پونے کیتن اگروال قتل کیس: بھائی سے پوچھ گچھ، قتل کی سازش اور خفیہ تعلقات کے نئے انکشافات
لوہا گڑھ قلعہ قتل کیس میں ہر روز نئے انکشافات،دونوں خاندانوں کے متضاد دعووں نے کیس کو مزید الجھا دیا
پونے:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر کے سنسنی خیز اور ہائی پروفائل کیتن اگروال قتل کیس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ لوہا گڑھ قلعہ میں رئیل اسٹیٹ تاجر کیتن اگروال کے قتل نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اب اس معاملے میں ملزمہ سیا گوئل کے بھائی ساحل گوئل بھی پولیس کی تفتیش کے دائرے میں آ گئے ہیں۔
پولیس نے ساحل گوئل کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسے اپنی بہن سیا گوئل اور چیتن چودھری کے مبینہ تعلقات کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ تفتیشی افسر اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر اسے اس تعلق کا علم تھا تو اس نے اپنے والدین یا خاندان کے دیگر افراد کو اس بارے میں آگاہ کیوں نہیں کیا۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ ساحل کا بیان کیس کے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ سیا گوئل کی ذہنی حالت کیا تھی، وہ اپنی طے شدہ شادی کے بارے میں کیا سوچتی تھی اور گھر کے اندر اس حوالے سے کس قسم کی بات چیت ہوتی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ساحل اپنی بہن اور چیتن چودھری کے تعلقات سے واقف تھا، تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب تفتیش کے دوران ایک بڑا انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ عاشق چیتن چودھری نے قتل کی پوری منصوبہ بندی پہلے ہی کر لی تھی۔ پولیس کے مطابق، 18 جون کو لوہا گڑھ قلعہ پہنچنے سے پہلے دونوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ سیا ایک مخصوص مقام پر بیٹھ کر پہلے سے طے شدہ اشارہ دے گی اور اشارہ ملتے ہی چیتن چودھری پیچھے سے آ کر کیتن اگروال کو گہری کھائی میں دھکیل دے گا۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بالکل منصوبہ بندی کے مطابق پیش آیا۔ کیتن آخری لمحے تک کسی خطرے سے بے خبر تھا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، اسے کھائی میں دھکیل دیا گیا۔
پولیس کے مطابق، ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران دونوں ملزمان نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا۔ چیتن چودھری نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ قلعہ میں موجود تھا لیکن جائے وقوعہ تک نہیں گیا اور اسے معلوم نہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ تاہم موبائل لوکیشن، سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور مسلسل پوچھ گچھ کے بعد دونوں کے بیانات تبدیل ہونے لگے۔ بعد ازاں دونوں نے مبینہ طور پر پولیس کے سامنے قتل کی پوری سازش کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بیان کیں۔
پوچھ گچھ کے دوران پولیس نے دونوں ملزمان سے یہ بھی سوال کیا کہ اگر وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے تو انہوں نے بھاگ کر شادی کرنے کے بجائے قتل کا راستہ کیوں اختیار کیا۔ پولیس کے مطابق، دونوں نے جواب دیا کہ ایسا کرنے سے دونوں خاندانوں کی سماجی بدنامی ہوتی، اس لیے انہوں نے مبینہ طور پر کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیان درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایک سوچی سمجھی اور پہلے سے تیار کی گئی سازش کا واضح ثبوت ہوگا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 18 جون کا واقعہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ پولیس کے مطابق، اس سے قبل بھی کیتن اگروال کو دو مرتبہ لوہا گڑھ قلعہ لے جایا گیا تھا، لیکن کسی وجہ سے منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ موقع ملنے پر مبینہ طور پر قتل کو انجام دیا گیا۔ پولیس اب ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے موبائل فون لوکیشن، الیکٹرانک شواہد اور دیگر تکنیکی معلومات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
کیتن اگروال اور سیا گوئل کی منگنی ہو چکی تھی اور دونوں کی شادی اس سال نومبر میں راجستھان کے ادے پور کے ایک شاہی محل میں طے تھی۔ دونوں خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور تقریب کو لے کر کافی پرجوش تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیا مبینہ طور پر اس شادی سے خوش نہیں تھی، تاہم اس کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ اس نے کبھی ایسی کوئی بات ان سے نہیں کی۔
سیا گوئل کی والدہ پوجا گوئل نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منگنی سے پہلے اور بعد میں کئی مرتبہ سیا سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ کیتن سے شادی کرنا چاہتی ہے اور ہر مرتبہ اس نے مثبت جواب دیا۔ ان کے مطابق، سیا نے کبھی کسی دوسرے مرد سے تعلقات یا شادی سے انکار کا ذکر نہیں کیا۔
پوجا گوئل کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیا لوہا گڑھ ٹریکنگ پر جانا بھی نہیں چاہتی تھی اور اس حوالے سے اس نے اپنی ہونے والی ساس سے بات بھی کی تھی۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں واٹس ایپ چیٹس بھی موجود ہیں جو ان کے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔
دوسری جانب کیتن کی والدہ راکھی اگروال نے دعویٰ کیا ہے کہ سیا پارٹیوں میں شراب پیتی تھی اور انہوں نے اس پر اعتراض بھی کیا تھا۔ تاہم پوجا گوئل نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے کبھی شراب نہیں پی۔
راکھی اگروال کا کہنا ہے کہ اگر سیا یا اس کے گھر والوں نے بروقت سچ بتایا ہوتا یا کسی قسم کا اشارہ دیا ہوتا تو شاید یہ رشتہ آگے نہ بڑھتا اور ان کا بیٹا آج زندہ ہوتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خاندان سے کئی اہم باتیں چھپائی گئیں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام الزامات اور جوابی الزامات کے باوجود دونوں خاندان ایک بات پر متفق ہیں۔ کیتن کی والدہ راکھی اگروال، سیا کی والدہ پوجا گوئل اور والد پروین گوئل تینوں کا کہنا ہے کہ اگر سیا یا کوئی اور اس جرم میں قصوروار ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
پولیس اس وقت کال ریکارڈز، واٹس ایپ چیٹس، موبائل فون لوکیشن، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ قتل کی مبینہ سازش کے بارے میں کون کون جانتا تھا اور آیا اس میں مزید افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں تفتیش کے مزید انکشافات اس ہائی پروفائل کیس میں کئی نئے موڑ لا سکتے ہیں۔



