ہرین پانڈیا قتل کیس: محمد اصغر علی کی رہائی کی درخواست پر 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم
حیدرآباد کے محمد اصغر علی نے 14 سال جیل میں گزارنے اور اچھے کردار کی بنیاد پر قبل از وقت رہائی کی درخواست دی
احمد آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سابق گجرات وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے حیدرآباد کے محمد اصغر علی کی قبل از وقت رہائی کی درخواست پر گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
محمد اصغر علی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 14 سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں اور اس دوران ان کا طرزِ عمل بھی اچھا رہا ہے، لیکن حکومت نے سزا میں معافی اور قبل از وقت رہائی کی ان کی درخواست پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
اصغر علی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے جیل میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے، اس لیے انہیں قبل از وقت رہائی دی جانی چاہیے۔
سال 2007 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ہرین پانڈیا قتل کیس میں 12 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے محمد اصغر علی سمیت تمام ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں 2011 میں گجرات ہائی کورٹ نے قتل کے مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ قتل کی کوشش کے معاملے میں جگدیش تیواری کی سزا برقرار رکھتے ہوئے دیگر ملزمان کی سزا کم کرکے سات سال کر دی تھی۔
تاہم 2019 میں سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے سی بی آئی کی اپیل منظور کی اور تمام 12 ملزمان کو دوبارہ مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا بحال کر دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے تمام مجرموں کو خودسپردگی کا حکم بھی دیا تھا۔
ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ محمد اصغر علی کی درخواست زیر غور ہے اور اس معاملے میں مشاورتی کمیٹی کی رائے حاصل کی جا چکی ہے۔ حکومت کے مطابق معاملہ جلد متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
گجرات ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ متعلقہ اتھارٹی محمد اصغر علی کی سزا میں معافی اور قبل از وقت رہائی کی درخواست پر حکم کی وصولی کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر قانون کے مطابق مناسب فیصلہ کرے۔



