بین ریاستی خبریںسرورق

شرعی ادارہ کا حکم شادی ختم نہیں کر سکتا،چھتیس گڑھ ہائیکورٹ

نجی مذہبی ادارہ کسی شخص کی قانونی ازدواجی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

رائے پور، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) چھتیس گڑھ ہائیکورٹ نے ازدواجی تنازع سے متعلق ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کوئی نجی مذہبی ادارہ یا شرعی عدالت کسی شخص کی قانونی ازدواجی حیثیت طے نہیں کر سکتی۔ عدالت نے کہا کہ ایسے اداروں کے احکامات کی بنیاد پر کسی شادی کو قانونی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے ذریعے کسی فرد کے قانونی حقوق یا ذمہ داریوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ رائے پور کے ٹکرا پارہ علاقے کی رہنے والی نیروش عباسی سے متعلق ہے۔ ان کے پہلے شوہر کا 2015 میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 18 جولائی 2020 کو ان کی محمد عابد خان سے دوسری شادی ہوئی۔ شادی کے بعد بچوں کو نئے خاندانی ماحول میں شامل کرنے سمیت مختلف معاملات پر میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے۔

خاتون نے الزام لگایا کہ اختلافات بڑھنے کے بعد شوہر اور سسرال والوں نے انہیں ہراساں کیا۔ مسئلہ حل کرنے کے لیے ’ون اسٹاپ سکھی سینٹر‘ میں کاؤنسلنگ بھی کرائی گئی، تاہم معاملہ حل نہ ہونے پر خاتون نے 7 اکتوبر 2021 کو سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے شکایت کی۔

خاتون کی شکایت پر یکم نومبر 2021 کو رائے پور کے خواتین پولیس اسٹیشن میں شوہر اور سسرال والوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 498-اے اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ دوسری جانب شوہر نے دعویٰ کیا کہ اس نے طلاق حسن کے تحت تین مراحل میں طلاق دی تھی۔ اس کے لیے 31 اگست، 30 ستمبر اور 30 اکتوبر 2021 کو ڈیجیٹل ذرائع سے طلاق دیے جانے کی بات کہی گئی۔

اسی دوران رائے پور کے ادارۂ شریعہ اسلامی نے 18 جنوری 2022 کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے خاتون کو طلاق شدہ قرار دے دیا۔ خاتون نے اس حکم کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کسی نجی مذہبی ادارے کو ان کی قانونی ازدواجی حیثیت کے بارے میں فیصلہ دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

معاملے کی سماعت جسٹس امتیندر کشور پرساد کی بنچ نے کی۔ عدالت نے ادارۂ شریعہ اسلامی کورٹ کے حکم کو قانونی اختیار سے عاری قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے ’وشوا لوچن مدن بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ دارالقضاء یا فتویٰ جاری کرنے والے نجی مذہبی ادارے ریاست کے قائم کردہ قانونی عدالتیں نہیں ہیں۔

عدالت کے مطابق ایسے مذہبی ادارے مذہبی معاملات میں مشورہ یا رائے دے سکتے ہیں، لیکن ان کی رائے کسی فرد کے قانونی حقوق، ازدواجی حیثیت یا قانونی ذمہ داریوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ نکاح کے خاتمے یا ازدواجی حقوق سے متعلق قانونی فیصلہ صرف مجاز عدالت اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔

ہائیکورٹ نے خاتون کی عرضی کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ادارۂ شریعہ کی جانب سے جاری کیا گیا طلاق سے متعلق حکم منسوخ کر دیا۔ تاہم عدالت نے طلاق حسن کی آئینی حیثیت یا قانونی صحت پر کوئی حتمی رائے نہیں دی اور اس معاملے کو اس فیصلے کا حصہ نہیں بنایا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button