
امروہہ میں تین حقیقی بہنوں کی ایک ہی شخص سے مبینہ شادی، وائرل ویڈیو کے بعد قانونی اور مذہبی بحث تیز
"محبت، روایت یا قانون؟ امروہہ کی تین بہنوں کی مبینہ شادی نے پورے ملک میں نئی بحث چھیڑ دی۔"
امروہہ، 24 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیز): اتر پردیش کے ضلع امروہہ سے سامنے آنے والی ایک غیر معمولی شادی نے پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تین حقیقی بہنوں نے اپنی مرضی سے ایک ہی شخص سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کر لی۔ اس واقعے نے جہاں لاکھوں سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا، وہیں قانونی ماہرین، مذہبی تنظیموں اور مقامی انتظامیہ کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ تاہم، اس شادی کی قانونی حیثیت یا رجسٹریشن کی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
یہ واقعہ امروہہ ضلع کی حسن پور تحصیل کے دھوریا گاؤں کا بتایا جا رہا ہے، جہاں رہنے والی سروج (20)، ساوتری (19) اور سنتوش (18) حقیقی بہنیں ہیں۔ تینوں انسٹاگرام اور فیس بک پر ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے کی وجہ سے علاقے میں خاصی مقبول ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے انسٹاگرام پر تقریباً 4 لاکھ 69 ہزار جبکہ فیس بک پر 84 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، حالانکہ ان کے اکاؤنٹس پر اب تک صرف 27 ویڈیوز ہی اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
تینوں بہنوں کے ویڈیوز شوٹ کرنے والا وکاس عرف وکّو شیم پوری گاؤں کا رہنے والا ہے، جو گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے ان کا کیمرہ مین تھا۔ وہ نہ صرف ویڈیوز ریکارڈ کرتا تھا بلکہ دیہی کہانیوں پر مبنی ریلز میں اکثر شوہر کا کردار بھی ادا کرتا تھا۔ اسی دوران چاروں کے درمیان قربت بڑھی اور بعد میں ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 جولائی کو چاروں نے امروہہ کے چامونڈا ماتا مندر میں ہندو رسومات کے مطابق آگ کو گواہ مان کر سات پھیرے لیے۔ وائرل ویڈیوز میں وکاس کو تینوں بہنوں کی مانگ میں باری باری سندور بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ تینوں دلہنیں اس کے پیر چھو کر آشیرواد لیتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شادی میں نہ دلہے کے خاندان کا کوئی فرد موجود تھا اور نہ ہی دلہنوں کے اہل خانہ شریک ہوئے۔
تینوں بہنوں کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہمیشہ ایک ساتھ رہی ہیں اور شادی کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے کا تصور بھی ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ان کے مطابق جب خاندان نے الگ الگ جگہ ان کی شادیاں طے کرنے کی بات کی تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ بڑی بہن سروج کے مطابق انہوں نے سوچا کہ الگ ہونے سے بہتر ہے ایک ہی شخص سے شادی کر لی جائے تاکہ ہمیشہ ایک ساتھ رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چاروں بالغ ہیں اور یہ فیصلہ مکمل رضامندی سے کیا گیا۔
دوسری جانب وکاس کا کہنا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ تینوں بہنیں ایک دوسرے سے غیر معمولی محبت کرتی ہیں اور کبھی الگ نہیں ہونا چاہتیں۔ اس کے مطابق بہنوں نے خود اسے شادی کی پیشکش کی، جسے اس نے ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے قبول کیا تاکہ تینوں ایک ہی گھر میں رہ سکیں۔
اس غیر معمولی شادی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بڑی بہن سروج بی ٹیک (B.Tech) کے دوسرے سال کی طالبہ ہے، جبکہ ساوتری اور سنتوش بارہویں جماعت پاس کر چکی ہیں۔ ان کے والد رمیش پیشے سے کسان ہیں۔ دوسری جانب وکاس نے اسی سال انٹرمیڈیٹ مکمل کیا ہے اور مستقبل میں ایل ایل بی (LLB) کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کے بعد وہ اپنی سسرال میں رہ رہا ہے۔
شادی کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید شروع ہوئی تو تینوں بہنوں نے ایک اور ویڈیو جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ یہ محبت اور باہمی رضامندی کا فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چاروں خوش ہیں تو دوسروں کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے فیصلے کے دفاع میں انہوں نے قدیم روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بادشاہ دشرتھ کی بھی تین رانیاں تھیں، اس لیے ان کے فیصلے کو مذہب کی توہین قرار دینا مناسب نہیں۔ تاہم اس بیان پر بھی مختلف حلقوں میں اختلافی آراء سامنے آئیں۔
چامونڈا ماتا مندر کے منیجر ڈاکٹر شیو چرن داس نے بتایا کہ جس وقت شادی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس دوران مندر میں تزئین و آرائش کا کام جاری تھا اور وہاں کوئی پنڈت موجود نہیں تھا، اس لیے مندر انتظامیہ نے شادی کی کوئی باقاعدہ مذہبی رسم ادا نہیں کرائی۔
ادھر مقامی ہندو تنظیموں اور بعض تاجر رہنماؤں نے اس شادی پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی مذہبی مقام پر اس نوعیت کی شادی سناتن دھرم اور سماجی روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم اب تک اس معاملے میں کسی تنظیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی۔
پولیس نے بھی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چاروں افراد سے پوچھ گچھ کی۔ حسن پور کوتوالی کے انچارج راجیش کمار تیواری کے مطابق تینوں بہنوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی، اس لیے فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ اگر آئندہ کوئی شکایت سامنے آتی ہے یا کسی قابلِ تعزیر جرم کے شواہد ملتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
🚨 Three Biological Sisters Tie Knot with Same Cameraman at Chamunda Mata Temple😁
In a shocking incident from Hasanpur in Amroha, three biological sisters have married their own cameraman. 💍
Local leaders and community members have strongly condemned the marriage, calling… pic.twitter.com/Gy8ggAA92I
— Perman (@Perman3310) July 23, 2026



