
حمل جاری رکھنا ہے یا ختم؟ فیصلہ صرف عورت کا، شوہر کی اجازت ضروری نہیں: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ
رحمِ مادر اور تولیدی حقوق سے متعلق فیصلوں پر صرف عورت کا اختیار ہے، شوہر کی رضامندی ضروری نہیں۔
بھوپال:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے خواتین کے تولیدی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانونی مدت کے اندر حمل کو جاری رکھنا ہے یا اس کا خاتمہ کرنا ہے، اس کا فیصلہ صرف خاتون خود کرے گی، شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہے۔
عدالت نے 13 ہفتے اور ایک دن کی حاملہ شادی شدہ خاتون کو میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (MTP) ایکٹ 1971 کے تحت اسقاط حمل کی اجازت دے دی۔ یہ حکم 29 جون 2026 کو جاری کیا گیا۔
یہ معاملہ اندور کے ایک ہائی پروفائل جوڑے سے متعلق ہے، جن کی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے اور اسی دوران خاتون حاملہ ہوگئی۔ رشتوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد دونوں الگ رہنے لگے۔
خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ازدواجی تعلقات ٹوٹنے کی صورت میں بچے کی پیدائش اس کے لیے ذہنی، سماجی اور جذباتی طور پر انتہائی مشکل ہوگی، اس لیے وہ حمل جاری نہیں رکھنا چاہتی۔ اس نے اپنے وکیل جی پی سنگھ کے ذریعے ہائی کورٹ سے اسقاط حمل کی اجازت طلب کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے شوہر کو نوٹس جاری کیا، تاہم وہ کسی بھی تاریخ پر پیش نہیں ہوا۔ ریاستی حکومت نے بھی درخواست کی مخالفت نہیں کی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے مشہور مقدمے ‘ایکس بنام پرنسپل سیکریٹری، ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر خاتون کو اپنے جسم اور تولیدی فیصلوں سے متعلق مکمل آزادی حاصل ہے، جو اس کی شخصی آزادی اور وقار کا حصہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ غیر مطلوب حمل کا سب سے زیادہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی اثر عورت پر پڑتا ہے، اس لیے یہ فیصلہ بھی اسی کا ہونا چاہیے کہ وہ حمل جاری رکھنا چاہتی ہے یا نہیں۔ کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے خلاف ماں بننے یا حمل برقرار رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر میاں بیوی کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہوں، وہ الگ رہ رہے ہوں یا طلاق جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہو تو یہ حالات خاتون کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں اور اسقاط حمل کی اجازت دینے کے لیے ایک جائز بنیاد بن سکتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے متعلقہ ڈاکٹروں کو ہدایت دی کہ اسقاط حمل کی پوری کارروائی وزارت صحت اور عدالت کے تمام رہنما اصولوں کے مطابق انجام دی جائے اور اس دوران خاتون کی رازداری، وقار اور سلامتی کا مکمل خیال رکھا جائے۔



