بین ریاستی خبریں

بنگلورو میں ایمیزون، سوئگی انسٹامارٹ پر چھاپے، 1.43 کروڑ کی ایکسپائری اشیا برآمد

ایکسپائری اور غلط لیبلنگ والی اشیا برآمد، بغیر لائسنس رکھی گئی 4.02 لاکھ روپے کی ادویات بھی ضبط؛ سوئگی کے ڈارک اسٹور کو کیا گیا بند

بنگلورو، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں فوڈ سیفٹی حکام نے خصوصی کارروائی کے تحت ایمیزون اور سوئگی انسٹامارٹ سے جڑے فوڈ اسٹوریج و سپلائی مراکز سمیت کئی مقامات کا معائنہ کیا۔ اس دوران بڑی مقدار میں ایکسپائری اور غلط یا نامکمل لیبلنگ والی غذائی مصنوعات برآمد ہوئیں۔

محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کے مطابق کارروائی کے دوران 1.38 کروڑ روپے مالیت کی فوڈ مصنوعات ضبط کی گئیں۔ اس کے علاوہ ضروری لائسنس کے بغیر ذخیرہ کی گئی 4.02 لاکھ روپے مالیت کی ادویات بھی قبضے میں لی گئیں۔ اس طرح ضبط کیے گئے سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 1.43 کروڑ روپے رہی۔

محکمہ کی جانب سے 8 ستمبر کو جاری پریس ریلیز کے مطابق حکام نے فوڈ مصنوعات کے لیبل، تیاری کی تاریخ، ایکسپائری تاریخ، شیلف لائف اور دیگر حفاظتی تقاضوں کی جانچ کی۔ ادویات کے اسٹوریج کے لیے ضروری لائسنس بھی چیک کیے گئے۔

یہ کارروائی کرناٹک کے وزیر صحت و خاندانی بہبود یو ٹی قادر کی رہنمائی میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت کی گئی۔ محکمہ کے مطابق کارروائی کا آغاز بنگلورو میں منعقدہ ایک پیپٹائڈ پارٹی سے متعلق جمع کرائی گئی دستاویزات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

دیونہلی کے ایک فوڈ اسٹوریج مرکز میں حکام نے 14 لاکھ روپے مالیت کی غلط یا نامکمل لیبلنگ والی غذائی مصنوعات ضبط کیں، جبکہ 10 لاکھ روپے مالیت کی ایکسپائری فوڈ مصنوعات بھی برآمد ہوئیں۔ یہاں بغیر لائسنس کے رکھی گئی 2.45 لاکھ روپے مالیت کی ادویات بھی ضبط کی گئیں۔

انیکال تعلقہ کے ایک اور اسٹوریج مرکز میں 19 لاکھ روپے مالیت کی غلط لیبلنگ والی غذائی مصنوعات اور 13 لاکھ روپے مالیت کی ایکسپائری فوڈ مصنوعات ملیں۔ حکام نے یہاں سے بھی بغیر مطلوبہ لائسنس کے رکھی گئی 1.57 لاکھ روپے مالیت کی ادویات قبضے میں لیں۔

HBR لے آؤٹ میں ایکسپائری فوڈ کی دوبارہ فروخت کی شکایت

حکام نے HBR لے آؤٹ میں ایک فوڈ بزنس کا معائنہ بھی کیا۔ یہاں شکایت کی گئی تھی کہ آن لائن ڈلیوری پلیٹ فارمز کے ذریعے خریدی گئی گروسری، دودھ، سبزیاں، دہی اور دیگر اشیا کو مبینہ طور پر ایکسپائری کے بعد دوبارہ فروخت کیا جا رہا ہے۔

جانچ کے دوران ایکسپائری کاجو بسکٹ، راگی آٹا، چکن پیٹیز، پنیر، کوکیز، خشک میوے، انڈے اور آٹا سمیت مختلف غذائی مصنوعات برآمد ہوئیں۔ عوامی صحت کے مفاد میں تقریباً 10 ہزار روپے مالیت کی اشیا ضبط کی گئیں۔

لنگراج پورم میں ایک اور ادارے کی جانچ کے دوران ایکسپائری اور ایکسپائری کے قریب پہنچ چکی مصنوعات پائی گئیں۔ ان میں غذائی مصنوعات، مشروبات، چاکلیٹ، مٹھائیاں، گھی، خشک میوے اور بیج سمیت دیگر اشیا شامل تھیں۔

بنگلورو رورل ضلع کے ہوسکوٹے میں واقع ایک ڈارک اسٹور کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں حکام نے تقریباً 42 لاکھ روپے مالیت کی ایکسپائری فوڈ مصنوعات ضبط کیں۔

معائنے کے دوران مرکز میں صفائی کے ناقص انتظامات اور فوڈ سیفٹی قوانین و متعلقہ ضوابط کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جس کے بعد حکام نے مرکز کو بند کر دیا۔

محکمہ کے مطابق ہوسکوٹے کے مرکز میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی جانچ میں تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی ایکسپائری اور غلط لیبلنگ والی مصنوعات موجود ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد صورت حال مزید واضح ہوگی۔

محکمہ کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 33 لاکھ روپے مالیت کی فوڈ مصنوعات غلط یا نامکمل لیبلنگ کے باعث ضبط کی گئیں، جبکہ 1.05 کروڑ روپے مالیت کی ایکسپائری اور ایکسپائری کے قریب پہنچ چکی فوڈ مصنوعات قبضے میں لی گئیں۔

اس طرح ضبط کی گئی فوڈ مصنوعات کی کل مالیت 1.38 کروڑ روپے رہی۔ اس کے علاوہ بغیر ضروری لائسنس کے ذخیرہ کی گئی 4.02 لاکھ روپے مالیت کی ادویات بھی ضبط کی گئیں، جس سے مجموعی ضبطی کی مالیت تقریباً 1.43 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

فوڈ سیفٹی محکمہ نے کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق آن لائن ڈلیوری اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین تک پہنچنے والی غذائی مصنوعات کے معیار سے متعلق شکایات کے پیش نظر یہ خصوصی کارروائی کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button