم ہے جسے ریلوے اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کاشی ریلوے اسٹیشن پر جاری ترقیاتی اور توسیعی منصوبوں کی راہ میں یہ تعمیر رکاوٹ بن رہی ہے، اسی لیے متعلقہ فریقین کو مقررہ وقت کے اندر جگہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
ریلوے کی جانب سے جاری نوٹس میں ایک پرانے عدالتی مقدمے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ عدالت کی جانب سے مقدمہ خارج کیے جانے کے بعد زمین سے متعلق کارروائی کا راستہ صاف ہو گیا، جس کے بعد مبینہ غیر مجاز تعمیرات ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری طرف مسجد کمیٹی نے ریلوے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے نوٹس کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ نوٹس پر نہ تو کسی مجاز افسر کے دستخط موجود ہیں اور نہ ہی اس کے اجرا کی تاریخ درج ہے، جس سے اس کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مسجد کمیٹی کے مطابق جس مقدمے کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس کا مسجد سے براہ راست تعلق نہیں تھا بلکہ وہ مسجد سے متصل زمین کے ایک حصے سے متعلق تھا۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے کو بنیاد بنا کر مسجد کے خلاف کارروائی کا جواز پیش کرنا درست نہیں۔
کمیٹی نے مسجد کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گنجِ شہیداں مسجد صدیوں پرانی عبادت گاہ ہے اور مختلف تاریخی دستاویزات اور آبادکاری نقشوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے مطابق مسجد کا وجود اس علاقے میں ریلوے کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔
مسجد سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ مقام طویل عرصے سے مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ان کے مطابق مسجد کے احاطے میں کئی خاندان بھی رہائش پذیر ہیں اور اگر اسے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو معاملہ ہر قانونی فورم پر اٹھایا جائے گا۔
کاشی ریلوے اسٹیشن کو جدید سہولیات سے آراستہ ایک بڑے ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ مرکز میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔ 336 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے اس منصوبے کے تحت ریلوے، بس اور آبی نقل و حمل کے نظام کو آپس میں جوڑنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو ایک ہی مقام پر مختلف سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
منصوبے میں جدید ٹکٹنگ سسٹم، فوڈ پلازہ، ریٹائرنگ رومز، بہتر مسافر سہولیات اور آبی ٹرانسپورٹ سے رابطے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد وارانسی میں سفری سہولتوں اور رابطے کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔
فی الحال گنجِ شہیداں مسجد کے معاملے پر ریلوے اور مسجد انتظامیہ اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ 20 جون کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ہی اس معاملے کی آئندہ فیصلے پر پر مقامی آبادی، انتظامیہ اور قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔



