دھر امام باڑہ کیس: ہائی کورٹ نے چابیاں 24 گھنٹوں میں مسلم برادری کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا
محرم کے لیے پانچ دن مسلم برادری کے حوالے کرنے کی ہدایت
بھوپال/دھر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے دھر ضلع انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ سرکاری امام باڑہ کی چابیاں 24 گھنٹوں کے اندر مسلم کمیونٹی کے ایک درخواست گزار کے حوالے کی جائیں اور انہیں محرم کے موقع پر پانچ دن تک اس مقام کے استعمال کی اجازت دی جائے۔
جسٹس سبودھ ابھیانکر اور جسٹس جئے کمار پلئی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں اور ان کی برادری کو یکم جولائی 2026 تک پانچ دن کے لیے امام باڑہ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس سے ریاستی حکومت کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوگا۔
عدالت نے متعلقہ افسر اور سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) کو ہدایت دی کہ ضلع دھر کے قلعہ علاقے میں واقع سرکاری امام باڑہ کی چابیاں ایک دن کے اندر درخواست گزار صدیقی کے حوالے کی جائیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مقررہ مدت ختم ہونے پر چابیاں دوبارہ انتظامیہ کے حوالے کرنا ہوں گی۔
یہ معاملہ محرم کے دوران تعزیہ بنانے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دھر کے سرکاری امام باڑہ میں تعزیہ بنانے کی روایت شاہی دور سے چلی آرہی ہے اور یہ روایت ہندوستان کی آزادی سے پہلے سے قائم ہے۔
ریاستی حکومت نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مسلم برادری کو تعزیہ بنانے کے لیے چھوٹا امام باڑہ اور جماعت خانہ متبادل مقامات کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ محرم سے متعلق تقریبات کے اختتام کے بعد امام باڑہ کی چابیاں یکم جولائی 2026 کو دوپہر 12 بجے تک سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔ عدالت نے چند شرائط بھی عائد کی ہیں، جن کے مطابق اس مدت کے دوران امام باڑہ کی جائیداد پر کوئی مستقل تعمیر نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا تبدیلی کی اجازت ہوگی۔ درخواست گزاروں کو جائیداد صاف اور اصل حالت میں انتظامیہ کے حوالے کرنا ہوگی۔
عدالت نے پورے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 22 جولائی 2026 مقرر کر دی ہے۔



